- الإعلانات -

ناروے: مسجد میں فائرنگ کرنے والے شخص کو 21 سال قید

ناروے کی عدالت نے 2019 میں اوسلو کی مسجد میں فائرنگ اور سوتیلی بہن کو قتل کرنے کے جرم میں دائیں بازو کے انتہا پسند کو 21سال قید کی سزا سنادی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ان پر الزام تھا کہ انہوں نے مسجد میں فائرنگ کر کے زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو قتل کرنے کی کوشش کی تاہم خوش قسمتی سے فائرنگ سے کوئی بھی شخص زیادہ زخمی نہیں ہوا تھا۔

جمعرات کو اوسلو کے مغرب میں واقع عدالت نے 22سالہ مجرم فلپ مینشوس کو 21سال قید کی سزا سنائی اور اس کے لیے ناروے کی ایک اصطلاح کا اسعمال کیا گیا جس میں مجرم کو غیرمعینہ مدت تک سزا دی جا سکتی ہے۔

جرمن نازیوں سے متاثر مجرم اوسلو میں بائرم کے گرد و نواح میں واقع مسجد النور میں بلٹ پروف جیکٹ اور کیمرا لگا ہوا ہیلمٹ پہن کر داخل ہوا اور نمازیوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی تھی۔

اس وقت مسجد میں صرف تین نمازی موجود تھے اور ان میں سے ایک 65سالہ نمازی نے حملہ آور کو دبوچ کر اس پر قابو پا لیا تھا اور اسے گرفتار کر لیا گیا تھا۔

جس شخص نے مجرم کو دبوچا وہ پاک فضائیہ کے سابق افسر محمد رفیق تھے جنہوں نے ملزم کے گولی چلاتے ہی اسے پکڑ لیا جس پر انہیں چوٹیں بھی آئی تھیں۔

عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے بتایا کہ مینشوس نے کہا کہ وہ ناصرف مسجد میں زیادہ سے زیادہ نمازیوں کو قتل کرنا چاہتے تھے بلکہ وہ معاشرے کو عدم استحکام اور نسل پرستی کی جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتے تھے۔

اس واقعے کے بعد ان کی 17سالہ سوتیلی بہن زوہان زانگیا کی لاش ان کے گھر سے برآمد ہوئی تھی جسے ان کے والد کی گرل فرینڈ نے چین سے گود لیا تھا۔

ملزم نے سوتیلی بہن کو بھی چار گولیاں ماری تھیں جسے پولیس نے نسل پرستی کا نتیجہ قرار دیا تھا۔

ناروے میں عمر قید کی سزا کا قانون نہیں لیکن اگر کسی شخص کو معاشرے کے لیے خطرہ تصور کیا جائے تو اسے کسی اعلامیہ مدت کے بغیر حراست میں لیے جانے کی سزا سنائی جا سکتی ہے ۔

مینشوس 14سال کی سزا بھگتنے کے بعد قبل از وقت رہائی کی اپیل کر سکتے ہیں۔

پراسیکیوشن نے اس بنیادی پر مینشوس کے خلاف حراست کی سزا کی اپیل کی کیونکہ وہ معاشرے کے لیے ایک طول عرصے تک خظرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب وکیل صفائی اونی فرائز نے نے اپنے موکل کی ذہنی صحت کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے ان کے نفسیاتی علاج کی تجویز دی۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے موکل ذہنی اختلال کی کیفیت کا شکار ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں، یہودیوں، صنفی برابری، ہم جنس پرستوں، میڈیا اور حکام سے یورپ کو خطرہ لاحق ہے۔

ٹرائل کے دوران تین ماہرین نے انہیں ذہنی پسماندہ اور جرم کا ذمے دار قرار دیا۔

مینشوس نے اپنے مقدمے کے حقائق کو تسلیم کیا لیکن صحت جرم سے انکار کردیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ ان کا یہ عمل سفید فاموں کی بقا یقینی بنانے کے لیے انتہائی ضروری تھا۔

مینشوس نے کہا تھا کہ وہ 2019 میں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مسجد میں کیے گئے حملوں سے متاثر ہوئے تھے جہاں مذکورہ حملے میں سفید فم انتہا پسند شخص برینٹن ٹیرنٹ نے دو مساجد میں فائرنگ کر کے 51نمازیوں کو قتل کردیا تھا۔