- الإعلانات -

اپنے بڑے بھائی کی ‘اجازت’ سے انھیں شکست دی تھی، اعظم خان

کراچی: پاکستان اسکواش کے عظیم کھلاڑی اعظم خان نے پہلی دفعہ اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے 1960 میں اپنے بڑے بھائی کی ‘اجازت’ سے انھیں شکست دی تھی۔برطانیہ کے اسکواش جرنلسٹ روڈ گلمور کی نئی کتاب ‘ٹریڈنگ سیکرٹس’ میں انہیں مشکل ترین عظیم اسکواش جوڑی کے نام سے یاد کیا گیا ہے.کئی دہائیوں بعد اعظم نے اعتراف کیا ہے کہ وہ کھیل میں بھی اپنی خاندانی روایات کو ترجیح دیتے تھے۔یہ عام طورپر سمجھا جاتاتھا کہ اعظم خان نے اپنے بڑے بھائی ہاشم خان سے اجازت لے کر انہیں شکست دی تھی۔2013میں انتقال کرنے والے بڑے بھائی ہاشم خان نے اعظم خان کو 1950 کی دہائی میں برٹش اوپن کے فائنل میں تین دفعہ شکست دی.کتاب کے مطابق اعظم خان نے ہاشم خان کے خلاف اپنی پہلی فتح کی وضاحت بھی کی ہے.ان کا کہنا تھا کہ "میں پہلی دفعہ ہاشم کے خلاف 1960 کے برٹش اوپن میں جیتا۔ جہانگیر خان کے والد روشن خان نے کئی جونیئر کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل کر اسکواش ریکٹ ایسوسی ایشن پر ایک احسان کیا جس کے بدلے میں انھوں نے قاعدہ بدلا کہ ورلڈ نمبر1 اور نمبر 2 ڈرا میں ایک گروپ میں ہوں گے”۔میں ہاشم کے ساتھ سیمی فائنل کھیلتا اور وہ بڑے بھائی تھے، میں ان کی عزت کرتا تھا اور اسی لیے میں نے کبھی انھیں نہیں ہرایا، میں انھیں ہرانا نہیں چاہتا تھا، کورٹ جانے سے پہلے میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کی ٹانگ ٹھیک ہے یا نہیں، انھوں نے کہا کہ ٹھیک ہے پھر میں نے کہا کہ فائنل میں روشن کے ہاتھوں شکست سے بہتر ہے میں جیتوں، وہ اپنی اجازت سے میری جیت کے لیے متفق ہوئے”۔اس سے قبل کئی انٹرویوز میں اعظم نے کبھی ‘اجازت لے کر جیتنے’ کی افواہوں نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی تردید. انھوں نے چار سال قبل اسکواش پلیئر میگزین کو بتایا تھا کہ "ہمارے پشتون کلچر میں بڑے بھائی کی عزت کرنا بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے، لفظ بھائی صاحب کا مطلب میرے لیے سب کچھ ہے وہ میرے کوچ اور سرپرست تھے۔’