- الإعلانات -

شاندار اور رنگارنگ تقریب کے ساتھ ایشین گیمز2018 کا اختتام

16دن تک جاری رہنے والے 40کھیلوں کے سنسنی خیز مقابلوں کے ساتھ انڈونیشیا میں جاری ایشین گیمز 2018 تاریخی کامیابی کے بعد شاندار تقریب کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچے۔

دارالحکومت جکارتا اور پالم بینگ میں منعقدہ گیمز کی شاندار انداز میں میزبانی کر کے انڈونیشیا نے تمام تر ناقدین کے منہ بند کرتے ہوئے ایونٹ کا بہترین انداز میں انعقاد کر کے توقعات کے برخلاف بہترین میزبان ہونے کا ثبوت دیا۔

2011میں منعقدہ ساؤتھ ایسٹ ایشین گیمز کی میزبانی کے دوران انڈونیشیا میں شدید بدنظمی دیکھی گئی تھی اور ان گیمز کے دوران کرپشن الزامات نے انڈونیشیا کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا تھا۔

2022 ایشین گیمز کی میزبانی کرنے والے چین کے نمائندے ایشین گیمز کی مشعل تھامے ہوئے ہیں— فوٹو: اے ایف پی
2022 ایشین گیمز کی میزبانی کرنے والے چین کے نمائندے ایشین گیمز کی مشعل تھامے ہوئے ہیں— فوٹو: اے ایف پی

تاہم فضائی آلودگی، شدید ٹریفک اور ایونٹ کے انعقاد سے چند دن قبل مجرموں کے خلاف کیے گئے کریک ڈاؤن کے باوجود انڈونیشیا نے ایونٹ کا بہترین انداز میں انعقاد کرایا اور ایشین گیمز کے کسی بھی مقابلے کے دوران کوئی بھی بدنظمی دیکھنے کو نہیں ملی۔

اولمپکس کے بعد سب سے بڑے گیمز تصور کیے جانے والے ایشین گیمز میں 17ہزار ایتھلیٹس نے شرکت کی اور 16دن تک ایونٹ میں دلچسپ اور کانٹے دار مقابلے منعقد ہوئے۔

اتوار کو گیمز کے آخری دن جاپان نے مکسڈ ٹیم ٹرائیتھلون کے مقابلوں میں ایونٹ کا آخری اور مجموعی طور پر 465واں گولڈ میڈل جیت کر ان گیمز کو منطقی انجام تک پہنچایا اور اپنے گولڈ میڈلز کی تعداد 75تک پہنچا کر دوسری پوزیشن حاصل کی۔

اولمپک کونسل آف ایشیا کے صدر شیخ احمد الفہد الصباح نے اتوار کو دارالحکومت جکارتا کے بیچوں بیچ واقع تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرے گیلورا بنگ کارنو اسٹیڈیم میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں 18ویں ایشین گیمز کے اختتام کا اعلان کرتا ہوں۔

انہوں نے انڈونیشیا کے عوام، گیمز کے منتظمین اور ایشین گیمز میں شریک ملکوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے یہ بڑا کام کر دکھایا اور بتا دیا کہ ایشیا کے عوام میں کتنی طاقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جکارتا اس طرح کے کسی بھی عالمی معیار کے ایونٹ کی میزبانی کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

اس ایونٹ کے شاندار اور کامیاب انعقاد کے بعد انڈونیشیا کے صدر جوکو ول ڈوڈو نے 2032 اولمپکس کے لیے بولی لگانے کا اعلان کیا جہاں چند ہفتوں کے قبل اس بارے میں سوچنا بھی ناممکن نظر آتا تھا۔

جاپان کی ٹیم نے ایشین گیمز2018 کا آخری میڈل جیتنے کا اعزاز حاصل کیا—
جاپان کی ٹیم نے ایشین گیمز2018 کا آخری میڈل جیتنے کا اعزاز حاصل کیا—

انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے اسٹیڈیم میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ گیمز ایشیا کی طاقت کا منہ بولتا ثبوت ہیں اور ہم سب مل کر دنیا میں فرق ڈال سکتے ہیں۔

اولمپکس کے سربرا تھامس باک نے انڈونیشیا کی جانب سے 2032 اولمپکس کے لیے بولی لگائے جانے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے خبردار کیا کہ انہیں ایشین گیمز سے حاصل ہونے والی توانائی کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے اور ایسا نہ ہو کہ جب سب چلے جائیں تو آپ اندھیروں میں گھر جائیں۔

2022 میں ہونے والے اگلے ایشین گیمز کی میزبانی چین کرے گا اور اختتامی تقریب میں مشعل چین کے ایشین گیمز کے نمائندے کے سپرد کر دی گئی۔

گیمز کی اختتامی تقریب میں فنکاروں نے اپنے فن کا شاندار مظاہرہ کر کے شائقین کے دل موہ لیے جبکہ آخر میں آتش بازی کے دلفریب منظر نے آنکھوں کو خیرہ کردیا۔

گیمز میں میڈلز کی بات کی جائے تو فیورٹس چین نے لگاتار 10ویں ایشین گیمز میں اپنی برتری برقرار رکھی اور 132سونے، 92چاندی اور 65کانسی کے تمغوں کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی۔

1982 سے اب تک چین ایشین گیمز میں میڈلز کی فہرست میں سب سے آگے رہا ہے اور اس دوران کوئی بھی حریف ان کے قریب تک نہیں پہنچ سکا۔

اب چین کی کوشش ہو گی کہ وہ دو سال بعد ان کے بڑے حریف جاپان کی میزبانی میں منعقد ہونے والے اولمپکس گیمز میں بھی یکساں کارکردگی دہراتے ہوئے سبقت لے جائیں جہاں ایشین گیمز میں جاپان تمغوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر رہا۔

ایشین گیمز 2018 کی اختتامی تقریب میں شریک پاکستانی دستہ - فوٹو: اے پی
ایشین گیمز 2018 کی اختتامی تقریب میں شریک پاکستانی دستہ – فوٹو: اے پی

جاپان نے 75سونے، 56چاندی اور 74کانسی کے تمغوں کے ساتھ 205 میڈل جیتے جبکہ تیسرے نمبر پر رہنے والے جنوبی کوریا نے 49سونے کے تمغوں سمیت مجموعی طور پر 177میڈل جیتنے کا اعزاز حاصل کیا جبکہ میزبان انڈونیشیا نے بھی 31 سونے کے تمغے جیتے۔

ان گیمز کی خاص بات متحدہ کوریا کے دستے کی شرکت بھی رہی جس نے ایک سونے کا تمغہ جیت کر نئی تاریخ رقم کی۔

ایشین گیمز 2018 میں ماضی کے تمام گیمز کے مقابلوں میں بھارت کی ٹیم نے شاندار کھیل پیش کیا اور 15 سونے، 24چاندی اور 30کانسی کے تمغوں سمیت 69میڈلز جیت کر اسے بھارت کی تاریخ کا کامیاب ترین ایشین گیم بنا دیا۔

پاکستان کی کارکردگی ایک مرتبہ پھر واجبی رہی اور تمغہ جیتنے کے لیے فیورٹ ہاکی ٹیم کوئی میڈل نہ جیت سکی اور پاکستان کو محض 4کانسی کے تمغوں پر اکتفا کرنا پڑا۔

جاپان کی تیراک ریکاکو ایکی کو بہترین ایتھلیٹ قرار دیا گیا جنہوں نے 6 گولڈ میل جیتے اور کسی سنگل گیم میں 6گولڈ میڈل جیتنے والی ایشین گیمز کی تاریخ میں پہلی خاتون بن گئیں۔

جاپان کی تیراک ریکاکو ایکی جنہوں نے بہترین ایتھلیٹ کا اعزاز جیتا - فوٹو: اے ایف پی
جاپان کی تیراک ریکاکو ایکی جنہوں نے بہترین ایتھلیٹ کا اعزاز جیتا – فوٹو: اے ایف پی

جنوبی کوریا کی فوج سے چھٹی لے کر ایشین گیمز میں شرکت کرنے والے ہیونگ من نے کوریا کو سونے کا تمغہ جتوا کر ان گیمز کو یادگار بنا لیا۔

انڈونیشیا کے 12سالہ اسکیٹ بورڈر سونے کا تمغہ جیتنے والے سب سے کمسن ایتھلیٹ بنے جبکہ انڈونیشیا کے 78سالہ ارب پتی تاجر مائیکل بیم بینگ کارڈ گیم میں کامیابی حاصل کر کے میڈل جیتنے والے سب سے ادھیڑ عمر شخص قرار پائے۔