- الإعلانات -

صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کی صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی سے ملاقات میں گفتگو ،مقبوضہ کشمیر کے عوام کی دوٹوک اور واضح حمایت کا اعادہ کرنے پر شکریہ ادا کیا

آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کی طرف سے آزادی اور حق خود ارادیت کے حصول کےلئے بے مثال اور تاریخی جدوجہد کرنے والے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی دوٹوک اور واضح حمایت کا اعادہ کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب نہایت مثبت پیغام گیا ہے اور اس سے بھارتی فوج کے مظالم سہنے والے کشمیریوں کے حوصلے بلند ہوں گے، آزاد کشمیر کی حکومت نے وفاقی حکومت کے مختلف اداروں، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، احساس پروگرام، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اور اپنے اندرونی وسائل سے کورونا وائرس کی وباءکو پھیلنے سے روکنے کےلئے بروقت اور مو¿ثر اقدامات اٹھائے جن کے نہایت مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ یہ بات انہوں نے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کے دورہ مظفرآباد کے موقع پر ان سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی صدر آزاد کشمیر کی دعوت پر منگل کو ایک روزہ دورہ پر چیئرمین این ڈی ایم اے لفٹیننٹ جنرل محمد افضل کے ہمراہ کورونا وائرس کی وباءکے بعد حکومت آزاد کشمیر کے اقدامات کا جائزہ لینے کےلئے جب مظفرآباد پہنچے تو صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان، وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان، کابینہ کے وزرائ، چیف سیکرٹری مطہر نیاز رانا اور دیگر اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا۔ صدر پاکستان کو مظفرآباد میں حکومت آزاد کشمیر کے اقدامات سے صدر سردار مسعود خان، وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان اور چیف سیکرٹری نے تفصیل سے آگاہ کیا۔ بعد میں صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے ایوان صدر مظفرآباد میں صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان سے ملاقات کی اور میڈیا سے کورونا وائرس کی وباءپھوٹنے کے بعد حکومت آزاد کشمیر کے اقدامات اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر گفتگو بھی کی۔ اس موقع پر صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے صدر مملکت عارف علوی کی طرف سے ملک بھر کے علماءو مشائخ کی حمایت حاصل کرنے اور وباءکا مقابلہ کرنے کےلئے مذہبی قوتوں اور تمام مکاتب فکر میں ہم آہنگی اور اتفاق رائے پیدا کرنے کے علاوہ اس مہلک وباءکے حوالے سے پورے ملک کی سطح پر شعور ا±جاگر کرنے پر ا±ن کا شکریہ ادا کیا۔ صدر آزاد کشمیر نے صدر مملکت کو بتایا کہ حکومت آزاد کشمیر نے احساس پروگرام کے تحت 2 لاکھ 48 ہزار گھرانوں کو 3 ارب کی خطیر رقم بطور امداد مہیا کر رہی ہے جبکہ حکومت آزاد کشمیر نے اپنے وسائل سے 130 ملین روپے سے کورونا وائرس ہسپتال، لیبارٹریز اور قرنطینہ مراکز قائم کئے اور ڈاکٹروں، نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف کو حفاظتی ساز و سامان مہیا کرنے کے علاوہ کڑا لاک ڈاو¿ن اور اس کو منظم انداز میں نافذ کرنے جیسے اقدامات ا±ٹھا کر وبا کو پھیلنے سے کامیابی سے روکا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج آزاد کشمیر میں کورونا وائرس کے صرف 49 مریض ہیں جن میں سے 16 صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ تمام اضلاع میں قائم ریپڈ ریسپانس ٹیموں نے گراس روٹ لیول پر جا کر مثالی کام کیا ہے۔ اسی طرح حکومت نے کورونا وائرس انفارمیشن ٹیکنالوجی سینٹر قائم کیا جو 26000 سے زیادہ افراد کا ڈیٹا جمع کرنے کا کام کر رہا ہے اور اب تک اس سینٹر نے اپنا 80 فیصد سے زیادہ ہدف کامیابی سے حاصل کر لیا ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے بتایا کہ آزاد کشمیر کے ہسپتالوں میں تعینات ڈاکٹروں، نرسز اور پیر میڈیکل سٹاف کے بیشر ارکان کو حفاظتی ساز و سامان مہیا کر دیا گیا ہے۔ ا±نہوں نے کہا کہ صدر اور وزیراعظم نے ذاتی طور پر مختلف مکاتب فکر کے علماءکو بلا کر کورونا وائرس کے حوالے سے مشاورت کی اور ا±ن کا تعاون حاصل کیا۔ عوام نے بھی مجموعی طور پر حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور حکومتی ہدایات پر ضروری حفاظتی اقدامات کو موثر بنانے میں حکومتی کوششوں کا ساتھ دیا۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ ایڈیشنل آئی جی فہیم عباسی کی قیادت میں ایک کمیٹی بیرون ملک سے آنے والے کشمیر ی تارکین وطن کی ٹیسٹنگ اور انہیں قرنطینہ میں رکھے جانے کے فرائض انجام دے رہی ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے یہ بھی درخواست کی کہ عالمی بینک اور عالمی مالیاتی ادارے سے ملنے والے ایمرجنسی بیل آوٹ پیکیج کے فوائد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو بھی ملنا چاہیں۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو صدر آزاد کشمیر نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کورونا وائرس کی وبا کے باوجود بھارت کی قابض فوج مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کو چ±ن چ±ن کر قتل کر رہی ہے اور ایل او سی کے پار سے بھاری آرٹلری اور مارٹر گنوں سے آزاد کشمیر کی شہری آبادی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے حکومت آزاد کشمیر کی کورونا کے خلاف جاری کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے دوسری طرف مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو کورونا کی وبا سے نمٹنے کے لیے ضروری طبی سہولتیں نہیں مہیا کی جار ہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے کورونا وائرس کی وبا کے دوران مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈومسائل قوانین نافذ کر کے کشمیریوں کو ا±ن کے کئی بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی سازش کی ہے