- الإعلانات -

بھارت نے چین کے ساتھ مشرقی سرحد میں اپنی فوج کی تعداد بڑھا دی

بھارت نے چین کے ساتھ سرحد میں رواں برس جون میں بدترین کشیدگی کے بعد مشرقی سرحد پر بھی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کرلیا ہے۔

خبر ایجنسی ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے ریاست اروناچل پردیش کے مشرقی ضلع انجاؤ میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا، جہاں چین کا بھی دعویٰ ہے کہ یہ ان کا علاقہ ہے۔

بھارت کے فوجی اور حکومتی عہدیداروں نے دونوں ممالک کے درمیان ایک مرتبہ پھر کشیدگی کے تاثر کو رد کردیا۔

انجاؤ کی انتظامی سربراہ ایوشی سودان کا کہنا تھا کہ ‘فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے لیکن جہاں تک لڑائی کا تعلق ہے تو اب تک ایسی کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی’۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ علاقے میں بھارتی فوج کے کئی بٹالین تعینات کردی گئی ہیں۔

ایوشی سودان کا کہنا تھا کہ ‘گلوان واقعے کے بعد فوجیوں کی تعیناتی میں اضافہ کردیا گیا ہے بلکہ ہم اس سے پہلے ہی فوجیوں کو بھیجنے کا عمل شروع کرچکے تھے’۔

خیال رہے کہ جون میں چین اور بھارتی فوج کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں بھارتی فوج کا بھاری جانی نقصان ہوا تھا۔

اروناچل پردیش کو چین جنوبی تبت کا علاقہ شمار کرتا ہے اور یہاں 1962 میں دونوں ممالک کے درمیان بڑی جنگ ہوئی تھی اور سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ یہ علاقہ کشیدگی کا مرکز بن سکتا ہے۔

بھارتی فوج کے ترجمان لیفٹننٹ کرنل ہرش وردھن پانڈے کا کہنا تھا کہ مذکورہ علاقےمیں فوجیوں کی نقل و حرکت کے حوالے سے تشویش کی کوئی بات نہیں ہے بلکہ یہ معمول کی سرگرمی ہے۔

شمال مشرقی ریاست کے سب سے بڑے شہر گوہاٹی میں موجود فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ ‘بنیادی طور پر یہ یونٹ کے تبادلے کا موقع ہے، جو کچھ ہو رہا ہے وہ معمول کے مطابق ہو رہا ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘سرحد کے حوالے سے کسی قسم کی پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے’۔

اروناچل پردیش سے رکن پارلیمنٹ ٹاپر گاؤ کا کہنا تھا کہ چین کے فوجی مستقل بھارت کی حدود پار کرتے رہتے ہیں۔

انجاؤ کے والونگ اور چاگلاگام کے علاقوں کو مستقل بدامنی کا شکار قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ رجحان مستقل بنیادوں پر ہے اور کوئی نئی چیز نہیں ہے’۔

بھارت کا مؤقف ہے کہ 1962 میں چین کی پیش قدمی انجاؤ کے ان پہاڑی علاقوں میں روک دی گئی تھی اور اب حکومت کی توجہ ان پہاڑی اور جھرنوں کی سرزمین میں سڑکوں سمیت دیگر تعمیرات پر ہے۔

ہرش وردھن پانڈے نے کہا کہ ‘ہم گاؤں والوں کو زیادہ سے زیادہ مواقع دینے اور بہتری کے امکانات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ لوگوں کو یہاں دوبارہ آباد کرنے کی ایک کوشش ہے’۔

یاد رہے کہ 31 اگست کو چین اور بھارت نے ہمالیہ کی سرحد پر ایک مرتبہ پھر ایک دوسرے پر اشتعال انگیزی کا الزام عائد کیا تھا۔

بھارتی فوج نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’29 اور 30 اگست 2020 کی درمیانی شب میں پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) نے لداخ کے مشرقی حصے میں جاری کشیدگی کے دوران فوجی اور سفارتی رابطوں کے دوران ہونے والے گزشتہ اتفاق رائے کی خلاف ورزی کی اور اشتعال انگیز فوجی نقل و حرکت کی تاکہ حیثیت کو تبدیل کیا جائے’۔

چین کی فوج نے جواب میں کہا تھا کہ بھارتی فوج نے 4200 میٹر بلندی پر واقع جھیل کے قریب پینگونگ تسو کے مقام پر سرحد عبور کی اور اشتعال انگیزی کرتے ہوئے سرحد میں حالات میں تناؤ پیدا کردیا۔

پیپلز لبریشن آرمی ریجنل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ چینی فوج اس تمام کارروائی کے انسداد کے لیے ضروری اقدامات کر رہی ہے کیونکہ بھارت علاقائی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی کر رہا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کا احترام کیا اور کبھی بھی اسے عبور نہیں کیا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا تھا کہ دونوں اطراف کے سرحدی فوجی دستوں نے زمینی مسائل پر مواصلاتی رابطہ برقرار رکھا ہوا ہے۔

قبل ازیں 20 جون کو گالوان وادی میں کشیدگی کے دوران 20 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد دونوں فریق پیچھے ہٹنے پر رضامند ہوئے تھے۔

تاہم مذاکرات کے کئی دور کے باوجود مختلف مقامات پر فوجیں آمنے سامنے ہیں جس میں انتہائی بلندی کا مقام پیانگونگ تسو جھیل بھی شامل ہے جس کے بارے میں دونوں ممالک دعویٰ کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ بھارت اور چین کے درمیان تقریباً 3500 کلومیٹر (2 ہزار میل) طویل سرحد پر تنازع ہے اور اسی وجہ سے 1962 میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بوئی تھی، تاہم نصف صدی کے دوران رواں موسم گرما میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی انتہائی عروج پر پہنچ گئی تھی۔