- الإعلانات -

چیمپئنز ٹرافی کی فتح پی ایس ایل کی مرہون منت ہے، برطانوی اخبار

برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ نے چیمپئنز ٹراف میں پاکستان کی جیت کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہےکہ پاکستان ٹیم چیمئنز ٹرافی میں کم ترین رینکنگ کی ٹیم کے طورپر شریک ہوئی۔

اخبار کے مطابق کھلاڑیوں پر کزور فٹنس اور کرپشن اسکینڈلز کے داغ لگے تھے اور اس پر پہلے ہی میچ میں بھارت کے ہاتھوں 124رنز سے شکست نے ٹیم پر غموں کے پہاڑ ڈھادیئے ۔

اخبار لکھتا ہے کہ اسی پاکستانی ٹیم نے ٹورنامنٹ اپنی جیت پر ختم کیا جس میں انگلینڈ، سری لنکا، جنوبی افریقہ اور بھارت کو شکست دینے جیسے کارنامے شامل ہیں۔

برطانوی اخبار کے مطابق پاکستان کی جیت میں جہاں اس کے ناقابل پیش گوئی ہونے کی بات کی جاتی ہے، وہیں اس جیت میں پاکستان سوپر لیگ کا بھی ہاتھ ہے، جو دو سال سے کھیلا جارہا ہے۔

برطانوی اخبارنے فائنل میں فتح گر پرفارمنس دینے والے کھلاڑیوں کاتجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہےکہ ان کی کارکردگی میں پی ایس ایل کی بدولت ہی نکھار آیا۔

اخبار نے لکھا ہے کہ بھارت کے خلاف سنچری بنانے والے فخر زمان پی ایس ایل ہی کی دریافت ہیں جہاں وہ اپنی بے دھڑک بیٹنگ اور اسٹروکس کی بدولت سب کی نظروں میں آگئے جبکہ ان کی ٹیم پی ایس ایل کے ناک آؤٹ مرحلے تک بھی نہیں پہنچ سکی تھی۔

برطانوی اخبار نے شاداب خان کو پاکستانی رکی پونٹنگ قرار دیا جنہوں نے ویرات کوہلی کا مشکل کیچ پکڑ کر انہیں پویلین چلتا کیا، پھر اپنی بولنگ سے بھارتی مڈل آرڈر کو اکھاڑ کر انہیں فائٹ بیک سے باز رکھا۔

برطانوی اخبار کے مطابق چیمپئنز ٹرافی کے پلیئر آف دی ٹورنامنٹ قرار دیے جانے والے حسن علی بھی پی ایس ایل ہی کی دریافت ہیں، دوسرے ایڈیشن میں صرف بولرز ان سے زیادہ وکٹیں حاصل کرپائے تھے، حسن علی کی پرفارمنس نے سلیکٹرز کے لیے انہیں نظر انداز کرنا ناممکن بنادیا تھا اور اب کھلاڑیوں کو سمجھ آگیا ہے کہ اگر وہ پی ایس ایل میں پرفارم کریں گے تو قومی ٹیم کے دروازے کھل جائیں گے۔

اسی طرح چیمپئنز ٹرافی کی وننگ ٹیم میں شامل رومان رئیس بھی پی ایس ایل کے پہلے ایڈیشن میں ایمرجنگ پلیئر کے طور پر ابھرے ،دوسرے ایڈیشن میں بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور چیمپئنز ٹرافی کے سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف دو اہم وکٹیں حاصل کیں۔