بین الاقوامی

طالبان نے اسیر رہنماؤں کے قطر پہنچنے پر غیرملکی مغوی پروفیسرز رہا کر دیئے

کابل: افغان جیلوں میں قید 3 طالبان رہنما آزادی کا پروانہ ملنے کے بعد آج قطر میں واقع طالبان کے سیاسی دفتر پہنچ گئے ہیں جس کے بعد افغان طالبان نے بھی دو غیر ملکی مغوی پروفیسرز کو رہا کر دیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان سے رہا ہونے والے 3 اہم طالبان رہنماؤں حاجی ملی خان، حافظ راشد اور انس حقانی آج قطر پہنچ گئے جہاں ان کا استقبال طالبان کے سیاسی دفتر کے عمائدین نے کیا۔ رہا ہونے والوں میں شامل نوجوان رہنما انس حقانی دراصل حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی کے بھائی ہیں۔

طالبان رہنماؤں کے معاہدے کے تحت محفوظ مقام پر پہنچ جانے کے بعد افغان طالبان نے بھی معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے مغوی امریکی پروفیسر کیون کنگ اور آسٹریلوی پروفیسر ٹموتھی ویکس کو رہا کر دیا۔ دونوں پروفیسرز امریکن یونیورسٹی آف افغانستان میں درس و تدریس سے منسلک تھے اور دونوں کو اگست 2016 میں کابل سے اغوا کیا گیا تھا۔

گزشتہ ہفتے افغان صدر اشرف غنی نے دو غیر ملکی پروفیسروں کی رہائی کے بدلے میں افغان طالبان کے تین اہم قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اعلان کے دو روز بعد افغانستان کیلیے امریکی سفیر جان باس نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں قیدیوں کے تبادلے میں تعطل پیدا ہونے کا انکشاف کیا تھا جس سے معاہدے پر عمل درآمد ناکام ہوتا نظر آرہا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھی بھارت سے تعلق رکھنے والے 3 مغوی انجینیئرز کی رہائی کے بدلے حقانی گروپ کے ایک رکن سمیت طالبان کے 10 سرکردہ کمانڈرز کو رہا کیا گیا تھا۔ طالبان رہنماؤں کے بدلے غیر ملکی مغویوں کی رہائی کو فریقین امن مذاکرات کی کامیابی قرار دیتے ہیں۔

اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ نے نوجوان خاتون باکسر کی جان لے لی

کیف: یوکرائن کی 18 سالہ باکسنگ چیمپئن امینہ بلاخ کانوں میں ہیڈ فون لگائے اور اسمارٹ فون براؤزنگ کرتے ہوئے پٹڑیعبور کرنے کے دوران ٹرین کی ٹکر سے ہلاک ہوگئیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرائن میں یورپی یوتھ باکسنگ چیمپئن شپ کی فاتح 18 سالہ امینہ بلاخ ٹرین کی ٹکر سے ہلاک ہوگئیں۔ وہ فارمیسی سے نکل کر پٹڑی عبور کر رہی تھیں کہ حادثے کا شکار ہوگئیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ باکسنگ چیمپئن کانوں میں ہیڈ فون ہونے کی وجہ سے ریل کے آنے کی آواز نہیں سُن سکیں جب کہ وہ اپنے اسمارٹ فون پر براؤسنگ میں بھی مصروف ہونے کے باعث ریڈ سگنل کو بھی نہیں دیکھ سکیں۔

امینہ بلاخ جس ٹرین سے ٹکرائیں وہ کیف سے فاسٹو کی جانب محو سفر تھی، ریلوے کراسنگ پر ریڈ سگنل بھی تھا اور باڑ بھی موجود تھی لیکن امینہ نے اس جانب توجہ نہیں دی۔ آخری لمحات میں ریل کی آمد سے خود کو بچانے کی ناکام کوشش بھی کی۔ خاتون کو اسپتال لے جایا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکیں۔

ہالینڈ میں شاتم رسول گیرٹ ولڈرز کے قتل کے منصوبے پر پاکستانی نوجوان کو 10 سال قید

ایمسٹر ڈیم: ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے عالمی مقابلے کا اعلان کرنے والے اسلام مخالف متعصب سیاست دان گیرٹ ولڈرز کو جان سے مارنے کی منصوبہ بندی کرنے پر پاکستانی شہری کو 10 سال قید کی سزا سنادی گئی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ہالینڈ کے متنازع ترین اور اسلام دشمن سیاست دان ملعون گیرٹ ولڈرز کو قتل کرنے کی غرض سے فرانس سے ہالینڈ آنے والے 27 سالہ پاکستانی شہری جنید کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ جنید کو ٹرین اسٹیشن سے گزشتہ برس گرفتار کیا گیا تھا۔

اگرچہ جنید اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا لیکن جنید کی دھمکی پر ملعون گیرٹ ولڈرز اپنا گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ معطل کرنے پر مجبور ہوگیا تھا۔

جنید نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر ایک پیغام بھی نشر کیا تھا جس میں ملعون گیرٹ ولڈر کو نہ صرف قتل کرنے کا عندیہ دیا گیا تھا بلکہ مقامی مسلمانوں سے اس سلسلے میں مدد کرنے کی درخواست بھی کی تھی۔ جنید کی فیس بک پر شیئر کی گئی ویڈیو کو ڈیڑھ لاکھ سے زائد لوگوں نے دیکھا تھا اور 14 ہزار بار شیئر کی گئی تھی۔

پراسیکیوٹر کے مطابق جنید نے گیرٹ ولڈر کو قانون ساز ادارے میں گھس کر قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس پرعدالت نے جنید کی سزا کو 6 سال سے بڑھا کر 10 سال کردیا تاہم نہ تو پراسیکیوٹر نے اور نہ ہی عدالت نے واضح کیا کہ جنید نے قتل کا کون سا منصوبہ کب؟ کہاں اور کیسے تیار کیا تھا؟

ہانگ کانگ میں پولیس کا يونيورسٹی پر دھاوا، طلبہ سے زبردست جھڑپیں

ہانگ کانگ میں چینی حکومت کے خلاف جاری احتجاج کو ختم کرانےکے لیے پولیس نے پولی ٹيکنک يونيورسٹی پر دھاوا بول دیا۔

پولی ٹيکنک يونيورسٹی کے کیمپس میں دو روز سے طلبہ محصور ہیں جو چین کی پالیسیوں کے خلاف شدید احتجاج کررہے ہیں جبکہ پولیس نے چاروں طرف سے یونی ورسٹی کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ہانگ کانگ یونی ورسٹی میں پولیس اور طلبہ کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں اور کیمپس میدان جنگ بن گیا ہے۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد طلبہ کو گرفتار بھی کرلیا ہے۔

پوليس نے مظاہرين کو منتشر کرنے کے ليے آنسو گيس کی شیلنگ اور تیز دھار مائع استعمال کیا ہے ۔ دوسری جانب مظاہرين چھتوں سے سکیورٹی اہلکاروں پر پٹرول بم پھینک رہے اور تیر برسا رہے ہیں۔ پولیس نے مظاہرین کو خبردار کیا ہے کہ اب ان پر براہ راست فائرنگ کی جائے گی۔ چینی فوج پیپلز لبریشن آرمی کے دستے بھی ہانگ کانگ کی سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ امن و امان کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔

ہانگ کانگ میں جون میں حکومت نے ایک قانون متعارف کرایا تھا جس کے تحت ہانگ کانگ کے قیدیوں کے مقدمات کو چین منتقل کردیا جاتا اور کسی بھی مشتبہ شخص کی چین کو حوالگی کی راہ ہموار کی جاتی۔

اس قانون اور چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کے خلاف یہ مظاہرے شروع ہوئے جو جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئے۔ ان مظاہروں میں بہت سے لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے۔ حکومت نے اس قانون کو واپس لے لیا ہے لیکن مظاہرین پولیس تشدد میں ہلاک و زخمی افراد کے لیے انصاف کا مطالبہ کررہے ہیں۔

سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں سے متعلق چین کی حساس دستاویزات افشا

نیویارک: چین کے مسلم اکثریتی علاقے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن سے متعلق حکومتی حساس دستاویزات افشا ہوگئیں جن میں چینی صدر نے سرکاری حکام کو بالکل ذرا رحم نہ کھانے کا حکم دیا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو 403 صفحات پر مشتمل چینی خفیہ سرکاری دستاویزات موصول ہوئی ہیں۔ یہ دستاویزات چینی سیاسی اسٹیبلشمنٹ کے رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا کو فراہم کی ہیں۔ ان دستاویزات سے سنکیانگ میں ایغور مسلم اقلیت کے خلاف سکیورٹی کریک ڈاؤن کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

صدر شی جن پنگ نے سرکاری اہلکاروں کو حکم دیا کہ وہ سنکیانگ میں مسلمانوں پر سکیورٹی کریک ڈاؤن کے دوران علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف ‘قطعا کوئی رحم نہ کھائیں‘۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ چینی حکومت نے سنکیانگ میں ایغور اور دیگر مسلم اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں شہریوں کو حراستی مراکز میں بند کر رکھا ہے، جنہیں سرکاری طور پر تربیتی مراکز کہا جاتا ہے۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق ان دستاویزات میں وہ سرکاری احکامات اور نگرانی سے متعلق رپورٹیں بھی ہیں جن میں ایغور مسلم اقلیتی آبادی کو کنٹرول کرنے کی بات کی گئی ہے۔

دستاویزات کے مطابق سنکیانگ اور مسلم آبادی سے متعلق سرکاری پالیسی کے خلاف کوئی مزاحمت موجود نہیں کیونکہ اختلاف کرنے والے مقامی حکام کو خدشہ ہے کہ اگر انہوں نے نے ایسا کیا تو خود ان کے اپنے خلاف بھی کارروائی اور سزا ہوسکتی ہے۔

ایران میں پٹرول مہنگا ہونے کے خلاف احتجاج، ہلاکتیں 36 ہوگئیں

تہران: ایران میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کے دوران سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 36 افراد ہلاک ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ کردیا گیا ہے۔ مہنگائی کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے اور شدید احتجاج کیا۔ دارالحکومت تہران سے شروع ہونے والا یہ احتجاج اب مختلف شہروں اور قصبات تک جا پہنچا ہے۔

متعدد مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور سیکیورٹی اہلکاروں نے احتجاج کو سختی سے کچلنے کی کوشش کی۔ فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست فائرنگ کی اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں 4 روز کے دوران 36 افراد ہلاک ہوچکے اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔

پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 40 سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے پٹرول مہنگا کرنے کی حمایت کرتے ہوئے احتجاج کرنے والوں کو غیر ملکی آلہ کار قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی معیشت مالی بحران کا شکار ہے اور حکومت نے پٹرول کی قیمت 10 ہزار ریال فی لٹر سے بڑھا کر 15 ہزارریال فی لیٹر کرنے کے ساتھ اس کی راشن بندی بھی کردی ہے۔ اس قیمت پر ہر نجی کار کو ایک ماہ میں صرف 60 لیٹر پٹرول ملے گا۔ اس سے زائد پٹرول خریدنے پر قیمت 30 ہزار ریال فی لیٹر ہو گی۔

مسلم پرسنل لا بورڈ کا بابری مسجد فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان

لکھنؤ: جمعیت علمائے ہند کے بعد مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بھی سپریم کورٹ کے بابری مسجد کیس کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کسی دوسری جگہ مسجد کی تعمیر کے لیے 5 ایکڑ زمین دینے کی مخالفت کرتے ہوئے ایک مہینے کے اندر بابری مسجد کیس کے فیصلے پر عدالت سے دوبارہ رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مسلم پرسنل لا کے سیکرٹری ظفریاب جیلانی نے کہا کہ شریعت کے تحت مسجد اللہ کا گھر ہے جسے کسی اور کو نہیں دیا جا سکتا۔ مسلم لا بورڈ  5 ایکڑ زمین کی پیشکش کو بھی مسترد کرتا ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرے گا۔

گزشتہ روز جمعیت علمائے ہند نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت مسلمانوں کو مسجد کی تعمیر کیلیے 5 ایکڑ زمین کی پیشکش کو رد کردیا تھا اور بابری مسجد فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست جمع کرانے کا اعلان کیا تھا۔

قبل ازیں سپریم کورٹ کے فیصلے کے روز ہی مسلم رکن اسمبلی اور سیاسی رہنما اسد الدین اویسی نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں مسجد کے لیے زمین کی خیرات نہیں بلکہ بابری مسجد چاہیے۔

تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ مسلم جماعتیں، ارکان اسمبلی اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اجتماعی طور پر بابری مسجد فیصلے کو چیلنج کریں گے یا انفرادی حیثیت میں پٹیشن دائر کریں گے۔ اس حوالے سے رابطوں کا آغاز ہوگیا ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے 9 نومبر کو اپنے فیصلے میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے اور مسلمانوں کو ایودھیا میں ہی دوسری جگہ مسجد کی تعمیر کے لیے 5 ایکڑ زمین دینے کا حکم دیا تھا۔

قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کے پیچھے ایران دشمن عناصر ہیں، آیت اللہ خامنہ ای

تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی حمایت کرتے ہوئے قیمتوں میں اضافے کے خلاف مظاہرے کرنے والوں کو ملک دشمن عناصر کی کٹھ پتلیاں قرار دے دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے حکومت کی جانب سے گیس اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک کڑا فیصلہ ہے اور پریشانی کا باعث بھی ہے لیکن ہمیں اتحاد اور اتفاق کے ساتھ ان سخت حالات کا مقابلہ کرنا ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے موقف اختیار کیا کہ پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ماہرین کی رائے پر کیا گیا اور اس پر عمل درآمد ناگزیر ہے تاہم حکومتی عہدے داروں کو دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ شہریوں کو مشکلات کا کم سے کم سامنا ہوں۔

سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے قیمتوں میں اضافہ کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں کھلونا بننے سے باز رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں انارکی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور تخریب کاروں سے سختی کے ساتھ نمٹا جائے گا۔

سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے پولیس سے جھڑپوں میں مظاہرین کی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے حالات درست طریقے سے قابو میں نہیں آسکے جس کی وجہ سے متعدد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور مظاہرین نے کچھ حکومتی مراکز بھی تباہ کردیئے۔

واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے عائد اقتصادی پابندیوں کے باعث ایران کو شدید مالی بوجھ کا سامنا ہے جس سے نکلنے کے لیے حکومت نے گیس اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔

Google Analytics Alternative