- الإعلانات -

پاکستان سپرلیگ کے لئے بڑی رکاوٹ کھڑی ہوگئی

لاہور: پاکستان سپر لیگ ( پی ایس ایل) کے چیئرمین نجم سیٹھی کا متحدہ عرب امارات میں ہونے والی ماسٹرز سپر لیگ (ایم سی ایل) کی نئی تاریخوں اور مقامات سے ناخوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس نئی صورت حال کو ایک چیلنج کے طورپر لے رہے ہیں اور کامیابی کا پورا یقین ہے۔نجم سیٹھی نے کہا کہ”ایم سی ایل کا شیڈول تبدیل کیا گیا ہے جس کے مطابق اب مقابلے 28 جنوری سے 13 فروری تک وہیں ہوں گے جہاں پی ایس ایل کے میچز ہونا ہیں اور وہ وقت ہمارے لیے چیلنج ہے اور بلاشبہ ہم ان تبدیلیوں پر خوش نہیں ہیں”۔سیٹھی نے کہا کہ “ہم نے ایم سی ایل سے معاہدے پر دستخط کیا ہے جس کے مطابق انھیں 24 جنوری سے 4 فروری تک کھیلنا تھا لیکن اب انھوں نے تاریخ تبدیل کردی ہے، نہ صرف یہ بلکہ ایم سی ایل جو دبئی اور ابوظہبی میں کھیلی جانی تھی اب دبئی اورشارجہ میں تبدیل کردی گئی ہے جہاں پی ایس ایل کے میچز طے شدہ ہیں”۔”ہم نے متحدہ عرب امارات کے کرکٹ حکام سے بات کی جس پر انھوں نے کہا کہ ٌایم سی ایل نے انھیں زیادہ پیسوں کی پیش کش کی ہے اور پی ایس ایل کے شارجہ میں ہونے والے میچز کو ایم سی ایل کی وجہ سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا”۔پی ایس ایل کو ناکام دیکھنے والوں کے حوالے سے ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ” چیزیں منصوبے کے مطابق آگے نہیں بڑھتیں لیکن ہم مقابلے کے لیے تیار ہیں، ہم منزل تک پہنچنے کے لیے صحیح راستے پر ہیں اور اس کے لیے اچھی تیاری کی ہے”۔سیٹھی نے پی ایس ایل کے آغازکے لیے آنے والی مختلف آرا کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ “شروع میں پی سی بی کے اندر بھی یہ مشورہ مقبول تھا کہ پی ایس ایل کو شروع نہیں کیا جائے یہاں تک کچھ لوگ چاہتے تھے کہ لیگ بیرونی ذرائع کو دی جائے، جس کے بعد ہم نے پروفیسنل کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کی کہ کیسے پی ایس ایل کو کامیابی سے ہمکنار کرسکیں”۔”انھوں نے تجویز کیا کہ پی سی بی لیگ کو بہترین انداز میں منعقد کرسکتاہے اور ہمیں دبئی میں سیکرٹریٹ بنانے کا مشورہ دیا جو مہنگا ہونے کے باعث ہمارے لیے قابل عمل نہیں تھا”۔
نجم سیٹھی نے کہا کہ ” جو فرنچائز بے تحاشا خرچے کررہی ہیں وہ ابتدا میں نقصان کا شکار ہوسکتی ہے، یہ طویل مدتی معاہدہ ہے اور دیگر کاروبار کی طرح اس میں بھی ابتدائی تین سالوں میں خسارے کا سامنا ہوسکتا ہے لیکن اس کے بعد انھیں بہترین منافع ہوسکتاہے”۔پی ایس ایل میں میچ فکسنگ کو قابو کرنے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ “آئی سی سی کے ساتھ کام کرنے والی ایجنسی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جو لیگ میں فکسنگ کے حوالے سے کھلاڑیوں سمیت ہر پہلو کو قابو کرنے کی ذمہ دار ہوگی، جبکہ ہر گیند اور ہر شارٹ کو جانچے گی کہ کہیں کچھ غلط تو نہیں ہورہاہے”۔
ان کا کہنا تھا کہ” ہم کسی بھی ناپسندیدہ ذرائع سے کسی ناخوشگوار واقعے کے متحمل نہیں ہوسکتے کیونکہ پی ایس ایل کا مستقبل داؤ پر ہوگا”۔ٹیموں کے اسپانسر ناموں کے حوالے سے نجم سیٹھی نے کہا کہ”ہم نے تمام ٹیموں کو خط لکھا ہے کہ قواعد کی پیروی کریں لیکن بدقسمتی سے کچھ ٹیمیں تشہیر کے لیے نجی چینل کے ساتھ جڑی ہیں اور اپنے اصلی نام کے ساتھ ٹی وی چینل کا نام استعمال کررہی ہیں جو مکمل طورپر قواعد کے خلاف ہے، امید ہے کہ وہ اصول کو نہیں توڑیں گے”۔پی ایس ایل کے چیئرمین نے اعتراف کیا کہ یہ پی سی بی کے لیے پہلا تجربہ تھا اور ان کی ٹیم بڑے ایونٹ کا انتظام کر رہی تھی اس لیے کچھ غلطیاں بھی سرذد ہوئی ہیں تاہم پی ایس ایل کے دوسرے سیزن میں بہترین انتظامات کے لیے وہ پرعزم ہیں۔وسیم اکرم اور رمیز راجا کے سفیر ہوتے ہوئے دنیا کے مشہور کھلاڑیوں کی جانب سے پی ایس ایل سے دوری کے سوال پر اپنے خیالات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ نہیں ہے، دونوں نے اچھا کام کیا ہے اور جب بھی ان سے کوئی مشورہ مانگا گیا تو انھوں نے مدد کی۔پی ایس ایل کے حتمی بجٹ کے حوالے سے سیٹھی کا کہنا تھا کہ” میں اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ ماہرین کی طرح پی ایس ایل کے بجٹ کی تفصیلا ت بتاؤں لیکن جب ایونٹ کا پہلا سیزن ختم ہوگا تو ہرچیز میڈیا کے سامنے لائی جائے گی”۔ان کا کہنا تھا کہ “جب بیان کیا جاتا ہے تو اس پر انگلیاں اٹھنے لگتی ہیں یہ مثبت بھی ہوسکتی ہیںاور منفی دونوں لیکن ہم اس طرح کے تنازعات سے بچنا چاہتے ہیں”۔انھوں نے کہا کہ” اگر پی سی بی کچھ منافع کما لے اور فرنچائز نقصان میں جائے تو میں اسے اچھی نظر سے نہیں دیکھتا، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہوئے ایک ساتھ آگے بڑھیں یہاں تک کہ میں فرنچائز کو نصیحت کررہا ہوں کہ وہ غیر ضروری اخراجات نہ کریں”۔سری لنکن کھلاڑیوں کے حوالے سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کے ڈرافٹنگ کی تقریب میں سری لنکن کھلاڑیوں کی عدم شمولیت پر کسی نے کوئی سوال نہیں اٹھا یا کیونکہ ہر کوئی جانتا تھا کہ وہ 14 فروری کے بعد پی ایس ایل کے لیے دستیاب ہوں گے۔