- الإعلانات -

قومی ٹیم کو اچھے بچے کی نہیں اچھے بالر کی ضرورت ہے”شعیب اختر”

لاہور: قومی کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بالر شعیب اختر نے کہا ہے کہ کوئی معجزہ ہو جائے تو کچھ کہا نہیں جا سکتا البتہ زمینی حقائق کے مطابق قومی ورلڈ ٹی ٹونٹی میں کامیابی کے لئے زیادہ امیدیں نہ باندھے ، قومی ٹیم کو اچھے بچے کی نہیں اچھے بالر کی ضرورت ہے ،یہ سوچ کر سر میں درد شروع ہو جاتا ہے کہ ہمارے بالرز کو کیا بنادیا گیا ہے، وہاب ریاض اٹیکنگ بالر ہے لیکن اسکی اسپیڈ کم کرانے کے لئے محنت ہورہی ہے اوراس کو نئی گیند نہیں دی جارہی،اب ہمیں بالرز کو رنز روکنے کی تاکید کی بجائے وکٹیں لینے کا سوچنا ہوگا وگرنہ ہمارے خلاف ٹی ٹونٹی میں 200اور ون ڈے میں 400رنز بھی بن جائیں گے ،بد قسمتی ہے کہ ہمارے پاس اچھے بلے باز نہیں آئے یا پھر ہمارے پاس انہیں ڈھونڈنے اور بنانے کا کوئی انتظام ہے نہ ہی ہم ضرورت محسوس کرتے ہیں، گھوم پھر کر وہی لڑکے ہیں مجھے تو ان کا سلمانی ٹیلنٹ نظر نہیں آتا ناجانے سلیکٹرز کو کہاں سے نظر آجاتا ہے؟۔ایک انٹر ویو میں شعیب اختر نے کہا کہ اب کرکٹ پہلے والی نہیں رہی کہ ٹیمیں ہٹنگ کیلئے آخری دس اوورز کا سوچیں گی اب تو بیٹسمین کو جب موقع ملتا ہے وہ بالنگ لائن کو تباہ کرکے رکھ دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جدید انداز کی کرکٹ کی باتیں بہت سننے کو مل رہی ہیں لیکن مجھے تو پرانی والی کرکٹ بھی نظر نہیں آتی، کم از کم ون ڈے میں پچاس اوورز ہی ہماری ٹیم کھیل لے اب تو وہ بھی کبھی کبھی ہی ہوتا ہے ورنہ تو ہمارے بیٹسمین ناجانے کونسی کرکٹ کھیلتے ہیں اور دکھ کا یہ مقام ہے کے پاکستان کی بہترین بالرز اب ایک سو چالیس یا ایک سو پینتالیس سے اوپر کی رفتار سے آگے ہی نہیں جارہے۔مجھے تو لگتا ہے یہ جرم ہے اور اس کی مجرم ہماری ڈومیسٹک کرکٹ والے ہیں جو اتنی خراب وکٹیں بناتے ہیں کہ کوئی بالر اگر تیز ہوتا ہے بھی تو وہ اپنی رفتار کم کردیتا ہے کیونکہ ٹیمیں اسے ایک دو میچز کے بعد دوبارہ ٹیم میں جگہ نہیں دیتی ،ایسا نہیں ہے کہ ہمارے پاس اچھے بالرزنہیں ہیں لیکن انہیں جہاں جاکر اچھا بالر بننا چاہیے وہیں وہ جاکر مزید خراب ہورہے ہیں۔نیشنل اکیڈمی کی افادیت نظر نہیں آرہی ہے۔میں نے پی سی بی کے بڑوں سے جاکر ملاقات کی تھی اور مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی تھی کہ وہ پاکستان کرکٹ کے لئے اچھا کرنا چاہتے ہیں لیکن کیا کیاجائے کہ نچلی سطح پر بہت زیادہ گند جمع ہوگیا ہے۔بہت سے لوگ نہیں چاہتے کہ ان کے مفتے بند ہوجائیں، ایک سسٹم ابھی اپنا نتیجہ نہیں دیتا وہ نیا سسٹم بنادیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وقار یونس بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں وہ مزید تو کچھ بھی نہیں کرسکتے جس حال پر ٹیم کو وہ لے آئے ہیں اس سے برے حال میں تو ٹیم کو کوئی غیر ملکی بھی نہیں لاسکتا تھا مجھے تو بورڈ کی سمجھ نہیں آتی ایک تو ہمارے بالرز کی کارکردگی دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے اب تو یہ حال ہوگیا ہے کہ دس دس وکٹوں سے ٹیم ہار رہی ہے۔ تین تین سو کے ہدف کا دفاع مشکل ہوگیا ہے کوئی بالر ایسا نہیں بچا جس پر بھروسہ ہو کہ چلو یار اس کو دس اوورز میں تو مار نہیں پڑے گی اور یہ دو چار وکٹیں تو اڑا ہی دے گا۔