کھیل

پاکستان ٹیم کی موجودہ صورتحال زیادہ تسلی بخش نہیں، مصباح الحق

لاہور: سابق قومی کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم کی موجودہ صورتحال زیادہ تسلی بخش نہیں۔ 

سابق قومی کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف فتح کے حصول میں 2 اسپنرز کا کردار اہم ہوگا، عماد وسیم اور شاداب خان گرین شرٹس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، مصباح الحق کے مطابق ویسٹ انڈیز بیٹسمین اسپنرز کو زیادہ بہتر انداز میں نہیں کھیل پاتے جس کا فائدہ پاکستانی ٹیم کو اٹھانا چاہیے۔

مصباح الحق نے کہا کہ عماد وسیم کی ویسٹ انڈیز کے خلاف کامیابیوں کا گراف بہت زیادہ ہے جب کہ شاداب خان بھی بھرپور فارم میں ہیں، پاکستان کا ویسٹ انڈیز کے خلاف ماضی کا ریکارڈ بھی بہت اچھا ہے، ان دونوں چیزوں کا فائدہ پاکستان ٹیم کو اٹھانا چاہیے۔

سابق قومی کپتان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ٹیم کی موجودہ صورتحال زیادہ تسلی بخش نہیں ہے جب آپ جیت نہیں رہے ہوتے ہیں تو مورال بھی ڈاؤن ہوتا ہے، اس بات کا فائدہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم اٹھانے کی کوشش کری گی لیکن ورلڈ کپ کے اپنے ابتدائی میچز میں زیادہ اہم یہ ہے کہ کون سی ٹیم کس حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترتی ہے اور میچ کے دوران ملنے والے مواقعوں  سے کتنا فائدہ اٹھاتی ہے۔

ایشیا کرکٹ کپ 2020ء کی میزبانی پاکستان کو مل گئی

لاہور: اگلے سال ہونے والے ایشیا کرکٹ کپ کی میزبانی پاکستان کو مل گئی۔

سنگاپور میں ایشین کرکٹ کونسل کا اجلاس منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ آئندہ سال ستمبر میں ہونے والا ایشیا کپ پاکستان میں ہوگا اور ایشیاء کپ کا فارمیٹ ’ٹی 20‘ ہو گا، اگلے سال اکتوبر میں ٹی 20 کپ کی وجہ سے ایشیاء کپ ٹی 20 فارمیٹ میں کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ آئی سی سی ورلڈ کپ کے بعد ایشیا کپ کی تیاریوں کا آغاز کرے گا۔ اجلاس میں 2022ء کی ایشئین گیمز میں کرکٹ کی شمولیت کی منظوری بھی دے دی گئی ہے، ایشین گیمز 2018ء میں کرکٹ شامل نہیں تھی۔

دوسری جانب ایشین کرکٹ کونسل کی سائیڈ لائن پر پاکستان کرکٹ بورڈ اور سری لنکن کرکٹ حکام کی ملاقات ہوئی ہے جس میں پی سی بی نے پاکستان میں سری لنکن ٹیم کی میزبانی کی پیشکش کی ہے اور دعوت دی ہے کہ سری لنکن کرکٹ بورڈ  اپنا سیکیورٹی وفد پاکستان بھیجے جو حالات اور انتظامات کا جائزہ لے۔

اس حوالے سے پی سی بی حکام کا کہنا ہے کہ سری لنکن کرکٹ حکام سے بات چیت اچھی رہی، سری لنکا کو کراچی اور لاہور میں میچز کھیلنے کی پیشکش کی ہے، امید ہے کہ مثبت جواب ملے گا۔

ورلڈکپ کے بعد انضمام اور آرتھر کو ہٹانے کی خبریں بے بنیاد قرار

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے چیف سلیکٹر انضمام الحق اور کوچ مکی آرتھر کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دے دیا۔

پی سی بی کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ بورڈ ان تمام خبروں کی تردید کرتا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ ورلڈکپ کے بعد چیف سلیکٹر انضمام الحق اور ہیڈ کوچ مکی آرتھر کو فارغ کردیا جائے گا۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پی سی بی نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو پہلے ہی باور کروادیا تھا کہ چیف سلیکٹر، کوچ اور معاون اسٹاف کے مستقبل کا فیصلہ آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ 2019 کے بعد کیا جائے گا، تاہم اس مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

پی سی بی نے بھارتی نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کی خبر کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقامی میڈیا نے بھی حقائق جانے بغیر یہ خبر شائع کردی۔

پی سی بی کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان میں کرکٹ کے مداح ورلڈکپ کے لیے قومی ٹیم کے ساتھ ہیں لیکن ایسے میں اس طرح کی خبریں آنا پاکستان ٹیم کی ایونٹ میں مہم کو متاثر کرنے کی ایک کوشش ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں، چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مکی آرتھر سمیت ٹیم کے تمام معاون اسٹاف پر مکمل اعتماد کا اظہار بھی کیا۔

پی سی بی کی جانب سے کہا گیا کہ انتظامیہ کی جانب سے اہم عہدوں میں تبدیلی کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

خیال رہے کہ مقامی میڈیا میں بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ پی سی بی نے کرکٹ ورلڈکپ 2019 کے اختتام کے بعد چیف سلیکٹر انضمام الحق اور ہیڈ کوچ مکی آرتھر کے معاہدوں کی تجدید نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ سابق کپتان عامر سہیل انضمام الحق کی جگہ پاکستان کے چیف سلیکٹر کا عہدہ سنبھال سکتے ہیں۔

پی سی بی ذرائع نے بھارتی نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ عامر سہیل چیف سلیکٹر کے عہدے کے مضبوط امیدوار ہیں، تاہم پی سی بی کے منیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ کی تقرری کا فیصلہ کریں گے۔

واضح رہے کہ عامر سہیل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد 2002 سے 2004 تک بطور چیف سلیکٹر کام کر چکے ہیں۔

ورلڈ کپ 2019 کی افتتاحی تقریب آج سجے گی

لندن: ورلڈ کپ کی رنگارنگ افتتاحی تقریب آج لندن مال میں سجے گی جس میں کرکٹ کو رقص اور موسیقی کا بھرپور تڑکا لگایا جائے گا۔

انگلینڈ میں شیڈول ورلڈ کپ کو بدھ کے روز رقص و موسیقی کا تڑکا لگایا جائے گا۔ اس سلسلے میں لندن مال میں شاندار افتتاحی رنگارنگ تقریب سجائی جا رہی ہے، جس میں نامور کرکٹرز کی موجودگی میں انٹرٹینمنٹ سے شائقین کرکٹ کو لطف اندوز کیا جائے گا۔

منتظمین کی جانب سے تفصیلات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا، اسے ایک سرپرائز پارٹی قرار دیا جارہا ہے، اس تقریب کی ٹکٹیں پہلے ہی فروخت ہوچکی ہیں، قرعہ اندازی کے تحت 4 ہزار شائقین کو ایونٹ میں شریک کا پروانہ جاری کیا گیا تھا، یہ ٹکٹ کسی دوسرے کو فروخت نہیں کیے جاسکتے بلکہ جس کے نام پر جاری ہوئے وہی انھیں استعمال کرسکتا ہے۔

ایک گھنٹے پر محیط تقریب کو پوری دنیا میں برطانیہ کے معیاری وقت کے مطابق 5 بجے شام براہ راست نشر کیا جائے گا، پاکستانی سرفراز احمد سمیت تمام کپتان ملکہ برطانیہ سے ملاقات کریں گے۔

ورلڈ کپ کے مینجنگ ڈائریکٹر اسٹیو ایلورتھی نے کہاکہ اوپننگ پارٹی ہر اس پہلو کا احاطہ کرے گی جو اس ٹورنامنٹ کو خاص بناتا ہے، اس میں شریک ہونے والے خوش قسمت شائقین اور ٹی وی ناظرین لطف اٹھائیں گے، بکنگھم پیلس کے سامنے موجود یہ مال کئی بڑی تقاریب کا میزبان بن چکا ہے۔

دوسری جانب انگلینڈ میں جمعرات سے شیڈول کرکٹ ورلڈ کپ کی سیکیورٹی کیلیے غیرمعمولی اقدامات کیے گئے ہیں، حالیہ کچھ ماہ میں کرکٹ کھیلنے والے 2بڑے ممالک نیوزی لینڈ اور سری لنکا میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات نے میگا ایونٹ کے منتظمین کو سیکیورٹی پلان پر نظر ثانی پر مجبور کیا اور اس میں مزید بہتری بھی لائی گئی ہے، دنیا کی مجموعی صورتحال کے پیش نظر دہشتگردی کے خطرے کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا، اس لیے آئی سی سی کی ٹیم مکمل طور پر چوکس ہے۔

ورلڈ کپ سیکیورٹی ٹیم کی سربراہ جل میک کریکین نے ایک بار پھر یقین دہانی کرائی کہ وہ اور ان کی پوری ٹیم تاریخ کے سب سے چیلنجنگ ورلڈ کپ کو محفوظ ترین بنانے کیلیے تیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے مجموعی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے غیرمعمولی اقدامات کیے ہیں، ہم اپنے سیکیورٹی پلان کے بارے میں تمام کرکٹ بورڈز کو خطوط لکھ چکے، اس کے باوجود ضرورت پڑنے پر ردوبدل بھی کرسکتے ہیں۔ ٹیمیں اپنے ساتھ سیکیورٹی ایڈوائزرز بھی لائی ہیں  اور وہ سب انتظامات کے حوالے سے کافی مطمئن ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیاکہ 16 جون کو اولڈ ٹریفورڈ میں شیڈول پاک بھارت میچ کو بھی کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے، ہم مسلسل انٹیلی جینس یونٹس کے ساتھ رابطے میں ہیں، ہم نے مختلف کمیونٹیز کے درمیان کسی قسم کے تناؤ کے بھی کوئی آثار نہیں پائے، فی الحال ہمارے پاس پریشان ہونے کیلیے کوئی معلومات نہیں ہیں۔ واضح  رہے کہ دوران میچ کسی بھی وینیو کے اطراف میں کسی ڈرون کو پرواز کرنے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔

جل میک کریکین نے کہاکہ یہ ایک کرکٹ کا ایونٹ ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ صرف کھیل کے حوالے سے ہی یاد رکھا جائے، یہ میرے اور ٹیم کیلیے ایک بہت بڑا ایونٹ ہے جس کی منصوبہ بندی ہم2016 سے کررہے ہیں، ہم چیمپئنز ٹرافی اور ویمنز ورلڈ کپ 2017 میں بھی مختلف چیزوں کی آزمائش کرچکے ہیں۔

اپنی ٹیم کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ اس میں سابق فوجی اور پولیس آفیسرز شامل ہیں، جنھیں بڑے ایونٹس کی سیکیورٹی کا غیرمعمولی تجربہ حاصل ہے۔ ایک سوال پر جل میک کریکین نے واضح کیا کہ سخت ترین سیکیورٹی انتظامات کے باوجود شائقین کو کسی بھی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

پی سی بی کا سزا یافتہ شرجیل خان کو کھیلنے کی اجازت دینے سے انکار

 لاہور: پی سی بی نے اسپاٹ فکسنگ معاملے میں سزا یافتہ شرجیل خان کو سزا کی مدت ختم ہونے سے پہلے کھیلنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

شرجیل خان کو پی ایس ایل کے دوسرے سیزن میں اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں ڈھائی سال کی پابندی عائد کی گئی تھی، یہ سزا رواں برس اگست میں ختم ہونے جارہی ہے، کرکٹر سزا ختم ہونے سے پہلے خود کو کرکٹ کے لیے تیار کرنے کے خواہش مند ہیں۔ ذرائع کے مطابق جارح مزاج بائیں ہاتھ کے بلے باز نے پی سی بی حکام کو درخواست کی تھی کہ انہیں پابندی ختم ہونے سے پہلے کرکٹ سرگرمیوں میں شرکت کی اجازت دی جائے تاہم پی سی بی نے اسے مسترد کردیا ہے۔

پی سی بی حکام کا موقف ہے کہ شرجیل خان نے بحالی پروگرام میں شرکت کے لیے وضع کردہ قواعد کو فالو نہیں کیا، جس کے تحت مکمل جرم کا اعتراف کرنا ضروری ہے، شرجیل خان نے صرف رپورٹ نہ کرنے کا اعتراف کیا ہے، انہوں نے فکسنگ کے تحقیقاتی عمل میں بھی تعاون نہیں کیا۔ کھلے عام جرم کا اعتراف کرنے کے ساتھ معافی مانگنا بھی لازمی فعل ہے۔ کرکٹر کو فکسنگ سے بچنے کے لیے پیغامات میں حصہ لینا بھی ضروری تھا تاہم شرجیل خان نے ان میں کسی چیز کو پورا نہیں کیا۔

2017 کو پاکستان سپر لیگ کے دوسرے سیزن میں اسپاٹ فکسنگ کرنے کے جرم میں اوپنر کو پانچ سال کی سزاسنائی گئی تھی، جس میں اڑھائی برس کی معطلی شامل تھی، اسلام آباد یونائیٹڈ کی نمائندگی کرنے والے اوپنر کو پی سی بی اینٹی کرپشن قوانین کی پانچ شقوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہرایا گیا تھا۔

’بھارتی ٹیم کو گھبرانا نہیں چاہیے‘

بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور لیجنڈ کھلاڑی سچن ٹنڈولکر نے اپنی ٹیم کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ورلڈکپ 2019 کے وارم اپ میچ میں نیوزی لینڈ سے شکست کے باوجود ٹیم کو گھبرانا نہیں چاہیے۔

سابق بھارتی کرکٹر کا کہنا تھا کہ میں اس ٹیم کو ہر میچ کے بعد جج کرنا شروع نہیں کروں گا، یہ ایک ٹورنامنٹ ہے اور یہاں ایسا (شکست کا منہ دیکھنا) ہوگا۔

سچن ٹنڈولکر کا کہنا تھا کہ ابھی تک ٹورنامنٹ باضابطہ طور پر شروع نہیں ہوا ہے، تاہم ٹیم کو انگلینڈ میں کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونے میں ایک دو میچز لگیں گے۔

بیٹنگ لیجنڈ کا کہنا تھا کہ بھارتی ٹیم کو پریکٹس میچز سے زیادہ سے زیادہ سیکھنا چاہیے، ٹیم کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انہیں کس طرح کی وکٹیں ملنے والی ہیں، انہیں یہاں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی ٹیم ورلڈ کپ میں اپنی مہم کا آغاز 5 جون کو جنوبی افریقہ کے خلاف میچ سے کرے گی۔

سچن ٹنڈولکر کا کہنا ہے کہ ایونٹ میں شامل ٹیمیں وارم اپ میچز میں مختلگ کھلاڑیوں اور مختلف کمبی نیشن کو آزما رہی ہیں۔

خیال رہے کہ نیوزی لینڈ نے پہلے وارم اپ میچ میں بھارتی ٹیم کو پہلے 179 رنز پر آل آؤٹ کرکے اسے 6 وکٹوں سے عبرتناک شکست دے دوچار کردیا تھا۔

گرین وکٹ پر ورلڈکپ فیوریٹ بھارت کے بلے باز کیوز کے لیے ترنوالہ ثابت ہوئے تھے، تاہم بھارت کے سابق کرکٹر ٹیم کی اچھی کامیابی کے بعد پر امید ہیں۔

ایونٹ کا سب سے بڑا میچ پاکستان اور بھارت کے درمیان 16 جون کو مانچسٹر کے اولڈ ٹرفرڈ پر کھیلا جائے گا۔

ورلڈ کپ میں فخر زمان پاکستانی امیدوں کا محور بن گئے

کراچی: ورلڈ کپ میں فخر زمان پاکستانی امیدوں کا محور بن گئے۔

ساتھی کھلاڑیوں میں ’فوجی‘ کی عرفیت سے مشہور فخرزمان ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم کے اہم ہتھیار ہوں گے۔ 2 برس قبل انگلینڈ میں ہی کھیلی جانے والی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں وہ صرف 3 کے انفرادی اسکور پر جسپریت بمرا کی گیند پر دھونی کے ہاتھوں کیچ ہوگئے تھے، مگر بولر کا پائوں لائن سے باہر نکلنے کی وجہ سے انھیں ناٹ آئوٹ قرار دیا گیا، جس کے بعد انھوں نے 114 رنز بناکر اپنی ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

فخرزمان نے کہا کہ اسی نوبال نے مجھے اسٹار بنا دیا، میں نے فائنل سے قبل ہی خواب میں دیکھا تھا کہ میں ایک نوبال پر آئوٹ ہوجاتا ہوں اور بعد میں ایسا ہی ہوا، جب آئوٹ قرار دیا گیا تو مجھے افسوس ہوا کیونکہ میں نے اپنے والدین سے اس مقابلے میں بہتر کارکردگی پیش کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

روایتی حریف کے خلاف چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں پاکستان کو فتح دلانے پر فخر زمان راتوں رات شہرت کے آسمان پر جگمگانے لگے۔ انھوں نے کہاکہ میں بہت ہی زیادہ خوش قسمت ہوں کیونکہ اس سنچری کے بعد میں کافی مشہور ہوگیا مگر یہ شہرت ذمہ داری بھی ساتھ لاتی ہے، اب میں زیادہ سمجھدار ہوچکا اور اپنی ذمہ داری کو بہتر انداز میں سمجھتا ہوں، ورلڈ کپ میں بھی یہی میری اولین ترجیح ہوگی۔

ان کے بارے میں چیف سلیکٹر انضمام الحق نے کہاکہ مجھے فخر میں ایک گیم چینجر دکھائی دیا تھا، شرجیل خان کے بعد ہمیں ایسے ہی کسی بیٹسمین کی تلاش تھی، فخر بھی توقعات پر پورا اترے اور اب ہم انھیں ورلڈ کپ میں ایک اہم ہتھیار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

فخر زمان نے مزید کہا کہ میرا کام رنز اسکور کرنا اور میں اسی کیلیے کوشاں رہتا ہوں، میں جانتا ہوں کہ سخت محنت سے ہی آپ کو صلہ ملتا ہے۔

پاکستان 1992 کی تاریخ دہراسکتا ہے، وقاریونس

لاہور:  سابق قومی کپتان وقار یونس کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم سخت محنت کرے تو ورلڈ کپ 1992 کی تاریخ دوبارہ دہراسکتی ہے، ماضی کے عظیم فاسٹ بولر کے مطابق عمران خان کی قیادت میں گرین شرٹس نے پہلی بار عالمی کپ جیت کر پوری دنیا کو حیران کر دیا تھا، اب بھی پاکستانی ٹیم اسی طرح کا سرپرائز دے سکتی ہے۔

وقار یونس کا کہنا ہے کہ فٹنس مسائل کی وجہ سے مجھے آسٹریلیا سے وطن واپس آنا پڑا جس کی وجہ سے 1992 کے ورلڈ کپ کے دوران ایکشن میں دکھائی نہیں دے سکا تھا تاہم مجھے اچھی طرح یاد ہے جب ورلڈ کپ کی ٹرافی پاکستان آئی تو پورا ملک سڑکوں پرآ گیا تھا اور ہر طرف خوشی کا سماں تھا، گرین شرٹس اس دفعہ بھی یہ خوشیاں لوٹاسکتے ہیں لیکن اس کیلیے کھلاڑیوں کو زیادہ محنت کرنا ہو گی۔ وقار یونس کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم کا مثبت پہلو یہ ہے کہ ٹیم نے اچھی بیٹنگ کا مظاہرہ کرنا شروع کردیا ہے۔

بیٹسمینوں کی عمدہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ سرفراز الیون 300 سے زیادہ رنزکرنے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے۔بابراعظم، حارث سہیل، فخر زمان اور امام الحق کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے سابق کپتان نے کہا کہ ٹاپ فور بیٹسمین بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے ہائی اسکورکررہے ہیں تاہم پاکستانی ٹیم کے لیے سب سے بڑا مسئلہ خراب فیلڈنگ ہے۔ ایک سوال پر وقار یونس نے کہا کہ وہاب ریاض اور محمد عامر کے آنے سے پاکستان ٹیم کا بولنگ کا شعبہ خاصا مضبوط ہوا ہے،ان کا کہنا ہے کہ شاہین آفریدی اور محمد حسنین باصلاحیت کھلاڑی ہیں اور وہ دونوں کو ورلڈ کپ میں کھیلتے ہوئے دیکھنے کے لیے بیتاب ہیں۔

Google Analytics Alternative