کھیل

2019ء ورلڈ کپ فائنل: کیوی باؤلنگ کا انگلش بیٹنگ سے سخت مقابلہ متوقع

زندگی چھوٹے چھوٹے اتفاقات سے مزین ہے۔ ایک سیکنڈ کا ہزارواں حصہ صرف جاسوسی کہانیوں میں ہی نہیں عملی زندگی میں بھی بہت کچھ بدل سکتا ہے۔

مارٹن گپٹل بنام مہندرا دھونی کھیل کے ایسے ہی لمحات میں سے ایک تھا. دھونی اگر بچ جاتے تو یہ بالکل بھی ضروری نہیں تھا کہ بھارت 9 گیندوں پر درکار 25 رنز بنا ہی لیتا لیکن دھونی آؤٹ ہوئے تو یہ مہر لگ گئی کہ اب یہ ممکن نہیں رہا۔

اپنے حصے کا کام نہ کر پانے کا بوجھ دماغ پر لیے ڈیپ اسکوائر لیگ پر کھڑے گپٹل نے شاید سوچا بھی نہیں ہوگا کہ اعتماد کی واپسی ایسے بھی ہوسکتی ہے۔ اپنے لیے احترام حاصل کرنے کے لیے ایک سے زیادہ طریقے دستیاب ہوتے ہیں شرط یہ ہے کہ آپ میدان میں ڈٹے رہیں۔

نیوزی لینڈ کی بیٹنگ

لیکن اب بڑا دن آ پہنچا ہے اب انہیں اپنا وہ کھیل دکھانا ہوگا جس کے لیے وہ جانے جاتے ہیں۔ سری لنکا کے خلاف 73 رنز کی ایک اننگ وہ واحد اننگ ہے جس میں ان کا بلا چلا، ورنہ پورے ہی ایونٹ میں وہ بالکل ناراض بچے کی طرح خاموش رہا۔

بیٹنگ کے حوالے سے دیکھا جائے تو نیوزی لینڈ کی کارکردگی مجموعی طور پر ہی بُری رہی ہے۔ جہاں دیگر ٹیموں نے لمبے لمبے رنز کیے وہاں حیران کن طور پر کیوی ٹیم کم اسکور کرتے ہوئے بھی فائنل میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئی۔

ورلڈ کپ، جس میں ٹیموں کا اوسط اسکور 280 کے قریب رہا ہے فائنل کھیلنے والی ٹیم نے صرف ایک بار 250 سے زیادہ رنز بنائے ہیں۔ جہاں باقی ٹیموں نے 27 بار 300 سے زیادہ کا مجموعہ حاصل کیا ہے وہاں فائنل کھیلنے والی ٹیم نے ایک بار بھی 300 سے زائد رنز نہیں بنائے۔ ایسا کرنے والی دوسری ٹیم صرف افغانستان ہے جو 10ویں نمبر پر رہی ہے۔

اس سے نیوزی لینڈ کی باؤلنگ اور فیلڈنگ کے معیار کا آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ کین ولیمسن واحد کیوی بلے باز ہیں جنہوں نے مستقل مزاجی سے رنز بنائے ہیں لیکن ان کا اسٹرائیک ریٹ محض 76 کے قریب ہے۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم جو مار دھاڑ کے لیے کافی مشہور ہے اس بار ان کا صرف ایک بلے باز کولن ڈی گرینڈ ہوم 100 سے زیادہ کے اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنا سکا ہے۔ یہ ساری باتیں ہم نیوزی لینڈ سے کم ہی جوڑتے ہیں تاہم اس بار ایسا ہی ہوا ہے۔

نیوزی لینڈ کی تاریخ کے کامیاب ترین بلے بازوں میں سے ایک روس ٹیلر نے ابھی تک صرف 2 یا 3 اچھی اننگز کھیلی ہیں، لیکن خوش قسمتی کی بات یہ کہ وہ سب کی سب ٹیم کے کام آگئیں۔ لیکن ایک تجربہ کار بلے باز کی طرف سے اتنے بڑے ٹورنامنٹ میں یہ اوسط درجے سے بھی کم کی کارکردگی مانی جائے گی۔

اس پورے ورلڈ کپ میں ایسا محسوس ہوا جیسے کیوی بیٹسمنوں سے بڑے شاٹ لگ ہی نہیں رہے۔ ایسا کہنے کی وجہ یہ ہے کہ پورے ایونٹ میں انہوں نے اب تک صرف 21 چھکے ہی لگائے ہیں۔ فائنل میں جس ٹیم سے ان کا مقابلہ ہے یعنی انگلینڈ، تو ان کے کپتان ایون مورگن نے اکیلے ہی اس ایونٹ میں اب تک 22 چھکے لگا رکھے ہیں۔

لیکن اب تک کیوی ٹیم سے کچھ غلطیاں بھی سرزد ہورہی ہیں۔ کولن منرو خراب فارم کی وجہ سے ٹیم سے باہر ہیں اور ان کی جگہ ہنری نکولس کو بطور اوپنر کھلایا جارہا ہے، مگر وہ بھی اب تک کچھ خاص نہیں کرپائے ہیں۔ لیکن دوسری طرف سجھ نہیں آ رہی کہ جب ٹام لیتھم جیسا اچھا ٹاپ آرڈر بلے باز ٹیم کو میسر ہے تو اسے مڈل آرڈر میں کیوں ضائع کیا جارہا ہے؟ نکولس بہترین مڈل آرڈر بلے باز ہے اسے میک شفٹ اوپنر بنایا جا رہا ہے۔ اگر نیوزی لینڈ ٹام لیتھم سے اننگز اوپن کروا لے اور نکولس کو واپس مڈل آرڈر میں لے جائے تو شاید حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔

ویسے بھی جہاں جیمز نیشام اور کولن دی گرینڈ ہوم جیسے تیز کھیلنے والے نیچے نمبروں پر موجود ہیں تو لیتھم کو اوپر ہی آنا چاہئے، یوں اننگ کو اب تک میسر نہ آنے والا توازن مل سکے گا اور بہت حد تک استحکام بھی نصیب ہوگا۔

انگلینڈ کی بیٹنگ

اب اگر بات کریں انگلش ٹیم کی تو یہاں بیٹنگ کے شعبے میں سب کچھ کمال ہے۔ جونی بیئراسٹو اور جیسن رائے آتے ہیں اور بغیر کوئی تکلف کیے مخالف ٹیموں کی دھلائی شروع کردیتے ہیں۔ ان دونوں کا آغاز دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے ڈریسنگ روم سے ہی بلے بازی کرتے آئے ہیں۔ دنیا کے ہر اچھے باؤلر کی ان دونوں نے جم کر دھلائی کی ہے۔

2015ء کے ورلڈ کپ کی شرمناک شکست نے تو جیسے انگلینڈ کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور گیم پلان ہی تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ اس ورلڈ کپ میں جب سری لنکا کے خلاف ایک خراب دن نے انگلینڈ کو خطرات سے دوچار کیا تو وہ بیئراسٹو ہی تھے جنہوں نےہاتھ کھڑا کیا اور پہلے بھارت اور اس کے بعد نیوزی لینڈ کی باؤلنگ کے بخیے ادھیڑ دیے۔

یہ اس اعتماد اور قابلیت کا اظہار تھا کہ انگلینڈ کی موجودہ ٹیم کسی حادثے یا مخصوص حالات اور کنڈیشن میں ملنے والے میچوں کی وجہ سے فیورٹ نہیں بنی بلکہ مسلسل عمدہ پرفارمنس اور خود پر یقین نے انہیں یہاں تک پہنچایا ہے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ انگلینڈ کے بلے بازوں نے مسلسل 3 میچوں میں 3 سب سے عمدہ باؤلنگ اٹیکس کو ادھیڑ کر رکھ دیا ہے۔ پہلے بھارت، پھر نیوزی لینڈ اور سیمی فائنل میں آسٹریلیا۔ ان تینوں ٹیموں کے پاس بہترین باؤلنگ اٹیک موجود تھے اور تینوں کو ہی انگلش ٹاپ آرڈر کے غضب کا نشانہ بننا پڑا ہے۔

اس انگلش بیٹنگ لائن کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ ان کے آپشنز محدود نہیں ہیں بلکہ اگر کسی دن بیئراسٹو یا روئے ناکام ہوجائیں تو جو روٹ اور کپتان مورگن موجود ہیں۔ روٹ کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ وہ گراؤنڈ شاٹس اور سنگل ڈبل لے کر مخالفین کو مشکل سے دوچار کردیتے ہیں تو وہیں کپتان مورگن اور ان کے بعد آنے والے جارحانہ بلے باز بین اسٹوکس اور جوس بٹلر اننگ کی رفتار 240 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے لے جانے کا فن جانتے ہیں۔ یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ بٹلر جو کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس ورلڈ کپ میں وہ اب تک دکھا نہیں سکے، لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب ان کا بلا خاموش ہے تو انگلینڈ کی ٹیم اتنی مضبوط ہے، اگر وہ بھی بولنا اور چیخنا شروع کردے تو سوچیے کہ پھر میدان میں کیا کچھ ہوگا؟

اسٹوکس کی بات کی جائے تو انہوں نے اس میگا ایونٹ میں ایک سے زیادہ مرتبہ انگلینڈ کو مشکلات سے نکالا اور مڈل آرڈر کا سارا بوجھ اٹھایا ہے۔ وہ بالکل مستند بلے باز کی طرح کھیلے ہیں۔ اس ٹورنامنٹ میں وہ انگلینڈ کی طرف سے 4 نصف سنچریاں بنا چکے ہیں۔

انگلینڈ کو ایک اضافی فائدہ یہ بھی حاصل ہے کہ اس ٹیم کی ٹیل نہیں ہے۔ یہاں جوفرا آرچر کے علاوہ سب ہی بلے بازی کرسکتے ہیں۔ عادل رشید اور لیام پلنکٹ 20 سے 30 قیمتی رنز شامل کرسکتے ہیں اور کرس ووکس تو ایک مستند آل راؤنڈر ہیں۔ ان کے آپشنز کا یہ عالم ہے کہ معین علی جیسا میچ ونر بنچ گرما رہا ہے۔ سو فائنل کھیلنے والی دونوں ٹیموں میں بیٹنگ کے حوالے سے کوئی موازنہ نہیں۔ انگلینڈ دوگنے فرق سے بہترین بیٹنگ سائیڈ ہے۔

نیوزی لینڈ کی باؤلنگ

اس میں کوئی شک نہیں کہ باؤلنگ میں نیوزی لینڈ کو برتری حاصل ہے۔ ٹرینٹ بولٹ جنہیں دیکھ کر کبھی کبھی وسیم اکرم یاد آتے ہیں۔ بولٹ کی سوئنگ کرنے کی صلاحیت کمال ہے۔ پچ میں اگر مدد نا بھی ہو تب بھی وہ بیٹسمین کو سکون کا سانس نہیں لینے دیتے۔ وہ موجودہ دور کے واحد فاسٹ باؤٔلر ہوں گے جو مسکراتے ہوئے آپ کے ٹخنے سینک دیں۔ اننگز کے آغاز میں بولٹ کی اِن سوئنگ گیندیں دیکھنے لائق ہوتی ہیں۔ دیکھتے ہیں فائنل میں وہ روئے اور بیئراسٹو کو گھیرنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں یا نہیں۔

پھر ان کے ساتھی میٹ ہنری ہیں جو 150 کی رفتار سے بال کرتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے گلین میگراتھ کی طرح آف اسٹمپ چینل نہیں چھوڑتے۔ بھارت جیسے دیو کو بھی انہوں نے ہی گرایا تھا۔ ہنری کے ایک اسپیل نے نیوزی لینڈ کو سیمی فائنل میں پار لگا دیا ہے۔ یہ سوئنگ بولنگ کا ایک شاندار مظاہرہ تھا۔

فرگوسن ایک سرپرائز پیکج ہیں۔ جہاں ہنری اور بولٹ روائتی طریقوں سے بیٹسمین کو پکڑتے ہیں فرگوسن اپنی رفتار اور لینتھ سے یہ کام کرتے ہیں۔ ان کا باؤنسر کمال ہے اور نتیجہ خیز بھی۔ اس ورلڈ کپ میں وہ نیوزی لینڈ کے سب سے کامیاب باؤلر ہیں۔

ان تینوں کے بعد باری آتی ہے مچل سینٹنر کی جو اچھے اسپنر ہیں خاص کر محدود اوورز کے میچز کے سارے پینترے وہ جانتے ہیں اور کسی بھی کپتان کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں ہیں۔ نیوزی لینڈ کے لیے پانچواں باؤلر اگر بہت اچھا نہیں تو بُرا بھی نہیں ہے۔ یہاں بات ہورہی ہے نیشام اور گرینڈ ہوم کی۔ دونوں ہی معقول باؤلرز ہیں اور جہاں پچ میں ہلکی سی بھی نمی ہو تو یہ خاصے مہلک ثابت ہوسکتے ہیں۔ سو باؤلنگ میں نیوزی لینڈ خود کفیل ہے۔

انگلینڈ کی باؤلنگ

انگلینڈ کے لیے جوفرا آرچر ایک نعمت سے کم نہیں ہیں۔ جوفرا اس ورلڈ کپ میں سب سے بہترین انگلش باؤلر ثابت ہوئے ہیں۔ ان کے پاس رفتار ہے، سوئنگ ہے، دہشت ہے اور سب سے بڑھ کر اعتماد ہے۔ اس انگلش باؤلنگ اٹیک میں اعتماد اور جارحیت کی بہت کمی تھی جسے جوفرا نے پورا کردیا۔

کرس ووکس ایک روزہ کرکٹ میں انڈر ریٹڈ باؤلر ہیں حالانکہ انگلینڈ کی موجودہ ون ڈے کارکردگی میں ان کا بہت عمل دخل ہے۔ بھارت کے خلاف میچ ہو یا آسٹریلیا کے خلاف سیمی فائل، نئی گیند کے ساتھ وہ خوب دباؤ بناتے ہیں۔ یہ علیحدہ بات کہ اس ورلڈ کپ میں زیادہ وکٹیں وہ حاصل نہیں کر پائے، لیکن انگلینڈ کو فائنل میں پہنچانے میں ان کا بہت اہم کردار ہے۔

مڈل اوورز میں جو کام کبھی حسن علی کیا کرتے تھے انگلینڈ کے لیے اب وہ کام لیام پلنکٹ کر رہے ہیں اور میچ جیتنے کے لیے یہ سب سے عمدہ کام ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ٹیمیں میچ پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ عادل رشید کو انگلینڈ والے معین علی پر ترجیح دیتے ہیں۔ کم از کم سیمی فائنل میں تو انہوں نے اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ فائنل میں وہ مشتاق احمد والا کردار ادا کرسکتے ہیں یا نہیں۔

انگلینڈ کے پاس ایک اور ہتھیار مارک ووڈ کی صورت میں بھی ہے۔ ووڈ اچھی باؤلنگ کرتے ہیں لیکن انہیں مار زیادہ پڑ جاتی ہے اسی لیے وہ اب تک پہلا انتخاب نہیں بن سکے ہیں، لیکن وکٹ ٹیکر وہ ضرور ہیں۔ اسٹوکس چند اچھے اوورز نکال دیتے ہیں سو انگلینڈ کے لیے نسبتاً کمزور اٹیک بھی کسی پریشانی کا باعث نہیں بنتا کیونکہ ان کے پاس آپشنز بہت ہیں۔

آخری بات

اگر مجموعی طور پر بات کی جائے تو فائنل کیوی باؤلنگ بمقابلہ انگلش بیٹنگ کے درمیان کھیلا جائے گا۔ دونوں ٹیمیں اس لحاظ سے خوش قسمت رہی ہیں کہ ان کے حریفوں نے بُری پرفارمنس کے لیے سیمی فائنل کا دن چنا۔

دونوں سیمی فائنلز میں آسٹریلیا اور بھارت کے جو سب سے عمدہ بلے باز تھے وہ پہلے ہی اسپیل میں چلتے بنے۔ ایسا تحفہ ہر روز نہیں ملتا۔ سو قسمت کی دیوی دونوں پر مہربان ہے۔ لیکن انگلینڈ یہاں تک لڑ کر پہنچا ہے۔ اس نے اچھے حریفوں سے میچ جیتے ہیں جبکہ نیوزی لینڈ نے اچھی ٹیموں کے خلاف میچ ہارے ہیں۔

انگلینڈ پر جب مشکل وقت آیا تو انگلینڈ نے اپنا کھیل بہت اوپر اٹھا دیا۔ انگلینڈ کی اس ٹیم نے اپنی 4 سالہ محنت کو مزید چمکا دیا اور اب وہ فائنل میں ہے۔ کیوی ٹیم کا معاملہ دوسرا ہے ان کا ’پینک بٹن‘ پاکستان کے خلاف ایسا دبا کہ اوپر نیچے 3 میچ وہ ہار گئی۔ دل چاہے نیوزی لینڈ کے ساتھ ہو لیکن دماغ کہتا ہے کہ انگلینڈ میچ نہیں دے گا۔ خاص کر جس طرح کی کرکٹ انگلینڈ نے مشکل میں پھنس جانے کے بعد کھیلی ہے، جب ٹورنامنٹ ان کے لیے ناک آؤٹ بن چکا تھا تب انہوں نے اپنی مضبوطی دکھائی۔

نیوزی لینڈ کو بہرحال ایک ایڈوانٹیج حاصل ہے کہ انہیں کمتر ٹیم گنا جا رہا ہے۔ سو ان پر دباؤ بھی نسبتاً کم ہے۔ انگلینڈ تو پہلے ہی دن سے ورلڈ کپ کا مضبوط دعویدار تھا سو قابلیت کا زیادہ سوال ان سے ہوگا۔

نیوزی لینڈ والے ضرور چاہیں گے کہ 2015ء ورلڈ کپ کے فائنل والی کارکردگی نہ دہرائی جائے۔ پھر تماشائی بھی یہی چاہیں گے کہ فاتح چاہے جو بھی ہو، مگر میچ کم از کم یکطرفہ نہیں ہونا چاہیے۔

پاکستان کرکٹ کی تباہی کے ذمہ دار مکی آرتھر قرار

لاہور: عبدالقادر نے پاکستان کرکٹ کی تباہی کا ذمہ دار مکی آرتھر کو قرار دیدیا۔

پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pk کے پروگرام ’’کرکٹ کارنر ود سلیم خالق‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے عبدالقادر نے کہا کہ مکی آرتھر نے پاکستان کرکٹ تباہ کردی،ہیڈ کوچ نے احمد شہزاد، سمیع اسلم، سلمان بٹ، عمراکمل اور سہیل خان سمیت کئی باصلاحیت کھلاڑیوں کو ڈراپ کیا، یہ کرکٹرز کارکردگی اچھی اور تجربہ کار ہونے کی وجہ سے پاکستانی فتوحات میں اہم کردار ادا کرسکتے تھے۔ اگر ان میں سے کسی کے نظم و ضبط کے حوالے سے مسائل بھی تھے تو پی سی بی کی ذمہ داری تھی کہ ان پر قابو پانے کیلیے طریقہ کار اپناتا تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات نہ ہوں۔

ورلڈکپ میں ناقص کارکردگی کے باوجود پی سی بی کی جانب سے تسلسل کے ساتھ پریس کانفرنسز کے انعقاد پر انھوں نے کہا کہ بڑا عجیب رویہ دیکھنے میں آیا، ابتدا میں ناکامیوں کے بعد آخری 4 میچز جیت کر اس کو بڑی کامیابی ثابت کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے،یہ فتوحات بھی جس انداز میں ہوئیں ان میں فخر کرنے والی کوئی بات نہیں، پاکستان نے مسلسل ناکامیوں کا سامنا کرنے والی جنوبی افریقی ٹیم کو ہرایا، اففانستان کیخلاف گرتے پڑتے قوم کی دعاؤں کے ساتھ فتح حاصل ہوئی۔

سابق چیف سلیکٹر نے کہا کہ ورلڈکپ کیلیے پاکستان کی تیاریوں کا یہ عالم تھا کہ آغاز سے قبل ہمارا کمبی نیشن ہی حتمی نہیں تھا،محمد عامر اور وہاب ریاض کی آخر میں شمولیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ ٹیم مینجمنٹ کا کوئی پلان ہی نہیں تھا،حیران کن بات نہیں کہ دونوں نے بعد ازاں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ مستقبل میں بہتری کیلیے سارے کوچنگ اسٹاف کو ہی تبدیل کردینے کی ضرورت ہے لیکن سرفراز احمد کو قیادت سے ہٹانا درست نہیں ہوگا،وہ ایک فائٹر کپتان اور ماضی میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں،انڈر 19سطح سے قومی ٹیم تک آنے والے کرکٹر کے کریڈٹ پر چیمپئنز ٹرافی بھی ہے،صرف ایک خراب کارکردگی کی بنیاد پر ان سے کپتانی چھین لینا غلط فیصلہ ہوگا۔

بورڈ حکام کا احتساب ہونا چاہیےسبحان کی اب کوئی ضرورت نہیں رہی

عبدالقادر کا کہنا ہے کہ پی سی بی میں 15یا 20سال سے براجمان عہدیداروں کا بھی احتساب ہونا چاہیے،انھوں نے کہا کہ ایک عرصے سے چند افراد بورڈ میں مختلف ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں،ان سے سوال ہونا چاہیے کہ اس دوران انھوں نے کیا کارنامہ سرانجام دیا، چیئرمین پی سی بی تمام معاملات ایم ڈی وسیم خان کو سپرد کرکے اپنی ذمہ داریوں سے جان نہیں چھڑا سکتے، بورڈ کا سربراہ ہونے کے ناطے ان کو بھی جوابدہ ہونا ہوگا، پی سی بی میں بغیر کام کیے تنخواہیں وصول کرنے والوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے،ایم ڈی کی تقرری کے بعد چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد کی بھی کوئی ضرورت نہیں رہی۔

ورلڈ کپ؛ عبدالقادر نے انضمام الحق کے دورئہ انگلینڈ پر سوال اٹھا دیا

عبدالقادر نے انضمام الحق کے دورئہ انگلینڈ پر بھی سوال اٹھا دیا، سابق ٹیسٹ کرکٹر کا کہنا ہے کہ پی سی بی نے ان کو کھلی چھوٹ کیوں دی، چیف سلیکٹر کا کام ٹورنامنٹ سے قبل اسکواڈ کا انتخاب کرنا ہے ٹور سلیکشن کمیٹی میں ان کی کوئی مداخلت نہیں ہونا چاہیے، انھوں نے کہا کہ کپتان سرفراز احمد اور ہیڈکوچ مکی آرتھر بھی انضمام الحق کی انگلینڈ میں موجودگی سے خوش نہیں تھے،بہتر ہوتا کہ پی سی بی ان کو روک کر ایک طرف کردیتا۔

سیمی فائنل میں متنازع فیصلے کے باوجود دھرماسینا فائنل کیلئے امپائر برقرار

ورلڈ کپ سیمی فائنل میں انگلینڈ کے جیسن روئے کے خلاف آؤٹ کا متنازع فیصلہ دیے جانے کے باوجود سری لنکن امپائر کمار دھرماسینا کو ورلڈ کپ فائنل کے لیے بھی امپائرنگ کی ذمے داری سونپ دی گئی ہے۔

انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے گئے ورلڈ کپ سیمی فائنل میں 224رنز کے ہدف کے تعاقب میں جیسن روئے اور بیئراسٹو نے 124رنز کی شاندار اوپننگ شراکت قائم کر کے میچ کو یکطرفہ بنا دیا۔

خصوصاً جیسن روئے نے جارحانہ انداز اپنایا اور 85رنز کی اننگز کھیلی جس میں 5 چھکے اور 9 چوکے شامل تھے لیکن سنچری سے چند قدم کے فاصلے پر انہیں سری لنکن امپائر کمار دھرماسینا نے کیچ آؤٹ قرار دے دیا۔

جیسن روئے امپائر کے فیصلے سے ناخوش نظر آئے اور ری پلے سے صاف ظاہر تھا کہ گیند ان کے بلے کو چھوئے بغیر وکٹ کیپر تک گئی ہے لیکن بیئراسٹو اپنی وکٹ بچانے کے لیے پہلے ہی ریویو ضائع کر چکے تھے۔

اس موقع پر روئے نے ریویو تو نہ لیا البتہ انہوں نے اس فیصلے کے خلاف امپائر امپائرز سے بحث کی اور اپنی خفگی کا اظہار کیا۔

روئے نے اس مرحلے پر ریویو کا اشارہ کیا اور ریویو ضائع ہونے کے باوجود دھرماسینا نے ریویو کا اشارہ کردیا لیکن آسٹریلیا نے ان کی اس غلطی کی نشاندہی کی اور روئے کو پویلین لوٹنا پڑا۔

اس ردعمل پر جیسن روئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار پائے اور ان پر میچ فیس کا 30فیصد جرمانہ عائد کردیا گیا۔

دھرما سینا کے اس متنازع فیصلے اور غلط آؤٹ کے باوجود انہیں ورلڈ کپ کے فائنل کی بھی ذمے داریاں سونپ دی گئی ہیں اور ان کے ہمراہ جنوبی افریقہ کے میراس ایراسمس امپائرنگ کے فرائض انجام دیں۔

میچ کے لیے تھرڈ امپائر پہلے نیوزی لینڈ کے کرس گیفینی تھے تاہم کیویز کے فائنل میں پہنچنے کے بعد آسٹریلیا کے روڈ ٹکر تھرڈ امپائر ہوں گے جبکہ ریزرو امپائر پاکستان کے علیم ڈار ہوں گے۔

فائنل میچ کے ریفری بھی دوسرے سیمی فائنل میں ذمے داریاں انجام دینے والے میچ ریفری سری لنکا کے رنجن مدوگالے ہوں گے۔

ورلڈ کپ کا فائنل 14 جولائی کو لارڈز کے تاریخی میدان پر میزبان انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلا جائے گا۔

پبلشنگ پارٹنر دنیائے کرکٹ کو 23سال بعد نیا عالمی چیمپیئن ملے گا

ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں بھارت اور آسٹریلیا کی شکست کے ساتھ ہی نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی ٹیمیں فائنل میں پہنچ گئی ہیں اور 23سال بعد دنیائے کرکٹ کا ایک نیا عالمی چیمپیئن بن جائے گا۔

انگلینڈ میں جاری ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کی ٹیم نے بھارت اور میزبان ٹیم نے دفاعی چیمپیئن آسٹریلیا کو شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی اور دونوں ٹیمیں 14 جولائی کو ٹائٹل کے لیے لارڈز کے تاریخی میدان میں ٹکرائیں گی۔

اس کے ساتھ ہی 23 سال بعد دنیائے کرکٹ کو نیا عالمی چیمپیئن مل جائے گا کیونکہ گزشتہ برسوں کے دوران وہی ٹیمیں چیمپیئن بنتی رہیں جو اس سے قبل بھی چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کر چکی تھیں۔

اس سے قبل 1996 میں سری لنکا کی ٹیم نے چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا تو وہ آخری ٹیم تھی جو پہلی مرتبہ چیمپیئن بنی تھی۔

اس کے بعد 1999 میں آسٹریلین ٹیم چیمپیئن بنی تھی لیکن وہ 1987 میں ٹائٹل اپنے نام کر چکی تھی اور پھر آسٹریلیا نے 2003 اور 2007 کا بھی ورلڈ کپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔

2011 میں بھارتی ٹیم نے اپنی سرزمین پر چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تو دوسری بار ورلڈ چیمپیئن بنی تھی، اس سے قبل 1983 میں کپیل دیو کی زیر قیادت بھارت پہلی مرتبہ چیمپیئن بنا تھا۔

2015 ورلڈ کپ کے فائنل میں نیوزی لینڈ کی ٹیم پہنچنے میں کامیاب رہی تھی لیکن آسٹریلیا نے انہیں شکست دے کر پانچویں مرتبہ چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا تھا۔

تاہم 2019 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں بھارت اور آسٹریلیا دونوں کی شکست کے بعد اب انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں فائنل میں پہنچ گئی ہیں لہٰذا اب دنیا ایک ایسی ٹیم کو عالمی چیمپیئن بنتا ہوا دیکھی گی جس نے اس سے قبل کبھی بھی یہ اعزاز حاصل نہیں کیا۔

اب دیکھتے ہیں کہ 14 جولائی کو لارڈز کے تاریخی میدان پر فتح کس ٹیم کے قدم چومتی ہے۔ آیا انگلینڈ کی ٹیم عالمی چیمپیئن کا تاج سر پر سجائے گی یا نیوزی لینڈ کی ٹیم کرکٹ کے تمام پنڈتوں اور ماہرین کو ایک مرتبہ پھر حیران کر کے ورلڈ چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کرے گی۔

راشد خان تینوں فارمیٹ کیلئے افغانستان کے کپتان مقرر

افغان کرکٹ بورڈ نے اسٹار لیگ اسپنر راشد خان کو تینوں فارمیٹ کے لیے کپتان مقرر کردیا ہے جبکہ سابق کپتان اصغر افغان کو ان کا نائب مقرر کیا گیا ہے۔

افغان بورڈ نے یہ فیصلہ ورلڈ کپ میں ٹیم کی ناقص کارکردگی کے بعد کیا جہاں گلبدین نائب کی زیر قیادت افغان ٹیم کو اپنے تمام میچوں میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔

عالمی نمبر ایک ٹی20 باؤلر راشد خان کے لیے بھی یہ ورلڈ کپ بہت اچھا نہیں رہا اور وہ توقعات کے برعکس کچھ اچھا کھیل پیش نہ کر سکے لیکن افغانستان کرکٹ کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے 20سالہ کرکٹر کو قیادت کی ذمے داری سونپی گئی ہے۔

ورلڈ کپ کے دوران 8 اننگز میں راشد خان تقریباً 70کی اوسط سے صرف 6 وکٹیں لے سکے جبکہ انگلینڈ کے خلاف میچ میں انہیں 110 رنز کی پٹائی برداشت کرنی پڑی اور وہ ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں دوسرے مہنگے ترین باؤلر ثابت ہوئے۔

گزشتہ سال زمبابوے میں ورلڈ کپ کوالیفائر کے دوران کپتان اصغر افغان کی غیرموجودگی میں 4 میچوں میں افغانستان کی راشد نے قیادت کی تھی اور ان سے تین میں انہیں شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔

رپورٹس کے مطابق ورلڈ کپ سے قبل بھی راشد خان کو ون ڈے ٹیم کی قیادت کی پیشکش کی گئی تھی لیکن انہوں نے اسے مسترد کردیا تھا جس کے بعد انہیں گلبدین کا نائب مقرر کیا گیا تھا۔

محمد عامر ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ لیگ میں شرکت کیلیے تیار

ورلڈکپ میں عمدہ کارکردگی دکھانے والے پاکستانی پیسر محمد عامر انگلش ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ لیگ میں شرکت کی تیاری کرنے لگے ہیں۔

میگا ایونٹ کے سیمی فائنل سے باہر ہونے کے بعد دیگر کھلاڑیوں کے ہمراہ پاکستان واپس آنے کے بجائے انگلینڈ میں ہی قیام کرنے والے قومی ٹیم کے بولر ایسیکس کی نمائندگی کریں گے، انہوں نے گزشتہ روز اپنی کاؤنٹی ٹیم کیلیے فوٹو شوٹ بھی کروایا۔

واضح رہے ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ لیگ کا آغاز 18 جولائی کو ہو رہا ہے، ایونٹ کا فائنل 21 ستمبر کو برمنگھم کے ایجبسٹن گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا، وورسٹرشائر ریپیڈز دفاعی چیمپئن ہے۔

ورلڈ کپ سے باہر ہونے پر کوہلی کا شائقین کے نام پیغام

لندن: نیوزی لینڈ سے شکست اور ورلڈ کپ سے باہر ہونے پر بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے مایوس شائقین کے نام جذباتی پیغام لکھا ہے۔

نیوزی لینڈ سنسنی خیز مقابلے کے بعد بھارت کو ہرا کر ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچ گیا۔ بھارتی ٹیم کی شکست پر کرکٹ شائقین کے ساتھ بھارتی ٹیم بھی دلبرداشتہ ہے۔ بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے اس موقع پر شائقین کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے ہر حال میں بھارتی ٹیم کو سپورٹ کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے۔

ویرات کوہلی نے ٹوئٹر پر شکستہ دل کے ساتھ لکھا کہ سب سے پہلے میں ان تمام شائقین کا شکریہ اداکرنا چاہتاہوں جو اتنی بڑی تعداد میں ہمیں سپورٹ کرنے آئے۔ آپ نے اس ٹورنامنٹ کو ہمارے لیے یاد گار بنادیا اور ہم نے ٹیم کے لیے آپ کی محبت کو بھرپور طریقے سے محسوس کیا۔ ہم سب بھی بالکل آپ کی طرح مایوس ہیں اور ہمارے جذبات بھی آپ کے جذبات سے مختلف نہیں۔ ہم  نے وہ سب کچھ کیا جوہم کرسکتے تھے۔

نیوزی لینڈ سے شکست کے بعد بھارتی ٹیم سوشل میڈیا پر مذاق کا نشانہ بن گئی

کراچی: ورلڈ کپ میچ کے دوران نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد بھارتی ٹیم سوشل میڈیا پر مذاق کا نشانہ بن گئی۔

نیوزی لینڈ اور بھارت کے گزشتہ روز ہونے والے میچ سے قبل خیال کیا جارہا تھاکہ یہ میچ بھارت باآسانی جیت لے گا لیکن نیوزی لینڈ نے نہ صرف میچ میں شاندار کارکردگی دکھائی بلکہ بھارت کو ورلڈ کپ سے ہی باہر کر دیا اور بھارت کا ورلڈ کپ جیتنے کا خواب ادھورا رہ گیا۔

نیوزی لینڈ کے ہاتھوں بھارت کی شکست نے پاکستانیوں کے زخموں پر مرہم کا کام کیا اورپاکستانیوں کو قومی ٹیم کا ورلڈ کپ سے باہر ہونے کا غم بھلادیا۔ بھارت کی ہار پر جتنا نیوزی لینڈ میں جشن منایا گیا اس سے کہیں زیادہ پاکستانیوں نے اس جیت کا جشن منایا۔  پاکستانی صارفین سوشل میڈیا پر بھارت کو ہرانے پر نیوزی لینڈ کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔

پاکستانی سوشل میڈیا پر سرگرم ناصر خان جان نے بھارت کی شکست پر کہا انڈیا اگر چاہے تو ہم سے ابھی نندن والا کپ لے سکتا ہے۔

پاکستانی سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ وائرل ہونے والی تصویر نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن کی ہے جس میں انہوں نے پاکستانی کٹ  پہنی ہے یقیناً یہ تصویر فوٹوشاپ ہے تاہم پاکستانیوں نے اس تصویر کو بہت شیئر کیا ہے اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں میجر کین ولیمسن کا خطاب دیتے ہوئے کہا ہمیں آپ پر فخر ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک پاکستانی مداح کی تصویر بہت زیادہ وائرل ہورہی ہے جس نے نیوزی لینڈ کا جھنڈا ہاتھ میں پکڑا ہوا ہے اور نیوزی لینڈ کی جیت پر مسکرارہا ہے۔ یہاں تک کہ پاکستانیوں نے بھارت کو ہرانے پر نیوزی لینڈ کا نام بدل کر نیوزیستان رکھ دیا ہے۔

انوشکا شرما اور کوہلی کی یہ تصویر بھی بہت زیادہ وائرل ہورہی ہے جس میں انوشکا کوہلی کے برابر میں افسوسناک انداز میں بیٹھی ہوئی ہیں۔

ایک صارف نے لکھا 2 بھارتی جنہوں نے لائن کراس کرنے کی کوشش کی اورمنہ کی کھائی۔

بھارت کی شکست پر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈرا آرڈرن کی تصویر بہت زیادہ وائرل ہورہی ہے جس پر کیپشن لکھا ہوا ہے پاکستانیوں آپ کی بہن کشمیر بھی آزاد کروائے گی۔

بھارت کی شکست کو بیان کرنے کا ایکسپریس نیوز کا یہ انداز سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وائرل ہورہا ہے۔

Google Analytics Alternative