- الإعلانات -

’فکسنگ کی پیشکش‘ ٹھکرانا نوجوانوں کیلئے مثال ہے، آرتھر

قومی ٹیم کے کوچ مکی آرتھر نے بکی کی جانب سے فکسنگ کی پیشکش کو ٹھکراتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس بارے میں رپورٹ کرنے پر سرفراز احمد کو سراہتے ہوئے انہیں نوجوانوں کیلئے مثال قرار دیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہفتے کو تصدیق کی تھی کہ سری لنکا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں جاری سیریز کے دوران فکسنگ کی آفر کے ساتھ کھلاڑی تک اپروچ کیا گیا لیکن مذکورہ کھلاڑی نے بغیر کسی تاخیر کے بورڈ کے اینٹی کرپشن یونٹ کو اس بارے میں آگاہ کردیا۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق مذکورہ کھلاڑی کوئی اور نہیں بلکہ پاکستانی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد ہیں۔

شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مکی آرتھر نے سرفراز احمد کا نام لیے بغیر کہا کہ مذکورہ کھلاڑی نے غیریقینی حد تک بہترین طریقے سے اس معاملے کو حل کیا، جو کچھ بھی ان سے درکار تھا انہوں نے وہ کیا اور ہماری اس کے بعد گفتگو بھی ہوئی۔

ہیڈ کوچ نے مذکورہ کھلاڑی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے معاملے کو بہترین طریقے سے ہینڈل کیا اور میرے خیال میں یہ ہماری ٹیم اور پوری دنیائے کرکٹ کیلئے ایک مثال ہے کہ ہمارے ایک انتہائی اہم کھلاڑی تک پہنچ کر فکسنگ کی پیشکش کی اور اس نے قانون کے مطابق عمل کرتے ہوئے کھیل کا بہترین سفیر ہونے کا ثبوت دیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ اس معاملے سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔

مکی آرتھر نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اگر اس طرح کی صورتحال درپیش ہوئی تو ان کی ٹیم کے کھلاڑی اسی رویے کا مظاہرہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ بہت مطمئن ہوں، یہ ایک بہترین اور ذہین نوجوان کا مجموعہ ہے اور مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر ان میں سے کسی کھلاڑی تک اپرون کر کے فکسنگ کی پیشکش کی گئی وہ بھی وہی طریقہ کار اپنائے گا جو اس فرد واحد نے کیا۔

آئی سی سی کے اینٹی کرپشن قوانین کے تحت کھلاڑی کو فوری طور پر فکسنگ کی پیشکش کے بارے میں رپورٹ کرنا ہوتا اور ایسا کرنے میں ناکام پر چھ ماہ سے تاحیات پابندی تک کی سزا بھگتنی پڑ سکتی ہے۔

اسپاٹ فکسرز کی جانب سے پاکساتن کرکٹ پر کاری ضرب لگانے کا سلسلہ تسلسل سے جاری ہے جس کا آغاز رواں پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن میں ہوا تھا جب اسلام آباد یونائیٹڈ کے شرجیل خان اور خالد لطیف سمیت متعدد کھلاڑیوں کو فکسنگ کی پیشکش کی گئی۔

دونوں مذکورہ کھلاڑیوں کو بورڈ کی جانب سے سخت سزا دی گئی جبکہ فاسٹ باؤلر محمد عرفان کو بھی رپورٹ نہ کرنے پر سزا سنائی گئی تھی۔