کھیل

محسن خان کی درخواست منظور، کرکٹ کمیٹی کی سربراہی سے دستبردار

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سابق ٹیسٹ کرکٹر محسن خان کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیںکرکٹ کمیٹی کی سربراہی سے دستبردار ہو گئے۔

پی سی بی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق محسن حسن خان نے پی سی بی چیئرمین احسان مانی سے ملاقات کے دوران درخواست کی تھی کہ انہیں بحیثیت سربراہ کرکٹ کمیٹی کے عہدے سے فارغ کیا جائے، جسے چیئرمین پی سی بی نے منظور کرلیا۔

احسان مانی کا کہنا تھا کہ محسن خان جیسی صلاحیت کے حامل شخص کو جانے دینا ہمیشہ بہت مشکل فیصلہ ہوتا ہے لیکن ہم ان کے اس فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم پاکستان کرکٹ کے لیے محسن خان کی خدمات کے مشکور ہیں اور ان کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔

پی سی بی کی پریس ریلیز میں محسن حسن خان کے بیان کو بھی شامل کیا گیا جس میں سابق ٹیسٹ کرکٹر کا کہنا تھا کہ ‘میں کرکٹ کمیٹی کی سربراہی دینے پر چیئرمین پی سی بی کا مشکور ہوں، میں اپنے ماضی کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے بورڈ میں ‘مناسب پوزیشن’ پر کام کرنے کے لیے بھی دستیاب ہوں۔

پی سی بی کی پریس ریلیز میں یہ بھی بتایا گیا کہ ‘کرکٹ ورلڈکپ 2019 کے اختتام کے بعد بورڈ کرکٹ ٹیم کی گذشتہ 3 سال کی کارکردگی کا جائزہ لے گا’۔

علاوہ ازیں یہ بھی بتایا گیا کہ پی سی بی کی کرکٹ کمیٹی کی سربراہی کا چارج مینیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان کو دے دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس اکتوبر میں پی سی بی نے 7 رکنی کرکٹ کمیٹی تشکیل دی تھی اور محسن خان کو اس کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

محسن خان کے ساتھ اس کمیٹی میں وسیم اکرم، مصباح الحق، مدثر نذر، ہارون رشید، زاکر خان اور عروج ممتاز کو شامل کیا گیا تھا۔

پی سی بی گورننگ بورڈ نے ٹیم، مینجمنٹ اورسلیکشن کمیٹی کے احتساب کی منظوری دیدی

لاہور: پی سی بی گورننگ بورڈ اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔

پی سی بی گورننگ بورڈ نے ورلڈ کپ کے بعد ٹیم ، مینجمنٹ ، سلیکشن کمیٹی کے احتساب کی منظوری دے دی، چیئرمین کی جگہ ایم ڈی کو تمام بڑے اختیارات منتقل ہوگئے، کوچز اور سلیکشن کمیٹی ممبران کے تقرر اور ڈومیسٹک کرکٹ کا اختیار بھی ایم ڈی کے پاس ہوگا تاہم کپتان کا انتخاب چیئرمین کے پاس ہی رہے گا۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ورلڈکپ کے بعد تمام کھلاڑیوں، ٹیم انتظامیہ اور سلیکشن کمیٹی کی تین سالہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔اس حوالے سے چیئرمین مزید تجویز کیلے رپورٹ پیش کریں گے۔

ایم ڈی وسیم خان نے اپنے دورہ انگلینڈ کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے ساتھ پلیئرز اور آ فیشل ایکسچینج پروگرام شروع ہوگا جب کہ بورڈ ممبران نے ٹیم کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کیا اورآ ئندہ میچوں میں ٹیم سے عمدہ کارکردگی کی توقع کا  اظہار کیا۔

ایم ڈی نے واضح کیا کہ آئندہ سال پاکستان ایشیاء کپ اور ٹی ٹوئنٹی کی میز بانی کرے گا جس پرگورننگ بورڈ اراکین نے ایشیا کپ کی میزبانی ملنے پر چیئرمین پی سی بی کو مبارکباد دی۔ ایشیاء کپ پاکستان میں کرکٹ کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

پبلشنگ پارٹنر سرفراز احمد کپتانی کے اہل نہیں، معین خان

 پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان معین خان نے کہا ہے کہ اگر ٹیم کے موجودہ کپتان سرفراز احمد کو ٹیم میں ہونے والی گروپ بندی کا علم تھا لیکن وہ پھر بھی اسے ختم نہ کرواسکے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کپتانی کے اہل نہیں ہیں۔

کراچی میں ایک تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معین خان نے ٹیم میں گروپ بندی، قومی ٹیم کی ورلڈکپ میں کارکردگی اور ٹیم کی ایونٹ میں واپسی کی بات کی۔

واضح رہے کہ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق بھارت کے خلاف شکست کے بعد سرفراز احمد نے ڈریسنگ روم میں بغیر کسی کھلاڑی کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ اگر ان کے ساتھ کچھ برا ہوا تو ان کے ساتھ مزید لوگ بھی گھر جائیں گے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مذکورہ معاملے پر سوال کے جواب میں معین خان نے بتایا کہ انہوں نے سرفراز احمد کے اس بیان کو نہیں سنا، تاہم اگر ایسے کچھ الفاظ سرفراز احمد نے کہے ہیں تو وہ غلط ہیں کیونکہ ابھی ٹورنامنٹ ختم نہیں ہوا۔

سابق وکٹ کیپر بیٹسمین نے کہا کہ ٹیم میں اگر گروپ بندی ہے اور سرفراز اس پر قابو پانے میں ناکام ہوگئے ہیں تو وہ پھر قیادت کے اہل نہیں ہیں۔

قومی ٹیم کی صلاحیت سے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ ٹیم جب مشکل میں آتی ہے تو اس کے بعد وہ مزید ابھر کر سامنے آتی ہے، ابھی ٹیم کی سیمی فائنل میں پہنچنے کی امیدیں ختم نہیں ہوئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنے تمام میچز جیتنے ہوں گے، تاہم جب ٹیم دلیری کے ساتھ کھیلتی ہے تو غیبی مدد بھی شامل ہوجاتی ہے۔

کپتانی اور چیف سلیکٹر کو ہٹانے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ‘ یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ کس کو رکھنا چاہیے اور کس کو نکال دینا چاہیے، کیونکہ ابھی ورلڈکپ جاری ہے۔’

خیال رہے کہ پاکستان ٹیم نے ورلڈکپ میں اب تک 5 میچز کھیلے ہیں جس میں صرف ایک میچ میں کامیابی حاصل ہوئی جبکہ 3 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ایک میچ بارش کی نظر ہوا۔

قومی ٹیم صرف 3 پوائنٹس کے ساتھ 10 ٹیموں میں 9ویں نمبر پر ہے جو صرف افغانستان سے آگے ہے جس نے ایونٹ میں کوئی کامیابی ہی حاصل نہیں کی۔

بھارتی ٹیم کو ورلڈکپ میں بڑا دھچکا لگ گیا

 لندن: بھارتی کرکٹ بورڈ نے ان فٹ اوپنر شیکھر دھون کے متبادل کے لیے آئی سی سی سے اجازت مانگ لی۔

بھارتی کرکٹ بورڈ حکام نے آئی سی سی ٹیکنیکل کمیٹی کو لکھا ہے کہ شیکھر دھون اب ورلڈکپ کے مزید میچوں میں نہیں کھیل پائیں گےاوردھون کی جگہ ربیشھ پنٹ کو شامل کرنا چاہتے ہیں۔

دھون نے آخری میچ آسٹریلیا کے خلاف کھیلا اور ایک سو سترہ رنز بناکر اپنی ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔  اسی اننگز کے دوران ان کے باہیں ہاتھ پر بال لگی تھی۔اس انجری سے وہ ابھی تک نجات نہیں پاسکے۔ ترجمان کے مطابق دھون کو جولائی کے دوسرے ہفتے تک آرام کی ہدایت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے خلاف میچ میں بھارتی ٹیم کے پیسر بھونیشور کمار ہیمسٹرنگ انجری کا شکار ہوکر میچ سے باہر ہوگئے تھے۔

بھارت سے شکست کے بعد قومی ٹیم کی نقل وحرکت محدود کردی گئی

 لاہور: ورلڈکپ میں بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد شدید عوامی ردعمل کے باعث ٹیم انتظامیہ نے کھلاڑیوں کی نقل وحرکت محدود کردی ہے۔

ورلڈکپ  میں بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد پاکستانی ٹیم میں اختلافات اور گروپنگ کے چرچے قومی کھلاڑیوں کے لندن پہنچنے کے بعد بھی جاری ہیں، شدید عوامی ردعمل کے بعد ٹیم انتظامیہ نے کھلاڑیوں کی نقل وحرکت بھی محدود کردی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیم  میں گروپنگ اور اختلافات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں  بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیاہے۔

ترجمان پی سی بی نے واضح کیا ہے کہ ایسی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں، تمام کھلاڑی سرفراز احمد کی قیادت میں متحد اور آئندہ میچوں میں بہترین پرفارمنس دینے کے لیے تیار ہیں، کرکٹرز لندن میں منگل اور بدھ کو آرام کریں گے ۔ ٹیم اتوار کو جنوبی افریقا کے خلاف میچ سے پہلے جمعرات کو لارڈز میں اپنا پریکٹس سیشن کرے گی۔

بھارت کے خلاف میچ میں قومی کھلاڑیوں کی مایوس کن پرفارمنس نے ٹیم میں گروپنگ کی اطلاعات کو ہوا دی ہے، کپتان سرفراز احمد کی جانب سے عماد وسیم، امام الحق، وہاب ریاض اور بابر اعظم پر گروپنگ کرنے کے الزامات کے اطلاعات نے ٹیم کے ماحول کو خراب بنادیا ہے۔

ذرائع کےمطابق شکست کے بعد ڈریسنگ روم میں کپتان کی جانب سے سخت باز پرس  پر کھلاڑی خفا ہیں، چیف کوچ مکی آرتھر نے بھی کھلاڑیوں کی خوب کلاس لیتے ہوئے  انہیں گیم پلان کے تحت کارکردگی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

پی سی بی ترجمان کا موقف ہے کہ ہر میچ کے بعد ٹیم میٹنگ کا ہونا معمول ہے، جیت کی صورت میں اگلےمیچز کے لیے کارکردگی کے تسلسل کو برقرار رکھنے پر زور دیا جاتا ہے تو ہار پر غلطیوں کی نشاندہی کرکے اگلے میچز میں انہیں نہ دہرانے کی بھی ہدایت کی جاتی ہے، روایت کے مطابق  یہ میٹنگ کی باتیں کبھی  پبللک  نہیں کی جاتی۔

ورلڈکپ میں سیمی فائنل تک رسائی پاکستانی ٹیم کے لیے ایک خواب بن چکی ہے، اگلے چارمیچوں میں شکست کے ساتھ دوسری ٹیموں کی پرفارمنس سے ہی یہ خواب حقیقت بن سکتا ہے۔

سخت تنقید کے بعد ثانیہ مرزا کا ٹوئٹر اکاؤنٹ خاموش

 لاہور: پاکستانی صارفین کی جانب سے سخت تنقید کے بعد ثانیہ مرزا کا ٹوئٹر اکاؤنٹ وقتی طور پر خاموش ہو گیا ہے۔

پاک بھارت میچ سے قبل شیشہ بار میں شعیب ملک سمیت پاکستانی کرکٹرز کی سرگرمیوں پر مبنی ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد ثانیہ مرزا نے اس کو نجی زندگی میں دخل اندازی قرار دیتے ہوئے سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا، پاکستانی اداکارہ وینا ملک سمیت دیگر ناقدین کو ترکی بہ ترکی جواب بھی دیے، بیٹے اذہان کو شیشہ بار جیسے غیر صحت مندانہ ماحول میں لے جانے کے حوالے سے وضاحتیں بھی پیش کیں۔

پاکستانی صارفین کی جانب سے مسلسل تابڑ توڑ حملوں کے بعد بالآخر ثانیہ مرزا نے فی الحال ٹوئٹر پر غیر متحرک ہونے میں ہی عافیت جانی ہے۔

قومی کرکٹ ٹیم میں گروہ بندی کی بازگشت سنائی دینے لگی

مانچسٹر: ورلڈکپ میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی پاکستان کرکٹ ٹیم میں گروہ بندی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق بھارت سے شکست کے بعد کپتان سرفراز احمد نے ڈریسنگ روم میں کھلاڑیوں کی کلاس لے لی، میچ کے بعد انہوں نے عماد وسیم، امام الحق، بابر اعظم اور وہاب ریاض پر اپنے خلاف گروپ بنانے کا الزام لگا دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ”ٹیم بھارت کے خلاف میچ جیت سکتی تھی مگر کھلاڑیوں نے جان نہیں لڑائی، اس سے پہلے آسٹریلیا کے خلاف بھی جیتی بازی گنوا دی تھی، اچھی طرح جانتا ہوں کہ کون ایسا کر رہا ہے“۔

کوچ مکی آرتھر اس دوران خاموش رہے البتہ بعد میں انہوں نے صرف ”کرکٹنگ“ معاملات پر ہی بات کی، ٹیم کے میڈیا منیجر رضا راشد نے کہا ہے کہ اختلافات کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، قومی کرکٹرز سرفراز احمد کی قیادت میں متحد ہیں۔

شعیب اختر نے سرفراز احمد کو احمق کپتان قرار دے دیا

راولپنڈی: سابق قومی کرکٹر شعیب اختر نے کپتان سرفراز احمد کو ’ذہانت سے عاری‘ کپتان قرار دے دیا۔

بھارت سے ورلڈ کپ میچ میں بد ترین شکست کے بعد سابق قومی کرکٹرشعیب اخترنے کپتان سرفرازاحمد کو ’ذہانت سے عاری‘ کپتان قراردیتے ہوئے کہا کہ انہیں عقل ہی نہیں کہ بحیثیت  کپتان کرنا کیا ہے۔ سابق بولر نے بھارت کے خلاف میچ میں سرفراز کے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کے فیصلے کوبھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سرفرازکی جانب سے بالکل غلط فیصلہ لیا گیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہم ہدف کے تعاقب میں کمزور ہیں۔

شعیب اختر نے ناصرف قومی ٹیم کے کپتان سرفراز کوآڑے ہاتھوں لیا بلکہ فاسٹ بالر حسن علی کو بھی کھری کھری سناتے ہوئے ان کی بالنگ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ واہگہ بارڈر پر چھلانگیں مارنے سے کچھ نہیں ہوتا، کامیابی کے لیے گراؤنڈ میں کچھ کرکے دکھانا ضروری ہوتا ہے، حسن علی کے ذہن میں بس پی ایس ایل ہے اوروہ دوسرے میچوں پرتوجہ نہیں دے رہے۔

واضح رہے کہ بھارت نے ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف جیت کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے گرین شرٹس کو 89 سے شکست دے دی تھی۔

Google Analytics Alternative