- الإعلانات -

’کراچی میں بھی کرکٹ کروانا چاہتے ہیں‘

چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ ہم کراچی میں بھی کرکٹ کروانا چاہتے ہیں اور اس حوالے سے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی سی بی کے سربراہ نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ ہم نے لاہور میں کرکٹ کو بحال کرکے دکھایا اور اب کراچی میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) اور بین الاقوامی میچز منعقد کیے جائیں گے جس کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے مثبت بات چیت ہوئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بھی کراچی میں کرکٹ کی بحالی کی خواہش کا اظہار کیا اور بورڈ کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی بھی کرائی۔

پی سی بی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سب جانتے ہیں کہ کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم کی حالت اس وقت بین الاقوامی کرکٹ کے معیار کے مطابق نہیں تاہم یہاں میچز منعقد کرانے کے لیے 3 سے 4 مہینے لگ سکتے ہیں۔

نجم سیٹھی کا مزید کہنا تھا کہ کراچی میں میچز کرانے کے لیے شہر کی سیکیورٹی کو بہتر بنایا جائے گا جس کے سلسلے میں پی سی بی سیکیورٹی چیف، آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز سے ملاقاتیں کی جائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ آئی سی سی کا سیکیورٹی وفد کراچی کا دورہ کرے گا جس کی رپورٹ کی بنیاد پر ہی بین الاقوامی کھلاڑیوں کی ایسوسی ایشنز کھلاڑیوں کو پاکستان جانے کی اجازت دیں گی۔

ہندوستان کے ساتھ کرکٹ کی بحالی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ بھارت کو پاکستان کے ساتھ ایک روزہ میچز کے ٹورنامنٹس اور ٹیسٹ کرکٹ لیگ کے دوران میچز کھیلنا پڑیں گے، اگر بھارت میچز نہیں کھیلے گا تو لیگ کے دوران اسے نقصان ہوگا اور اس کے پوائنٹس کٹ جائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سری لنکا کے بعد ویسٹ انڈیز کی ٹیم بھی پاکستان آکر ضرور کھیلے گی جبکہ وہ ابھی بھی پاکستان آنے کے لیے تیار ہیں۔

ٹیسٹ کرکٹر فواد عالم کو ٹیم سے ڈراپ کیے جانے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ فواد کو منتخب کرنا اور ان کو ٹیم سے ڈراپ کرنا سلیکشن کمیٹی کی ذمہ داری ہے، وہ معاملات میں مداخلت نہیں کرتے اور نہ ہی کمیٹی کے سربراہ انضمام الحق سے کوئی سوال کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں انضمام سے پوچھ ضرور سکتا ہوں کہ فواد کو منتخب کیوں نہیں کرتے لیکن ان پر دباؤ نہیں ڈال سکتا البتہ اگر میڈیا کو لگتا ہے فواد کو منتخب کرنا چاہیے تو میڈیا انضمام پر دباؤ ضرور ڈال سکتا ہے۔