- الإعلانات -

میں ابھی بھی پاکستان ٹیم میں واپسی کا مستحق ہوں”یاسر حمید "

یاسر حمید نے 2003 میں بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ میں ڈیبو کیا اور اپنے پہلے میچ کی دونوں اننگز میں سنچریاں بنا ئیں جبکہ 2007 میں اپنا آخری ایک روزہ میچ کھیلے لیکن قومی ٹیم میں طویل عرصے بعد واپسی کے لیے امیدیں ابھی بھی ختم نہیں کیں۔

37 سالہ یاسر حمید کے سابق کھلاڑیوں کے لیے منعقد کی جانے والی ماسٹرز چمپیئنز لیگ کے ساتھ معاہدے سے قومی ٹیم میں واپسی ناممکن دکھائی دے رہی ہے۔

ڈان کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ون ڈے میچ میں پاکستانی اوپنرز کپتان اظہرعلی اوراحمد شہزاد کے برے طرح ناکام ہونے کی جانب توجہ دلاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ” میں نے 56 ایک روزہ میچوں میں 2 ہزار رنز بنائے ہیں، اگر مجھے پاکستان کی جانب سے سو میچز کھیلنے کا موقع دیا جاتا تو ممکن تھا کہ میں 4ہزار رنز یا 2سو میچوں میں 8 ہزار بنا لیتا۔

انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ”میں ایک روزہ کرکٹ میں اچھا تھا کیونکہ میں ہمیشہ اس سے لطف اندوز ہوا، میراخیال ہے کہ میں ابھی بھی پاکستان ٹیم میں واپسی کا مستحق ہوں”۔

یاسرحمید نے 2003 میں بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ میں یادگار کارکردگی دکھانے کے بعد ایک روزہ کرکٹ میں بھی ڈیبو کیا، ستمبر سے دسمبر 2003 کے عرصے میں انھوں نے 116، 15،40،82،56،16،72،30،28،52،53،63،61 اور127 کی اننگز کھیلیں جن میں 4 بنگلہ دیش، 5 جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کے خلاف 5 میچ شامل ہیں۔

14 میچوں میں 811 رنز ایک روزہ کرکٹ میں ان کی بہترین کارکردگی کو ظاہر کررہے ہیں اور یہ بین الاقوامی کرکٹ میں ان کا پہلا بہترین سیزن ہے۔

ٹیم کے انتخاب میں عدم تسلسل اور کئی غیر ذمہ دارانہ شارٹ کے باعث وہ قومی ٹیم میں نظرانداز ہوتے رہے.

گزشتہ دہائی میں پاکستان کرکٹ میں بڑی عمر کے کھلاڑیوں کی آمد کا سلسلہ بڑھا ہے اور 39 سالہ بلے باز رفعت اللہ کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ڈیبو اس کی تازہ مثال ہے لیکن شاید یاسر حمید کے لیے37 سال کی عمر میں واپسی کرنا مشکل ثابت ہو۔

پاکستان کرکٹ بورڑ(پی سی بی) نے ایم سی ایل سے معاہدہ کرنے والے تمام کھلاڑیوں کو پابند کیا تھا کہ وہ پہلے بین الاقوامی اور ڈومیسٹک دونوں کرکٹ سے کنارہ کشی کا اعلان کریں۔

یاسر حمید کا کہنا تھا کہ” بورڈ نے ہمیں ڈومیسٹک سے بھی کنارہ کش ہونے کا کہا تھا لیکن ایم سی ایل کے کھلاڑیوں کی جانب سے شدید احتجاج کے بعد پی سی بی نے اپنا فیصلہ بدل دیا”۔

اسی لیے وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں کھیل کر واپسی کے لیے پر امید ہیں۔

یاسر کا کہنا تھا کہ "صرف وقت بتائے گا کہ یہ ممکن ہے یا نہیں”۔