- الإعلانات -

اقوام متحدہ: امریکا کا کورونا کے باعث جنگ بندی کیلئے ووٹ دینے سے انکار

امریکا نے کورونا وائرس سےمتاثرہ ممالک کی مدد کے لیے دنیا کے مختلف حصوں میں جاری تنازعات میں جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہونے والی ووٹنگ میں یقین دہانی کے باوجود حصہ لینے سے انکار کردیا۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ امریکا نے جمعے کو ہوئی ووٹنگ میں حصہ لینے سے گریز کیا۔

اس حوالے سے مذاکرات کاروں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکا نے جنگ بندی کے حق میں ووٹ دینے کے لیے ہامی بھرنے کے محض ایک روز بعد ہی اس کے برعکس فیصلہ کیا۔

امریکی وفد نے سلامتی کونسل کے دیگر 14 اراکین کو تقربیاً دو مہینوں میں سخت محنت کے بعد تیار کی گئی دستاویز سے متعلق مزید کوئی وضاحت دیے بغیر کہا کہ ‘امریکا موجودہ ڈرافٹ کی حمایت نہیں کرسکتا’۔

امریکا کے اس فیصلے نے عالمی سطح پر سلامتی کونسل کو امن و استحکام کی کوششوں کے حوالے سے لاجواب کردیا ہے جبکہ کورونا وائرس سے دنیا بھر میں 2 لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے عہدیدار نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چین ‘سلامتی کونسل میں ہونے والے ان تمام وعدوں کو روک دیتا ہے جن کو منظور ہونا چاہیے’۔

ادھر سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ امریکا کو ووٹ سے دور رکھنے کے پیچھے بنیادی محرک ڈارفٹ میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے متعلق استعمال کی گئی زبان ہے۔

دیگر ذرائع کا کہنا تھا کہ امریکا چاہتا تھا کہ سلامتی کونسل ابتدائی طور پر تیار کی گئی قرار داد پیش کرے جس میں کوروناوائرس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون میں شفافیت پر زور دیا گیا تھا۔

اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے مطابق سلامتی کونسل کو اپنی قرارداد جنگ بندی کی حمایت تک محدود رکھنی چاہیے یا پھر ایک وسیع قرار داد پیش کرنی چاہیے جو کووڈ-19 کے حوالے سے رکن ممالک کے تعاون پر شفافیت اور احتساب کی ضرورت کا بھی احاطہ کررہی ہو’۔

اس سے قبل امریکی صدر نے عالمی ادارہ صحت پر چین کی جانب داری کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

تاہم یہ واضح رہے کہ امریکا خود مخالفت کے باوجود فرانس اور تیونس کو قرار داد کے حق میں ووٹ دینے سے نہیں روکے گا۔

واضح رہے کہ سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ تنازع زدہ علاقوں میں کشیدگی کو ختم کرنے اور متاثرہ علاقوں میں حکومتوں کو کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے موقع فراہم کرنے کی خاطر انسانی بنیاد پر 90 روز تک پرامن رہا جائے۔

قرار داد میں تمام ریاستوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کوروناوائرس کے خلاف باہمی رابطوں کو بڑھایا جائے جبکہ تمام ریاستوں بشمول اقوام متحدہ اور متعلقہ بین الاقوامی اور علاقائی اداروں کو متاثرہ ممالک کی مدد پر بھی زور دیا گیا ہے۔

سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ چین اور امریکا کی جانب سے پہلے ہی قرار داد میں عالمی ادارہ صحت پر واضح بات کرنے سے متعلق کوئی اختلاف نہ کرنے کی یقین دہائی کروائی گئی تھی۔

ادھر سلامتی کونسل میں رکن ملک کے ایک سفیر کا کہنا تھا کہ امریکا کا یہ فیصلہ اقوام متحدہ اور عالمی اتحاد کے لیے بہت ہی بری خبر ہے۔

خیال رہے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس 23 مارچ سے ان کوششوں میں مصروف ہیں کہ رکن ممالک کو تنازع زدہ علاقوں میں کورونا وائرس کے باعث عارضی جنگ بندی کے لیے تیار کیا جائے۔

انتونیو گوتریس نے کورونا وائرس کے پیش نظر عالمی سطح پر جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ وقت مسلح تنازع کو لاک ڈاؤن کرنے اور اپنی توجہ ہماری زندگیوں کے لیے حقیقی خطرے سے لڑنے کا ہے۔

ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ‘ہماری دنیا کو مشترکہ دشمن (کورونا وائرس) کا سامنا ہے جو کسی قومیت، لسانیت، فرقے یا مذہب کو نہیں دیکھتا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جب دنیا میں مسلح تنازع میں اضافہ ہوتا ہے تو خواتین، بچوں، معذور افراد اور نقل مکانی کرنے والوں کو سب سے زیادہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے‘۔

سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جنگ زدہ علاقوں میں صحت کا نظام تباہ ہوچکا ہے، ان لوگوں میں کورونا وائرس سے ہونے والے نقصانات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے’۔

انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ ‘صحت کے ماہرین جو پہلے ہی بہت تھوڑی تعداد میں ہیں، ان کو اکثر ہدف بنایا جاتا ہے، پناہ گزین اور تشدد کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو اس وقت سب سے زیادہ خطرہ ہے، وائرس سے پیدا ہونے والے حالات اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ جنگ کتنی بڑی حماقت ہے’۔