- الإعلانات -

آئی سی سی نے بگ تھری کے اختیارات محدود کرنے کی تجویز منظور کر لی

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) نے بگ تھری کے اختیارات محدود کرنے کی تجویز کو منظور کرتے ہوئے دو اہم کمیٹیوں میں آسٹریلیا، ہندوستان اور انگلینڈ کی مستقل رکنیت ختم کردی.

پانچ رکنی فنانس اینڈ کمرشل افیئر کمیٹی اور ایگزیکٹو کمیٹی میں ہندوستانی کرکٹ بورڈ(بی سی سی آئی)، کرکٹ آسٹریلیا اور انگلش بورڈ(ای سی بی) کی مستقل رکنیت تھی۔

اس ترمیم کا مقصد تمام مستقل اور ایسوسی ایٹ اراکین کی رکنیت تک شفاف طریقے سے رسائی یقینی بنانا ہے جہاں عہدے کیلئے قابلیت، تجربے اور مہارت کو بنیاد بنایا جائے گا۔

2014 میں آئی سی سی نے اپنی باڈی میں بڑے پیمانے پر متنازع تبدیلیاں کرتے ہوئے کرکٹ میں 80 فیصد آمدنی فراہم کرنے والے ہندوستان، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے بورڈز کو مکمل صوابدیدی اختیارات سونپ دے دیے تھے۔

اس تبدیلی کے ساتھ ہی آئی سی سی کے فیوچر ٹور پروگرام کا اختتام ہو گیا تھا اور تمام رکن ملکوں کو 2023 تک اس بات کا اختیار دیا گیا تھا کہ وہ دوطرفہ سیریز کا انعقاد باہمی مشاورت سے کریں اور اس سلسلے میں آئی سی سی کسی قسم کا کردار ادا نہیں کرے گی۔

اس کے بعد یہ ہندوستان آسٹریلیا اور انگلینڈ کی صوابدید پر تھا کہ وہ مالی فواد اور دیگر تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کس ملک سے سیریز کھیلنا چاہتے ہیں اور کس سے نہیں۔

اس کے بعد بھی فیوچر ٹور پروگرام پر عملدرآمد کے سلسلے میں مشاورت جاری رہی تاہم اس پر عملدرآمد یا دوبارہ لاگو کرنے کے حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی تشکیل نہ دی جا سکی۔

آئی سی سی بورڈ نے مفادات کے ٹکراؤ اور بہترین گورننس کے اصولوں پر کاربند ہونے کیلئے گورننگ باڈی کے چیئرمین کے عہدے کیلئے ایک آزاد پوزیشن بنانے پر بھی رضامندی ظاہر کی۔

اس بات پر رضامندی ظاہر کی گئی کہ جون 2016 سے چیئرمین کا انتخاب دو سال کیلئے بورڈ کرے گا اور یہ عمل خفیہ ووٹنگ کے ذریعے کیا جائے گا۔

آئی سی سی کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں چیئرمین ششانک منوہر نے کہا کہ ہمارا اجلاس بہت مفید رہا اور جو فیصلے کیے گئے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم صرف آئی سی سی کیلئے ہی نہیں بلکہ رکن بورڈز میں بھی مجموعی طور پر شفاف طریقے سے انتظامی امور بہتر بنانا چاہتے ہیں۔