- الإعلانات -

آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان کاانگریزی ماہنامہ جریدہ کو انٹرویو

 آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم کر کے اسے بھارتی یونین کا حصہ بنانا، ڈومیسائل قوانین تبدیل کرنا اور دوسرے کئی نئے قوانین نافذ کرنا بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کے ا±س منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت بھارت کو مسلمانوں سمیت دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے پاک کر کے ”اکھنڈ بھارت“ کے خواب کی تکمیل کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت نسلی تطہیر کے ذریعے غیر ہندووں کا خاتمہ کر کے بھارت کو خالصتاً ہندو ریاست بنانا ہے۔ پاکستان کے ایک انگر یزی ماہنامہ جریدہ کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ اگرچہ بھارت کی سول سوسائٹی بی جے پی اور آر ایس ایس کے اس منصوبے کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہی ہے لیکن ہندو انتہا پسندی کے اس سیلاب کے آگے بند باندھنا اکیلے بھارتی سول سوسائٹی کے بس کی بات نہیں بلکہ ا سے پڑوسی ممالک کی سو ل سوسائٹی اور بین الاقوامی برادری کی حمایت اور عملی مدد کی ضرورت ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت کی موجودہ انتہا پسند حکومت کے اقدامات سے ایک بڑا انسانی المیہ جنم لے چکا ہے جس کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مغربی ممالک میں بڑے پیمانے پر اس خطرہ کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جائے اور ا±ن ممالک کی حکومتوں پر دباو¿ بڑھا کر بھارت کی خوشنودی بند کرائی جائے۔ اس وقت مغربی ممالک کی حکومتیں مختلف شکلوں میں بھارت کی خوشنودی میں مصروف ہیں۔مغربی میڈیا، مغربی ممالک کی پالیمانز اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے شورو غوغا کے باوجود مغربی ممالک کے دارلحکومت یا تو بھارتی حکومت کے کشمیر یو پی، دھلی اور آسام میں انسانیت کے خلاف جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں یا نظریں چرائے بیٹھے ہیں اور وہ یہ سب کچھ اس لیے کر رہے ہیں کہ وہ بھارت کو ایک بڑی تجارتی منڈی سمجھتے ہیں اور اس کے ساتھ ان ممالک نے کئی تجارتی اور سرمایہ کاری کے معائدے کر رکھے ہیں۔ بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی اور آرایس ایس کے ہندو توا نظریہ کے تحت بھارت صرف ہندووں کا ملک ہے جبکہ مسلمان، سکھ، عیسائی اور دوسرے مذاہب کے ماننے والے غیر ملکی یا غیر ہندوستانی ہیں جنہیں بھارت سے نکالے بغیر یہ دیس پاک نہیں ہو سکتا ہے۔ یہ لوگ اچھوتوں یا دلت کے خاص طور پر خلاف ہیں جو بھارت کے ذات پات کے نظام میں نچلی ذات کے ہندو ہیں۔ ہندو توا دراصل فرسودہ ہندو معاشرے کا وہ تصور ہے جس کے تحت بھارت میں ا±ونچی ذات کے ہندووں کی بالادستی قائم کرنا ہے اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس قدیم فرسودہ تصور کو موجودہ دور میں بین الاقوامی انسانی حقوق کی عالمی تحریک اور ابلاغی ٹیکنالوجیز کی مدد سے پاپولر جمہوری لہر سے شکست دی جا سکتی ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ جمہوری معاشرے اور ریاستیں بھی جبر کے نظریہ کی مقبولیت کے خطرہ سے خالی نہیں ہیں اور بھارتی جنتا پارٹی کا ہندو توا کا نظریہ رکھنے کے باوجود اقتدار میں آنا اس کا واضح ثبوت ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ہندو توا نظریہ کی علمبردار ہے اور اسے آر ایس ایس کی غیر مشروط حمایت حاصل ہے۔ آر ایس ایس دنیا کی سب سے بڑی نیم فوجی تنظیم ہے جس کے رضاکاروں اور ممبران کی تعداد 60 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ یہ تنظیم جرمنی اور اٹلی کے گزشتہ صدی کے قوم پرستی کے نظریہ سے متاثر ہے جو ہندووں کے مذہبی، سیاسی اور ثقافتی حقوق کی علبردار ہے اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے پر تشدد انتہا پسندی اور دہشت گری پر یقین رکھتی ہے