بین الاقوامی

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے 6 نوجوان شہید اور 100 زخمی

سری نگر: قابض بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 6 کشمیری شہید اور 100 زخمی ہوگئے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خود مختاری پر کاری وار کرکے مودی سرکار نے پوری وادی کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا ہے، خصوصی حیثیت کے خاتمے کیخلاف سری نگر، پلوامہ، بارہ مولا اور شوپیاں میں کشمیری احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے اور شدید نعرے بازی کی۔

قابض بھارتی فوج نے انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے نہتے اور معصوم مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کردی جس کی زد میں آکر 6 نوجوان شہید ہوگئے جب کہ 100 کشمیری زخمی ہوئے۔ زیادہ تر مظاہرین پیلٹ گولیاں لگنے کے باعث زخمی ہوئے جب کہ آنسو گیس کی شیلنگ سے شہری بے حال ہوگئے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل مودی سرکار نے آرٹیکل 35-اے اور 370 کو منسوخ کرکے کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کو ختم کردیا تھا اور کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرکے بھارتی یونین کا حصہ بنا دیا تھا جس کے بعد سے تمام کشمیری رہنما گرفتار، کرفیو نافذ، نیٹ اور ٹیلی فون سروس معطل ہیں۔

لوک سبھا میں مقبوضہ کشمیر کیخلاف متنازع قانون سازی پر ہنگامہ آرائی اور شور شرابہ

نئی دلی: مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے متعلق بل لوک سبھا میں پیش کیا گیا تو اپوزیشن ارکان نے سخت مخالفت کی اور مودی سرکار کی جارحیت کیخلاف شدید احتجاج کیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق راجیہ سبھا سے منظوری کے بعد وزیر داخلہ امیت شاہ نے آئین کے آرٹیکل 35-اے اور 370 کی منسوخی کا بل آج لوک سبھا میں پیش کیا تو اپوزیشن ارکان نے پہلے سے پیش کردہ تحریک التوا پر اسپیکر سے اجلاس کا ایجنڈا ملتوی کرنے کی درخواست کر دی۔

اسپیکر لوک سبھا نے اپوزیشن ارکان کی درخواست کو بلڈوز کرتے ہوئے وزیر داخلہ کو بل پیش کرنے کی ہدایت کی جس اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور بی جے پی کی عددی اکثریت رکھنے کے باعث اسمبلی میں غنڈہ گردی کیخلاف شدید احتجاج کیا۔

لوک سبھا میں کانگریس کے رہنما نے ادھیر رانجن چوہدری نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں مودی حکومت نے امریکی ثالثی کے معاملے پر کہا تھا کہ یہ پاکستان اور بھارت کا اندرونی معاملہ ہے تو کیا اب یہ ایک اندرونی معاملہ نہیں رہا۔

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنر جی نے بل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بل کو تسلیم نہیں کرتے اور ہر سطح پر متنازع بل کیخلاف آواز اُٹھائیں گے۔ اتنی اہم اور بڑی قانون سازی یک طرفہ طور پر محض عددی اکثریت کی بنیاد پر نہیں کی جا سکتی۔ اس معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جانا چاہیئے تھا۔

دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے بھی مودی سرکار کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاہ قانون کو عددی طاقت کی بنیاد پر منظور کروا کر آئین کی توہین کی گئی ہے جس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ وقتی کامیابی پر خوشی سے نہال بی جے پی کو مستقبل میں شرمندگی اور پچھتاوے کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

وزیر داخلہ امیت شاہ نے اپوزیشن کے شور شرابے کے دوران بڑھکیں مارتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جان لے کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور کشمیر کے لیے اپنی جان بھی قربان کرنے کو تیار ہیں۔ حکومتی ارکان کی بڑھکوں اور اپوزیشن کے شور شرانے کے دوران بل منظور کرلیا گیا۔

 

چین نے مقبوضہ کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے عمل کو ناقابل قبول قرار دیدیا

بیجنگ: چین نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے دو حصوں میں تقسیم کرنے کے عمل کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔  

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق چین نے مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی تقسیم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے لداخ کی بھارتی یونین میں شمولیت پر اعتراض اُٹھایا اور اس اقدام کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

چین نے اپنے بیان میں بھارت کو لداخ کے علاقے میں سرحد کی خلاف ورزی سے باز رہنے پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت چین کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں کی پاسداری کرنی چاہیئے بصورت دیگر چین ردعمل کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

چین کے ترجمان وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر دو طرفہ معاملہ ہے جسے  پاکستان اور بھارت کو باہمی رضامندی اور پُرامن طریقے سے حل کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے سے دو  ریاستوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیا ہے جب کہ لداخ کے چند علاقوں پر چین ملکیت کا دعویٰ رکھتا ہے۔

کشمیر تنازع: راہول گاندھی نے بھارتی تباہی کی پیش گوئی کردی

نئی دہلی: بھارتی آئین میں کشمیر سے متعلق آرٹیکلز 370 اور 35 اے کی صدارتی حکم نامے سے منسوخی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے اپنے مذمتی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ اس حرکت کے بھارتی قومی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

راہول گاندھی نے اپنے تازہ ٹویٹ میں لکھا: ’’جموں و کشمیر کے ٹکڑے کرنے، منتخب نمائندوں کو قید کرنے اور ہمارے آئین کی خلاف ورزی سے قومی یکجہتی کو آگے نہیں بڑھایا جاسکتا۔ یہ قوم عوام سے بنی ہے، زمین کے پلاٹوں سے نہیں۔ انتظامی اختیار کا یہ غلط استعمال ہماری قومی سلامتی کےلیے سنگین مضمرات کا حامل ہے۔‘‘

واضح رہے کہ کشمیر کے بارے میں مودی سرکار کے اس فیصلے پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس جاری ہے جس میں پاکستان کی جانب سے ردِعمل کا لائحہ عمل طے کیا جارہا ہے۔

بھارت کا مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم اور 2 حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان

نئی دہلی: بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرتے ہوئے ریاست کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کردیا۔

مودی سرکار نے صدارتی فرمان جاری کرتے ہوئے بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے کوختم کردیا جس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی علاقہ کہلائے گی جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔

مودی سرکار نے مقبوضہ وادی کو 2 حصوں میں بھی تقسیم کرتے ہوئے وادی جموں و کشمیر کو لداخ سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لداخ کو وفاق کا زیر انتظام علاقہ بنادیا گیا جس کی قانون ساز اسمبلی نہیں ہوگی۔

 بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ راجیہ سبھا میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرنے کا بل بھی پیش کردیا۔ اجلاس کے دوران بھارتی اپوزیشن نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر شدید احتجاج کیا۔

بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں اسرائیل جیسے ہتھکنڈے اختیار کررہی ہے۔ آرٹیکل 370 ختم ہونے سے فلسطینیوں کی طرح کشمیری بھی بے وطن ہوجائیں گے، کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں غیرمسلم آبادکار کشمیر میں آباد ہوجائیں گے، جو ان کی زمینوں، وسائل اور روزگار پر قابض ہوجائیں گے۔

کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت ختم ہونے کا خطرہ

بھارت کے آئین کی دفعہ 370 کے تحت ریاست جموں کشمیر کو وفاق میں ایک خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے کی اجازت ہے اور متعدد معاملات میں بھارتی وفاقی آئین کا نفاذ جموں کشمیر میں منع ہے۔

آرٹیکل کے تحت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے سوا بھارت کا کوئی بھی شہری یا ادارہ جائیداد نہیں خرید سکتا جبکہ سرکاری نوکریوں، ریاستی اسمبلی کے لیے ووٹ ڈالنے اور دوسری مراعات کا قانونی حق صرف کشمیری باشندوں کو حاصل تھا۔

دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی سے مقبوضہ کشمیر کی آبادیاتی، جغرافیائی اور مذہبی صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی۔ مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت ختم ہوجائے گی اور وہاں غیر مسلموں اور غیر کشمیریوں کو بسایا جائے گا۔

مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی گرفتار

سری نگر: مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد کسی ممکنہ ردعمل سے خوف زدہ بھارت نے پہلے سے نظر بند وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو باضابطہ طور پر حراست میں لے لیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں باضابطہ طور پر سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمرعبداللہ کو گرفتار کرلیا ہے قبل ازیں ان رہنماؤں کو گھروں پر نظر بند کیا گیا تھا۔

بھارت نے اپنے آئین میں سے 35-اے اور آرٹیکل 370 کو ختم کرکے کشمیریوں کو حاصل نیم خود مختاری اور خصوصی اختیارات کو ختم کر دیا ہے جب کہ کشمیر کو جغرافیائی طور پر بھی دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔

گزشتہ شب سوشل میڈیا پرعمر عبداللہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج نصف شب انہیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔کشمیر کے دیگر رہنماؤں کو بھی نظر بند کیا جا رہا ہے۔ ٹویٹ میں انہوں نے کہا ہے کہ اب کشمیر میں جو کچھ ہو گا اس کے بعد ہی کشمیریوں سے ملاقات ہو گی۔ اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔

دوسری جانب محبوبہ مفتی نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ہم جیسے منتخب نمائندوں کو بھی گھروں میں نظر بند کیا جا رہا ہے،کشمیری عوام کی آواز بند کی جا رہی ہے،دنیا دیکھ رہی ہے۔ اس سے قبل مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے مودی سرکار کو خبردار کیا تھا کہ وادی کی خصوصی حیثیت کو نہ چھیڑا جائے۔

 

اقوام متحدہ کی میانمار فوج سے منسلک 59 کمپنیوں پر مالی پابندی کی سفارش

نیویارک: اقوام متحدہ نے ایسی 59 غیر ملکی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو میانمار فوج کے ساتھ کسی بھی کاروباری شراکت سے منسلک رہی ہوں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی اور قتل عام کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے اپنی رپورٹ میں میانمار کی اُن کمپنیوں پر بھی مالی پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کی ہے جو میانمار فوج کے ساتھ وابستہ ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 59 غیرملکی کمپنیاں میانمار آرمی کے ساتھ مل کر مختلف اقسام کے کاروبار کر رہی ہیں۔ یہ کمپنیاں فرانس، بیلجیئم، سوئٹزرلینڈ، ہانگ کانگ اور چین کی ہیں جب کہ 14 ایسی کمپنیوں کا بھی پتہ لگایا گیا ہے جو میانمار کو اسلحہ اور جنگی ساز و سامان فروخت کرتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے اپنی رپورٹ میں مزید انکشاف کیا ہے کہ میانمار کو اسلحہ اور جنگی ساز و سامان فراہم کرنے والی یہ کمپنیاں اسرائیل، جنوبی کوریا، بھارت اور چین کی ملکیت ہیں۔ جس طرح فوجی عہدیداروں پر پابندیاں عائد کی گئیں اسی طرح ان کمپنیوں پر بھی پابندی عائد کی جائے۔

اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے روہنگیا اقلیت کے خلاف کیے جانے والی فوج کے آپریشن کو نسل کشی کی نیت سے کی جانے والی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فوجی آپریشن کے نتیجے میں 7 لاکھ تیس ہزار سے زائد روہنگیا آبادی کے لوگ رخائن ریاست سے اپنے جانیں بچا کر بنگلہ دیش کے کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے۔

 

افغان پولیس اہلکار نے اپنے ساتھیوں پر فائرنگ کر کے 7 کو قتل کردیا

قندھار: افغانستان میں طالبان سے ہمدردی رکھنے والے ایک پولیس اہلکار نے تھانے میں اپنے ہی ساتھی اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں 7 اہلکار ہلاک ہو گئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار میں ایک پولیس اہلکار نے تھانے میں اپنے ساتھی اہلکاروں پر فائرنگ کردی اور فرار ہوگیا، فائرنگ کی زد میں آکر 7 پولیس اہلکار لقمہ اجل بن گئے۔ مفرور قاتل اہلکار کی تلاش جاری ہے۔

دوسری جانب مقامی طالبان ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فائرنگ کرنے والا پولیس اہلکار طالبان جنگجو تھا جسے اسی کام کے لیے پولیس میں بھرتی کروایا گیا تھا۔ طالبان نے ایسے مزید حملوں کی دھمکی بھی دی ہے۔

ادھر قندھار کے ضلع شاہ ولی کوٹ کے انتظامیہ کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ آور پولیس اہلکار کی تلاش میں چھاپے مارے جارہے ہیں اور ملزم کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ داخلی حملے کی تفتیش کی جا رہی ہے کہ کس طرح طالبان جنگجو پولیس میں بھرتی ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں قندھار پولیس کے چیف اور طالبان کے سخت جان مخالف جنرل عبدالرزاق کو گورنر کی سیکیورٹی پر مامور اہلکار نے فائرنگ کرکے اس وقت قتل کردیا تھا جب وہ گورنر ہاؤس میں ایک اہم میٹنگ کے بعد ہیلی پیڈ کی جانب جا رہے تھے۔

Google Analytics Alternative