- الإعلانات -

بھارت نے مذہبی آزادی کے امریکی کمیشن کو ویزا دینے سے انکار کردیا

بھارت نے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) کی ملک میں اقلیت کو درپیش مسائل کا زمینی جائزہ لینے کی غرض سے دی گئی سفری درخواست مسترد کردی اور کہا کہ غیرملکی پینل کو بھارتی شہریوں کے آئینی حقوق کا جائزہ لینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

واضح رہے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو 2014 کے بعد سے مسلمانوں پر حملوں کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا ہے اور امریکی پینل نے چین، ایران، روس اور شام کے ساتھ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک بھارت کو ’ خاص تشویش والا ملک‘ کے طور پر نامزد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی طرف سے مذکورہ اپیل اپریل میں کی گئی تھی۔

رپورٹ میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے عہدیداروں کے خلاف پابندیوں پر زور دیا گیا جنہوں نے اقلیتی مسلمانوں کو نئی شہریت سے متعلق متنازع قانون سے خارج کردیا تھا۔

بھارت کے وزیر خارجہ سبرامنیم جئے شنکر نے کہا کہ حکومت نے امریکی کمیشن پینل کو مذہبی آزادی سے متعلق سروے کی سختی سے تردید کی جنہیں بھارتی شہریوں کے حقوق کا بہت کم علم تھا۔

وزیر خارجہ سبرامنیم جئے شنکر نے اسے متعصبانہ اور تعصب کا قرار دیا۔

انہوں نے یکم جون کو ایک خط میں نریندر مودی کے حکمراں گروپ سے تعلق رکھنے والے ایک قانون ساز کو بتایا کہ ’ہم نے یو ایس سی آئی آر ایف ٹیموں کے ویزا سے انکار کیا جو مذہبی آزادی سے متعلق امور کے سلسلے میں بھارت جانے کا خواہاں تھے‘۔

سبرامنیم جئے شنکر نے مزید کہا کہ یہ اقدام اس لیے اٹھایا گیا تھا کہ حکومت نے کسی بھی غیر ملکی شہری یا ادارے جیسے یو ایس سی آئی آر ایف کو بھارتی شہریوں کے آئینی حقوق کے بارے جائزہ لینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے پارلیمنٹ میں پینل کی رپورٹ کا معاملہ اٹھانے والے رکن پارلیمنٹ نشیکنت دبے کو لکھے گئے مراسلے کی ایک کاپی کا جائزہ لیا۔

نئی دہلی میں امریکی سفارتخانے نے تمام سوالات کو واشنگٹن ڈی سی میں قائم کمیشن کے حوالے کیا جہاں سے فوری طور پر جواب سامنے نہیں آیا۔

یہ کمیشن امریکی حکومت کا ایک دو طرفہ مشاورتی ادارہ ہے جو بیرون ملک مذہبی آزادی پر نظر رکھتا ہے اور صدر، سیکریٹری خارجہ اور کانگریس کو پالیسی سے متعلق سفارشات دیتا ہے۔

علاوہ ازیں وزیر خارجہ سبرامنیم جئے شنکر نے مزید کہا کہ بھارت اپنی خودمختاری سے متعلق معاملات میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت یا فیصلے کو قبول نہیں کرے گا۔

خیال رہے کہ ’خاص تشویش والا ملک‘ ایک ایسا درجہ ہے جو امریکی بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ (آئی آر ایف اے) 1998 کے تحت امریکی سیکریٹری اسٹیٹ کی جانب سے اس ملک کو دیا جاتا ہے جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا مرتکب ہو۔

بھارت کے خلاف تشدد یا ظلم، غیر انسانی سلوک، تذلیل اور سزا کے الزامات ہیں جس میں بغیر کسی الزام کے طویل حراست میں رکھنا وغیرہ شامل ہیں۔

جن ممالک کو یہ درجہ دیا جاتا ہے اس کے خلاف مزید ایکشن لیے جاتے ہیں جس میں امریکا کی جانب سے معاشی پابندیاں شامل ہیں جب تک کہ حکومت اسے ’قومی مفاد‘ میں چھوٹ نہ دے دے جیسا کہ پاکستان کو دی گئی۔

اس سے قبل 29 اپریل کو امریکی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ’مذہبی آزادی کی ممکنہ طور پر سب سے گری ہوئی اور سب سے خطرناک حد تک بگڑی ہوئی صورتحال دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ریاست کہلوانے والے ملک بھارت میں ہے‘۔

امریکی حکومت کے آزاد ادارے کا اپنی رپورٹ میں کہنا تھا کہ ’مذہبی اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے ساتھ سال 2019 میں بھارت (کی ساکھ) میں تیزی سے تنزلی دیکھی گئی‘۔

رپورٹ میں بھارتی شہریت ترمیمی بل، گائے ذبح اور مذہب تبدیل کرنے پر پابندی کے قوانین، سپریم کورٹ کا بابری مسجد کا فیصلہ اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدامات پر تنقید کی گئی۔

حالانکہ رپورٹ میں پاکستان کو بھی خاص تشویش والا ملک کہا گیا لیکن ساتھ ہی مختلف مثبت پیش رفت کو بھی تسلیم کیا گیا جس میں سکھوں کے لیے کرتار پور راہداری کا افتتاح، ملک کی پہلی سکھ یونیورسٹی کا قیام، ہندو مندر کو دوبارہ کھولنا، آسیہ بی بی کی بریت اور توہین مذہب کے الزام میں سپریم کورٹ کے کچھ فیصلے شامل ہیں۔

یو ایس آئی آر ایف کے کمشنر سام براؤن بیک کے مطابق ’پاکستان کے حوالے سے ایک چیز جو ہمارے لیے اہم ہے وہ یہ کہ حکومت مذہبی آزادی سے متعلق تحفظات دور کرنے کے لیے بات چیت پر تیار ہے‘۔