- الإعلانات -

نجم سیٹھی کا چیئرمین پی سی بی کو قانونی نوٹس

اخراجات سے متعلق تفصیلات شائع کرنے پر سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نجم سیٹھی نے موجودہ چیئرمین کو ہتک عزت کا قانونی نوٹس بھیج دیا۔

نجم سیٹھی کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا کہ پی سی بی نے بطور سرکاری عہدیدار ان کے اخراجات اور مراعات کو مسخ کرکے پیش کیا جبکہ ان کی ساکھ کو خراب کرنے کے لیے اس میں جان بوجھ کر تبدیلیاں کی گئیں۔

نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ انہوں نے پی سی بی سے الاؤنسز وصول نہیں کیے جبکہ موجودہ چیئرمین نے آتے ہی ایک پُر آسائش گھر کا مطالبہ کردیا۔

سابق چیئرمین نے پی سی بی کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) الاؤنس کی مد میں 14 کروڑ روپے سے زائد کی رقم وصول نہیں کی۔

اپنے الاؤنسز کی وصولی کے حوالے سے چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ انہیں بورڈ آف گورنرز کی منظوری کے بعد الاؤنسز ملتے تھے۔

علاوہ ازیں نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ پی سی بی نے الزامات لگانے کے باجود پی سی بی کے اکاؤنٹس فراہم نہیں کیے جنہیں 2 بیرونی آڈیٹرز سے آڈٹ کروایا گیا ہے۔

نجم سیٹھی نے 2017 میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کی سفارشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’کمیٹی نے تجویز دی تھی کہ پی ایس ایل کے کامیاب انعقاد پر مجھے مناسب الاؤنس دیا جائے۔

نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ ’اخراجات کی تفصیلات شائع کرکے انہیں بدنام کروانے کی یہ مہم شاید عمران خان کے کہنے پر چلائی جارہی ہے‘۔

انہوں نے چیئرمین پی سی بی احسان مانی سے مطالبہ کیا کہ وہ پی سی بی کی رپورٹ پر معافی مانگیں اور اسے واپس لیں ورنہ ان کے خلاف ڈفیمیشن آرڈیننس 2002 کے تحت قانونی چارہ جوئی کی جاسکتی ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل پی سی بی نے ادارے کے سابق چیئرمین نجم سیٹھی کے اخراجات کی تفصیلات جاری کی تھیں جن میں بتایا گیا تھا کہ نجم سیٹھی نے بطور چیئرمین اور ایگزیکٹو کمیٹی کے سربراہ کے طور پر 2014 سے 2018 تک 7 کروڑ روپے اپنے ذاتی استعمال کے لیے جبکہ ہوٹل کے کرایوں میں 27 لاکھ روپے خرچ کردیے۔