- الإعلانات -

کورونا وائرس سے جنگ،وزیراعظم اور کابینہ کا 6ماہ کیلئے اپنی تنخواہوں میں کٹوتیوں کااعلان

دنیا بھرمیں کورونا وائرس کیخلاف جنگ جاری ہے، جہاں مختلف حکومتیں مختلف انداز سے اس موذی وبا سے لڑ رہی ہیں  وہیں نیوزی لینڈ کی حکومت ان لوگوں سے یکجہتی کیلئے میدان میں آگئی ہے جنہیں نوکریوں سے نکال دیا گیا ہے یا جن کی تنخواہوں میں لاک ڈاون کی وجہ سے کٹوتیاں کی گئی ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسنڈا آرڈرن نے اعلان کیا ہے کہ ان کی کابینہ نے اگلے چھ ماہ تک اپنی تنخواہوں میں 20 فیصد کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان لوگوں سے اظہار یکجہتی ہوسکے جنھیں اپنی نوکریوں سے نکال دیا گیا یا تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی ہے۔

نیوزی لینڈ کے محکمہ صحت کےمطابق اس وقت ملک میں 1,078تصدیق شدہ کیسز موجود ہیں، ملک بھرمیں 9افراد لقمہ اجل بنے جبکہ 728صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔ 

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کو اپنی قائدانہ صلاحیت کی وجہ سے دنیا بھر میں مقبولیت حاصل ہے۔ انھوں نے وائرس کے متاثرین سامنے آنے کے فوراً بعد مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا تاکہ نیوزی لینڈ اس وبا سے بچ سکے ان کے بروقت اقدامات کی وجہ سے ان کا ملک اس وبا کے پھیلاو سے محفوظ رہا۔

رپورٹ کے مطابق جیسنڈاا آرڈرن کی تنخواہ 285 ہزار امریکی ڈالر بنتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتی اداروں کے سربراہان اور دیگر سیاستدانوں کی تنخواہوں میں بھی کٹوتی کی جائے گی۔ یہ فیصلہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر کیا گیا ہے۔