- الإعلانات -

یو اے ای کے بعد بحرین اور عمان بھی سفارتی تعلقات استوار کرسکتے ہیں، اسرائیل

اسرائیل کے وزیر انٹیلی جنس نے کہا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے بعد بحرین اور عمان بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کو باضابطہ شکل دینے کے لیے اگلے خلیجی ممالک ہو سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ دونوں خلیجی ممالک بحرین اور عمان نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین معاہدے کی تعریف کی ہے۔

اگرچہ دونوں ممالک نے تاحال اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کے امکانات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے گزشتہ دو برس میں عمانی اور سوڈانی رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔

اس سے قبل امریکی سینئر عہدیدار نے کہا تھا کہ وائٹ ہاؤس سے متعدد خلیجی ممالک رابطے میں ہیں تاہم وہ یہ اندازہ لگانے کی کوشش کررہے ہیں کہ آیا مزید معاہدوں پر عمل درآمد ہوگا یا نہیں۔

اسرائیلی عہدیدار نے ان ممالک کا نام لینے سے انکار کردیا لیکن کہا کہ وہ مشرق وسطی اور افریقہ میں عرب اور مسلمان ممالک ہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا تھا کہ وہ سفارتی تعلقات معمول پر لائیں گے اور وسیع تر تعلقات کو مضبوط کریں گے۔

اسرائیل نے 1979 میں مصر اور 1994 میں اردن کے ساتھ امن معاہدوں پر دستخط کیے تھے لیکن متحدہ عرب امارات سمیت دیگر عرب ممالک کے ساتھ باضابطہ سفارتی یا معاشی تعلقات قائم نہیں ہوئے تھے۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ‘امن معاہدہ’ ہوا تھا جس کے تحت دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات بحال ہوجائیں گے۔

معاہدے کے مطابق اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کے حصوں کے یکطرفہ الحاق کے اپنے منصوے کو مؤخر کردے گا۔

اس معاہدے کے بارے میں امریکی صدر نے اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی اور متحدہ عرب امارات کے وفود آئندہ ہفتوں میں سرمایہ کاری، سیاحت، براہ راست پروازوں، سلامتی اور باہمی سفارتخانوں کے قیام سے متعلق دوطرفہ معاہدوں پر دستخط کریں گے۔

اس معاہدے کے بعد متحدہ عرب امارات، مصر اور اردن کے بعد اس نوعیت کا معاہدہ کرنے والا تیسرا عرب ملک بن گیا ہے، اسرائیل کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت میں خصوصی رسائی حاصل ہے۔

امریکا نے اسرائیل کو یہ ضمانت دے رکھی ہے کہ وہ عرب ممالک کے مقابلے میں زیادہ جدید ہتھیار حاصل کرے گا، جو اسے پڑوسی ممالک پر ‘معیاری عسکری برتری’ دلائیں گے۔

دوسری طرف واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی تھنک ٹینک کے منصوبے ‘عرب-اسرائیل تعلقات’ کے ڈائریکٹر ڈیوڈ میکوسکی نے ‘رائٹرز’ کو بتایا تھا کہ ‘یہ معاہدہ امارات کی جیت ہے، جو بلاشبہ اب ان ہتھیاروں کی خریداری کا اہل ہوجائے گا جو پہلے وہ ‘معیاری ملٹری ایج’ کی پابندیوں کے باعث حاصل نہیں کر سکتا تھا۔

امریکی قانون سازوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ہتھیاروں کی فروخت سے روکنے کی کوشش کی تھی، تاکہ ان پر انسانی حقوق کے تحفظ کا ریکارڈ بہتر بنانے اور یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی کارروائیوں میں شہریوں کو جانی نقصان سے بچانے کے لیے مزید اقدامات کے لیے دباؤ ڈالا جاسکے۔

امریکی حکومت کے ادارے کی جانب سے جاری حالیہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ محکمہ خارجہ نے 2019 میں سعودی عرب اور یو اے ای کو ہتھیاروں کی فروخت سے قبل یمن میں شہریوں کے جانی نقصان کا مکمل طور پر جائزہ نہیں لیا تھا۔

واضح رہے کہ 27 نومبر 2015 میں اسرائیل نے متحدہ عرب امارات میں باقاعدہ سفارتی سطح کا مشن تعینات کرنے کی منصوبہ بندی کرلی تھی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے اسرائیلی سفارت کاروں کے حوالے سے رپورٹ میں کہا تھا کہ اسرائیل کا متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں یہ پہلا باقاعدہ سفارتی دفتر ہو گا جو ابو ظہبی میں انٹرنیشنل رینیوبل ایجنسی میں قائم ہوگا۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے عرب ریاستوں کے ساتھ رسمی طور پر سفارتی تعلقات نہیں ہیں، اسرائیل کے رسمی سفارتی تعلقات 2 پڑوسی عرب ممالک مصر اور اردن سے ہیں۔

2015 میں ایران کا امریکا اور دیگر مغربی طاقتوں سے جوہری پروگرام پر معاہدہ ہوا تھا جس کے بعد سے عرب ریاستوں اور اسرائیل میں قربت بڑھ گئی تھی کیونکہ اسرائیل اور عرب ممالک اس معاہدے کے خلاف رہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ فلسطین پر اسرائیل کے قبضے کو قرار دیا جاتا ہے۔

یہ بات مدِ نظر رہے کہ اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر 1967 کی 6 روزہ عرب اسرائیل جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا اور بعد میں اس کا الحاق کرلیا تھا جسے بین الاقوامی برادری نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔

اسرائیل پورے شہر کو اپنا دارالحکومت قرار دیتا ہے جبکہ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی ریاست کے دارالحکومت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات 2014 میں ختم ہوگئے تھے جبکہ فلسطین نے ٹرمپ کی جانب سے امن منصوبے کو پیش کیے جانے سے قبل ہی مسترد کردیا تھا۔

فلسطین اور عالمی برادری اسرائیلی آبادیوں کو جنیوا کنونشن 1949 کے تحت غیر قانونی قرار دیتی ہے جو جنگ کے دوران قبضے میں لی گئی زمین سے متعلق ہے جبکہ اسرائیل بیت المقدس کو اپنا مرکز قرار دیتا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے متعدد مرتبہ اعلان کیا تھا کہ اسرائیل کے آزاد فلسطین کے علاقوں تک توسیع اور اس کے اسرائیلی ریاست میں انضمام کے منصوبے پر یکم جولائی سے کابینہ میں بحث شروع ہوگی تاہم یہ ملتوی کردی گئی تھی۔

یاد رہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے 23 اپریل کو کہا تھا کہ اگر مقبوضہ مغربی کنارے کا اسرائیل میں انضمام کیا گیا تو فلسطینی حکام کے اسرائیل اور امریکا سے ہوئے معاہدے کو مکمل طور پر منسوخ تصور کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے امریکا اور اسرائیلی حکومت سمیت متعلقہ بین الاقوامی فریقین کو آگاہ کردیا کہ اگر اسرائیل نے ہماری زمین کے کسی حصے کا انضمام کرنے کی کوشش کی تو ہم ہاتھ باندھے نہیں کھڑے رہیں گے۔

حالیہ پیش رفت سے متعلق ماضی میں کیے جانے والے اعلانات
خیال رہے کہ 6 اکتوبر 2019 کو اسرائیل کے وزیر خارجہ اسرائیل کیز نے کہا تھا کہ وہ مستقبل کے ممکنہ معاہدوں کے پیش خیمے کے طور پر ان عرب ممالک کے ساتھ ’عدم جارحیت‘ کا سمجھوتہ کررہے ہیں جنہوں نے اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔

رپورٹ کے مطابق تجویز کی مزید تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا تاہم یہ اسرائیل کی جانب سے ان خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی نئی کوشش ہے جس کے ساتھ اس کے سفارتی تعلقات قائم نہیں۔

اسرائیلی وزیر نے کسی خلیجی ملک کا نام لیے بغیر بتایا تھا کہ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اس حوالے سے مختلف عرب ممالک کے وزرائے خارجہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ برا ہونے والے سفیر جیسن گرین بلیٹ سے بات چیت کی۔

اس سے تقریباً ایک سال قبل اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے عمان کے سلطان قابوس کے ساتھ اچانک ملاقات کی تھی۔

دوسری جانب اسرائیل کیز کا کہنا تھا کہ انہوں نے جولائی میں بحرینی ہم منصب سے پہلی مرتبہ دورہ واشنگٹن کے موقع پر عوامی سطح پر ملاقات کی۔

قبل ازیں جون کے اواخر میں اسرائیلی صحافیوں کے ایک گروہ نے اسرائیل اور فلسطین امن کے حوالے سے امریکی سربراہی میں بحرین میں ہونے والی اقتصادی کانفرنس میں شرکت کی تھی تاہم صورتحال اس وقت اچھی نہیں رہی جب عرب ریاستوں سے ایک گروہ اسرائیل کے دورے پر آیا۔

اسرائیلی شہریوں کو سعودی عرب جانے کی اجازت
26 جنوری 2020 کو یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات پر جمی برف ہر گزرتے دن کے ساتھ پگھلتی جا رہی ہے اور اسرائیل نے اپنے شہریوں کو پہلی مرتبہ سعودی عرب جانے کی باضابطہ اجازت دے دی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیل کے وزیر داخلہ آریائی دیری نے ملک کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ سے مشاورت کے بعد بیان جاری کیا کہ اسرائیلی شہریوں کو دو صورتوں میں سعودی عرب جانے کی اجازت ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی شہری مذہبی امور یعنی عمرے یا حج کی ادائیگی یا پھر کاروباری وجوہات یا سرمایہ کاری کی غرض سے 90دن کے لیے سعودی عرب کا دورہ کر سکیں گے۔

یہ یاد رہے کہ اس سے قبل اسرائیل کے عوام کسی تیسرے ملک خصوصاً اردن سے ہو کر سعودی عرب جاتے تھے لیکن اب وہ براہ راست سعودی عرب جاسکتے ہیں۔

تاہم اس بیان کے دوسرے ہی روز سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود نے واضح کیا تھا کہ اسرائیل کا پاسپورٹ رکھنے والے افراد سعودی عرب میں داخل نہیں ہوسکتے۔

امریکی نشریاتی ادارے ‘سی این این’ کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود کا کہنا تھا کہ ‘ہم فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے اور مسئلے کے حل کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ یہ ہمارے لیے بہت ضروری ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ مسئلہ ضرور حل ہونا چاہیے اور فلسطینیوں کو ان کے حقوق دلانے کے لیے ہونے والی ہر کوشش کی حمایت کریں گے’۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطین کے مغربی کنارے کے اہم حصوں کو ضم کرنے سے متعلق متعدد اعلانات کے بعد مشرق وسطیٰ میں کسی نئی کشیدگی کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ، عرب لیگ (اے ایل) اور یورپی یونین نے اسرائیل سے منصوبے کو ترک کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ رواں سال 2 جون کو متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ انور قرقاش نے کہا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کے انضمام کے لیے یکطرفہ فیصلہ مشرق وسطیٰ کے امن عمل کے لیے خطرناک دھچکا ہوگا۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ ‘فلسطینی سرزمین کے انضمام سے متعلق اسرائیل کی باتیں بند ہونی چاہئیں۔’