- الإعلانات -

پی ایس ایل کی چھٹی ٹیم کیلیے رسہ کشی شروع

کراچی: پی ایس ایل کی چھٹی ٹیم کیلیے رسہ کشی شروع ہو گئی تاہم اب تک 16 امیدوار میدان میں آ چکے ہیں۔

پی سی بی نے گزشتہ دنوں واجبات کی عدم ادائیگی پر ملتان سلطانز کا معاہدہ ختم کر دیا تھا، ڈرافٹ میں پلیئرز کا انتخاب بورڈ کی نگرانی میں ہوا، گزشتہ دنوں نئی فرنچائز کیلیے ٹینڈر بھی جاری کر دیا ہے۔

اس حوالے سے نمائندہ ’’ایکسپریس‘‘ کے ساتھ خصوصی بات چیت میں چیئرمین بورڈ احسان مانی نے کہا کہ پی ایس ایل کی چھٹی ٹیم خریدنے میں اب تک16 پارٹیز نے دلچسپی دکھائی ہے، ہم اس ریسپانس سے بیحد خوش اور امید ہے کہ مناسب قیمت مل جائے گی۔ انھوں نے اس تاثر سے اتفاق نہیں کیا کہ فرنچائزز سے تنازعات کی وجہ سے پی ایس ایل کا مستقبل خدشات کی زد میں ہے ۔

احسان مانی نے کہا کہ لیگ کو کوئی خطرات لاحق نہیں ہیں، آئندہ سال 14 فروری سے پروگرام کے مطابق انعقاد ہوگا،انھوں نے کہا کہ امید ہے کہ تمام فرنچائزز جلد فیس جمع کرا دیں گی،اگر کسی نے ایسا نہیں کیا تو ہمارے پاس بینک گارنٹی تو موجود ہے جسے کیش کرا لیا جائے گا، اس سوال پر کہ ایک ٹیم نے گارنٹی جمع کرانے سے گریز کیا اس کا کیا ہوگا۔

چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ مذکورہ فرنچائز نے بورڈ کو ایک ملین ڈالر دے دیے تھے جبکہ باقی رقم کے بھی چیک جمع کرا دیے ہیں، اس لیے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، انھوں نے کہا کہ ہم فرنچائزز کے تحفظات سے بخوبی واقف اور کوشش ہے کہ جائز مطالبات حل کیے جائیں، البتہ اس وقت میں یہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں کہ کیا کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پی سی بی نے فرنچائزز کے مسائل پر حکومت کو اعتماد میں لے لیا،اسے امید ہے کہ انھیں15 سے 20 فیصد رقم کا ریلیف مل جائے گا، پنجاب حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ سیلز ٹیکس معاف کر دے جبکہ وفاقی حکومت سے جب تک ٹیموں کا خسارہ کم نہ ہو ود ہولڈنگ ٹیکس نہ لینے کی درخواست کر دی گئی، اگر ایسا ہو گیا تو فرنچائزز کے2 سے 3 ملین ڈالرز بچ جائیں گے۔

واضح رہے کہ 14 نومبر کو انوائس جاری ہونے کے باوجود پی ایس ایل فرنچائزز فیس کی ادائیگی سے گریزاں ہیں، ان کا مطالبہ ہے کہ بغیر ٹیکس کے رقم لی جائے مگر پی سی بی اسے تسلیم کرنے کوتیار نہیں، جاوید آفریدی اور سلمان اقبال پر مشتمل کمیٹی بورڈ حکام کے ساتھ مل کر اعلیٰ حکومتی شخصیات سے ملاقات کر کے ٹیکس کی معافی کیلیے درخواستیں کررہی ہے، اس وقت فرنچائزز کو26 فیصد ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے،16 فیصد سیلز ٹیکس پنجاب حکومت اور 10 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس وفاقی حکومت کو جاتا ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ براڈکاسٹنگ رائٹس کی فروخت میں مزید بڈرز کو شامل کرنے کیلیے مختلف آپشنز پر غور جاری ہے، ان میں سے ایک انٹرٹینمنٹ چینلز کو بھی بڈنگ کی عمل میں شامل ہونے کی اجازت دینا ہے،اس حوالے سے حکومت سے بھی بات ہوگئی تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں بورڈکی جانب سے ترمیمی اشتہار جاری کرتے ہوئے بڈز کی تاریخ آگے بڑھا کر7دسمبر کردی گئی تھی۔