بین الاقوامی

افریقی ملک برکینافاسو میں مسجد پر فائرنگ، 16 نمازی شہید

اواگادوگو: افریقی ملک برکینا فاسو میں مسلح افراد نے مسجد میں داخل ہوکر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 16 نمازی شہید ہوگئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افریقی ملک برکینا فاسو کی مسجد میں مسلح افراد نے حملہ کردیا اور اندھا دھند فائرنگ کی جس سے 13 نمازی موقع پر ہی دم توڑ گئے جب کہ 3 زخمیوں نے اسپتال میں جان جانِ آفریں کی سپرد کردی۔

فائرنگ کی زد میں آکر 7 نمازی زخمی بھی ہوئے جن میں سے 2 کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ یہ مسجد پڑوسی ملک مالی کی سرحد کے نزدیک واقع ہے اور دہشت گردی کے واقعے کے بعد سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوگئے۔

پولیس نے واقعے کے بعد علاقہ کا محاصرہ کرلیا ہے تاہم حملہ آوروں کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ہے اور نہ ہی حملہ آور کو شناخت کیا جا سکا ہے۔ پولیس نے عینی شاہدین کے بیانات قلم بند کرلیے ہیں۔

واضح رہے کہ اس علاقے میں مالی سے سرحد عبور کرکے شدت پسند مسلح گروہ نے اپنا قبضہ جمالیا ہے جس کے باعث سیکیورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں جب کہ فرقہ ورانہ فسادات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

شام میں ترک فوج کی کارروائی میں خاتون سیاست دان سمیت 9 شہری ہلاک

تل ابیض: شام میں ترک فوج کی کرد جنگجوؤں کے خلاف آپریشن میں ایک خاتون سیاست دان سمیت 9 شہریوں ہلاک ہوگئے جب کہ لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق شام کے کرد علیحدگی پسندوں کے زیر تسلط سرحدی علاقوں تل ابیض اور راس العین میں ترک فوج کے کردوں کیخلاف ’چشمہ امن آپریشن‘ کو آج چوتھا روز ہے جس کےدوران سرحد کے دونوں اطراف 30  سے زائد شہریوں کی ہلاکت ہوئیں۔

دوسری جانب ترک صدر طیب اردگان نے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے ٹیلی فونک گفتگو میں ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ کرد دہشت گرد تنظیم وائے پی جے کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔ علیحدگی پسند جماعتوں کے خاتمے سے ہی شامی مہاجرین کی اپنی گھروں کو رضاکارانہ اور محفوظ واپسی ممکن ہے۔

ادھر آج شامی فوج کی حمایت یافتہ عسکری گروپ کی ایک مرکزی شاہراہ پر کارروائی کی زد میں آکر ایک کرد سیاست دان اور سماجی کارکن ہروین خلف ہلاک ہوگئیں جب کہ دیگر 8 افراد بھی ان حملوں کا شکار  بن گئے تاہم ترک حمایت یافتہ گروپ شامی نیشنل آرمی نے ان ہلاکتوں کی تردید کی ہے۔

ترک فوج کی کارروائی اور کردوں کی جانب سے مزاحمت کے باعث علاقہ میدان جنگ بن گیا ہے جس کے باعث ایک طرف 20 لاکھ کے بے گھر ہوجانے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے تو وہیں ایک جیل سے 5 داعش جنگجوؤں کے فرار ہونے کی اطلاعات سے اسیر داعش جنگجوؤں کی نگرانی کا مسئلہ بھی کھڑا ہوگیا ہے۔

جاپان میں سمندری طوفان ’ہگی بس‘ سے 19 افراد ہلاک، 140 سے زائد زخمی

ٹوکیو: جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں سمندری طوفان ’ہگی بس‘ کے باعث 19 افراد ہلاک اور 140 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق جاپان میں آنے والے سمندری طوفان ’ ہگی بس‘ کو گزشتہ 60 سالوں بعد خطرناک ترین طوفان کہا جارہا ہے جس میں لینڈسلائیڈنگ اور دیگر واقعات میں 19 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے جب کہ 140 سے زائد زخمی ہیں اور درجنوں افراد لاپتہ ہیں۔

Typhone Hegibus

سمندری طوفان ’ ہگی بس‘ جاپان کے جنوب مغرب میں واقع  جزیرہ نما علاقے ’ایزو‘ سے ٹکرانے کے بعد 225 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مشرقی ساحل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ جاپانی حکومت نے 60 لاکھ افراد کو فوری طور پر گھربار چھوڑ کر محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی ہیں۔

Typhone Hegibis 4

جاپان کے تاریخ کے خطرناک ترین طوفان سے جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سمیت متعدد علاقوں میں سیلاب آچکا ہے جس کے باعث درجنوں درخت اکھڑچکے ہیں اور کئی علاقوں کی بجلی بھی غائب ہے، ملکی وبیرون ملکی پروازیں اور ٹرینیں منسوخ ہوگئی ہیں اس کے علاوہ جاپان میں ہونے والے انٹرنیشنل میچز بھی منسوخ کردیے گئے ہیں جب کہ حکومت نے طوفان میں پھنسے افراد کو نکالنے کیلیے ایمرجنسی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔

Typhone Hehibis 3

واضح رہے جاپان میں 1958 میں آنے والے طوفان کو خطرناک ترین طوفان کہا جاتا ہے جس میں 12 سو زائد سے افراد ہلاک، زخمی اور لاپتہ ہوئے تھے۔

Typhone Hehibis 2

 

شام میں ترک فوج کے حملے میں امریکی فوج بھی زد میں آگئی

تل ابیض: شام ميں علیحدگی پسند کردوں کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے ترک افواج کی پيش قدمی جاری ہے تاہم اس دوران غلطی سے ایک امریکی فوج کی چوکی بھی زد میں آگئی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق شام ميں کردوں کے خلاف ترک فوجی کی کارروائی کے تیسرے روز بھی گھمسان کی جھڑپ جارہی رہی جس کے دوران غلطی سے امریکی فوج کی ایک چوکی غلطی سے زد میں آگئی تاہم کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

شام میں تعینات امریکی فوج کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ترک فوج کی گولہ باری کی زد میں امریکی فوج کی ایک چوکی بھی آگئی تاہم گولہ باری کے نتیجے میں امریکی فوج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پینٹاگون کے مطابق اس واقعے پر ترک فوج کو متنبہ بھی کیا گیا ہے۔

دوسری جانب ترک افواج نے امریکی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ شام میں کارروائی کے دوران امريکی چوکی ان کا ہدف نہيں تھا بلکہ گولہ باری امریکی چوکی کے قریب کرد جنگجوؤں کے ايک عسکری ہدف پر کی گئی تھی جہاں سے گزشتہ روز کرد جنگجوؤں نے ترک پولیس اسٹیشن پر میزائل داغے تھے۔

ترکی کے وزیر خارجہ نے معاملے کی سنگینی کا ادارک کرتے ہوئے پینٹاگون سے رابطہ کیا تھا اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم بنانے پر زورد دیا تھا تاکہ اس قسم کے واقعات مزید رونما نہ ہوسکیں اور اعتماد کی فضا قائم رہے۔

واضح رہے کہ ترک صدر نے شام میں کردوں کے زیر تسلط علاقے میں فوجی آپریشن سے قبل امریکی صدر سے ٹیلی فونک گفتگو میں شام اور ترک سرحد سے امریکی فوج کے انخلا کا مطالبہ کیا تھا جس پر امریکا نے ترک فوج کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے سابق اتحادی کردوں کی ناراضگی کے باوجود اپنی فوجیں واپس بلالی تھیں۔

بھارت میں وزیراعظم مودی کی بھتیجی بھی محفوظ نہیں

نئی دہلی: بھارت میں وزیر اعظم مودی کے بھائی کی بیٹی دامایانتی بین مودی سے اسلحے کے زور پر سر راہ ہزاروں روپے اور موبائل فون لوٹ لیا گیا۔

بھارت خواتین کے لیے غیر محفوظ ملک بن گیا جہاں خواتین سے جنسی زیادتی، جبر و تشدد کے واقعات عام ہیں، مودی سرکار کی بری کارکردگی کے باعث بھارت جرائم کا گڑھ بن گیا ہے جس سے خود وزیراعظم کے اہل خانہ بھی محفوظ نہیں رہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کے بھائی کی بیٹی ایک ضروری کام سے نئی دہلی کے مرکزی بازار پہنچیں تو مسلح افراد نے اسلحہ دکھا کر ان سے پرس چھین لیا جس میں 56 ہزار روپے اور دو موبائل فون تھے جب کہ اہم کاغذات بھی پرس میں موجود تھے۔

نئی دہلی پولیس کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ راہ زنی اور چوری کی دفعات کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے تلاش جاری ہے۔

امریکا میں فائرنگ کے واقعے میں 4 افراد ہلاک، 3 زخمی

بروکلن: امریکا میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک گھر کے باہر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امريکی شہر نيو يارک ميں فائرنگ کے ايک واقعے ميں کم از کم 4 افراد ہلاک اور 3 ديگر زخمی ہو گئے۔ ہلاک ہونے اور زخمی ہونے والوں کی عمریں 32 سے 49 سال کے درمیان ہے جب کہ زخمیوں میں ایک خاتون بھی شامل ہیں۔

نيو يارک پوليس ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نے میڈیا کو بتايا کہ علی الصباح پوليس کو بروکلین کے علاقے میں فائرنگ کی اطلاع ملی اور جب اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے، تو وہاں چار افراد مردہ پائے گئے۔ ہلاک شدگان مرد تھے۔ حملہ آور 2 مسلح افراد تھے، کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔

پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ جوئے اور سٹے کے عالمی نیٹ ورک کا شاخسانہ لگتا ہے تاہم اس کے شواہد نہیں ملے۔ سیکیورٹی اور شفاف تفتیش کے باعث ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی شناخت ظاہر نہیں کی جارہی۔

مقبوضہ کشمیر میں گرنیڈ حملے میں 5 افراد زخمی

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں پُر رونق بازار میں نامعلوم افراد گرنیڈ پھینک کر فرار ہوگئے جس کے نتیجے میں 5 شہری زخمی ہوگئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق نامعلوم افراد سری نگر کے پُررونق بازار میں گرنیڈ حملہ کرکے فرار ہوگئے، حملے میں 5 افراد زخمی ہوگئے جنہیں قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا۔

پولیس نے گرنیڈ حملے کے بعد علاقے کا محاصرہ کرلیا اور گھر گھر تلاشی لی تاہم کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ مارکیٹ میں اکثر دکانیں بند ہونے کے باعث نقصان کم ہوا ہے۔

یاد رہے کہ 5 اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے یہ تیسرا گرنیڈ حملہ ہے۔ پہلا حملہ 28 ستمبر کو سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی ایک بٹالین پر گرنیڈ سے حملہ کیا گیا تھا تاہم حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا جب کہ دوسرا حملہ سرکاری دفتر میں ہوا تھا جس میں 10 افراد زخمی ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ مودی سرکار نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی جس کے بعد سے تاحال کرفیو نافذ ہے، اشیائے خورد و نوش کا فقدان، ادویہ کی کمی، مواصلاتی نظام منقطع اور ذرائع نقل وحمل معطل ہیں۔

شام میں ترک فوج کی کارروائی میں درجنوں کرد جنگجو ہلاک

انقرہ: شام میں ترک فوج کے آپریشن میں درجنوں کرد جنگجو مارے گئے جب کہ جھڑپ کے دوران ترکی کی فوج کا ایک اہلکار بھی ہلاک ہوا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک فوج نے شام میں کردوں کے زیر تسلط علاقوں میں داخل ہوکر آپریشن کا آغاز کردیا ہے اور اس دوران ترک فوج اور کرد جنگجوؤں کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں عام شہریوں سمیت درجنوں جنگجو ہلاک ہوگئے  جب کہ ترکی نے بھی اپنے ایک اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

ترک فوج نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب شام کے سرحدی علاقوں راس العین اور تل ابیض میں آپریشن شروع کیا۔ ترکی کرد علیحدگی پسند جماعت کو دہشت گرد جماعت قرار دیتا ہے اور اپنے علاقے میں ہونے والی کئی کارروائیوں کا ذمہ دار بھی اسی جماعت کو سمجھتا ہے۔

کرد جنگجوؤں کی زیرِ قیادت سیریئن ڈیموکریٹ فورس بھی ترکی کے خلاف برسرپیکار ہیں، ترک افواج کی جانب سے حملوں میں تیزی آنے کے بعد سے شمالی شام میں ہزاروں افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ علاقوں کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔

قبل ازیں ترک صدر نے یورپی یونین کو متنبہ کیا کہ اگر ترک فوج کی کارروائی کو حملہ قرار دیا تو ہمارا کام بہت آسان ہو جائے گا اور ترکی 36 لاکھ شامی پناہ گزینوں کو یورپی ممالک میں بھیج دے گا جب کہ امریکا نے بھی شام ترک سرحد سے اپنے فوجی دستوں کو ہٹا کر ترک فوج کو راستہ فراہم کیا۔

Google Analytics Alternative