- الإعلانات -

آیا صوفیہ عدالتی فیصلے کے بعد دوبارہ مسجد بن گیا، ترک صدر اردوان

ترک صدر رجب طیب اردوان نے 1934 میں مصطفیٰ کمال اتاترک کی جانب سے میوزیم میں تبدیل کی گئی آیا صوفیہ مسجد کو عدالتی فیصلے کے بعد بحال کرتے ہوئے نماز کے لیے کھولنے کا اعلان کردیا۔

خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق طیب اردوان عالمی سطح پر آیاصوفیہ کی حیثیت تبدیل نہ کرنے کے لیے دباؤ کے باوجود عدالتی حکم آتے ہی مسجد کا اعلان کردیا۔

طیب اردوان نے کہا کہ ‘آیا صوفیہ مسجد کی انتظامیہ کو مذہبی امور کے ڈائریکٹوریٹ کے حوالے کرنا کا فیصلہ کیا گیا ہے اور عبادت کے لیے کھلی ہوگی’۔

طیب اردوان کا مسلمانوں، عیسائیوں کے درمیان متنازع مقام کو مسجد بنانے کا فیصلہ

اس سے قبل اردوان نے یونیسکو کے عالمی ورثے کی جگہ کو مسجد کے طور پر بحال کرنے کی تجویز دی تھی، جو بازنطینی عیسائیوں اور عثمانی خلافت کے درمیان مرکزی نقطے کی حیثیت رکھتا تھا اور اب ترکی کا سیاحوں کی سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بننے والا مقام بن چکا ہے۔

آیاصوفیہ نماز کے لیے کھولی ہوگی—فوٹو:رمضان رفیق
چھٹی صدی عیسوی میں بننے والی عمارت کی حیثیت تبدیل کرنے کی مخالفت کرنے میں امریکا، یونان اور چرچ کےرہنما سرفہرست تھے اور تشویش کا اظہار کیا تھا۔

واضح رہے کہ جدید ترکی کے سیکیولربانی مصطفیٰ کمال اتاترک نے اپنی حکمرانی کے ابتدائی دنوں میں ہے آیاصوفیہ مسجد کو میوزیم میں تبدیل کردیا تھا۔

انقرہ میں ترکی سپریم عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ‘اس جگہ کو مسجد کے لیے تعین کردیا گیا تھا اس لیے اس کو قانونی طور پر کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنا ممکن نہیں ہے’۔

فیصلے میں کمال اتاترک کے دستخط شدہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ‘1934 میں کابینہ کی جانب سے مسجد کو ختم کرکے اس کو میوزیم قرار دینا قانون کے زمرے میں نہیں آیا’۔

آیاصوفیہ کے لیے 16 برسوں سے قانونی جنگ لڑنی والی ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ آیاصوفیہ عثمانی رہنما کی جائیداد تھی اور انہوں نے شہر پر1453 میں قبضہ کرلیا تھا اور 900 سال پرانے بازنطینی چرچ کو مسجد میں تبدیل کردیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اردوان ایک سچے مسلمان ہیں اور انہوں نے گزشتہ برس مقامی انتخابات سے قبل عمارت کی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے شروع ہونے والی مہم کی حمایت کی تھی۔

ترکی کی مسجد ضرورت مندوں کیلئے ’سپر مارکیٹ‘ میں تبدیل

عثمانی خلیفہ نے مسجد کے مینار تعمیر کروائے تھے اور عمارت اندر قدیم عیسائیوں کی یادگار کے ساتھ خلفائے راشدین کے نام عربی میں تحریر کیے تھے۔

یونیسکو کی ترکی کو مسجد بنانے پر تنبیہ
خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کا ثقافتی ادارہ یونیسکو نے ترکی کو استبنول میں بازنطینی دور کے آیا صوفیہ کو میوزیم سے مسجد میں تبدیل کرنے سے خبردار کرتے ہوئے زور دیا کہ اس فیصلے سے قبل مذاکرات کریں۔

یونیسکو کی ترجمان نے کہا کہ ‘یہ اقدام سے متعدد وعدے اور قانونی پیچیدگیاں وابستہ ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ایک ریاست کو اس کی حدود میں غیرمعمولی عالمی حیثیت کے ورثے پر کوئی اثر نہ پڑنے کو یقینی بنانا چاہیے’۔

ترجمان نے کہا کہ کسی بھی قسم کی تبدیلی سے قبل یونیسکواور اس کی عالمی ورثہ کمیٹی کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہ آیا صوفیہ استنبول کے تاریخی علاقے کے اندر ہے اور اس کی حیثیت میوزیم کی ہے جس کی تکرار ترکی نے خطوط کے ذریعے کی ہے۔

یونیسکو کی ترجمان کا کہنا تھا کہ ‘ہم ترک حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عالمی حیثیت رکھنے والے مقام سے متعلق کسی فیصلے سے پہلے مذاکرات شروع کریں’

روسی آتھوڈوکس چرچ کا اظہار افسوس
روسی آرتھوڈوکس شرچ کا کہنا تھا کہ ہمیں افسوس ہے کہ عدالت نے فیصلے دیتے ہوئے تشویش کا مدنظر نہیں رکھا اور اس فیصلے سے بڑے اختلافات جنم لے سکتے ہیں۔

ستنبول: قدیم تہذیبوں کی راہ گزر

دنیا بھر کے 30 کروڑ آرتھوڈوکس عیسائیوں کے روحانی سربراہ کا کہنا تھا کہ عمارت کو مسجد میں تبدیل کرنے سے عیسائیوں کو مایوسی ہوگی اور مشرق اور مغرب میں تقسیم ہوگی۔

دوسری جانب امریکی سیکریٹر اسٹیٹ مائیک پومپیو اور یونان نے بھی ترکی پر زور دیا تھا کہ عمارت کو میوزیم کے طور پر برقرار رکھیں۔

تاہم ترک ایسوسی ایشن نے آیا صوفیہ مسجد کو بحال کرنے اور عمارت کی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے بھرپور مہم چلائی اور ان کا مؤقف تھا کہ مسلم اکثریتی ملک ترکی کی حیثیت کا بہترین مظہر ہے۔