- الإعلانات -

اسرائیلی ایئر لائن کا دبئی کیلئے پہلی کارگو پرواز کا اعلان

یروشلیم: اسرائیل کی سرکاری ایئر لائن ایل آل نے دبئی کے لیے پہلی کارگو پرواز کی روانگی کا اعلان کردیا۔

اے ایف پی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ اعلان متحدہ عرب امارات میں ایئر لائن کی کمرشل پرواز پہنچنے کے کچھ روز بعد سامنے آیا۔

ایئر لائن نے اپنے ایک جاری بیان میں کہا کہ اسرائیل اور امارات کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ہونے والے معاہدے کو مد نظر رکھتے ہوئے تل ابیب کے قریب قائم ایئرپورٹ سے 16 ستمبر کو پہلی کارگو پرواز روانہ ہوگی۔

تاہم مسافر پرواز کی طرح براہ راست اسرائیل سے امارات پرواز کرنے کے بجائے مذکورہ کارگو پرواز باراستہ بیلجیئم سے دبئی جائے گی، تاہم اس حوالے سے ایئر لائن نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ ایسا کیوں کیا جارہا ہے۔

اسرائیلی ایئر لائن کے مطابق امارات جانے والے بوئنگ 747 طیارے میں زرعی اور ہائی ٹیک آلات ہوں گے اور مستقبل میں مذکورہ روٹ کی تبدیلی متوقع ہے جو بدھ کے روز فی الحال کے لیے حتمی قرار دی گئی ہے۔

ایل آل کے جاری بیان کے مطابق ‘یہ کارگو پروازیں ہر ہفتے اسرائیلی کمپنیوں کے لیے درآمدات اور برآمدات کے سامان ساتھ دبئی کے لیے اڑان بھریں گی’.

خیال رہے کہ اس سے قبل رواں ہفتے ایل آل کی پرواز کے ذریعے اسرائیلی اور امریکی وفد دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدے پر بات چیت کے لیے امارات پہنچا تھا۔

یاد رہے کہ 13 اگست کو امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے مابین امن معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ممالک باہمی تعلقات استوار کرنے پر متفق ہوگئے ہیں۔

امریکا کے صدر نے کہا تھا کہ اسرائیلی اور متحدہ عرب امارات کے وفود آئندہ ہفتوں میں سرمایہ کاری، سیاحت، براہ راست پروازوں، سلامتی اور باہمی سفارتخانوں کے قیام سے متعلق دوطرفہ معاہدوں پر دستخط کریں گے۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات، اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنے والی پہلی خلیجی ریاست ہوگی اور واحد تیسرا عرب ملک ہوگا۔

مذکورہ اعلان کے بعد متحدہ عرب امارات نے صیہونی ریاست کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے سے متعلق قانونی شق منسوخ کردی۔

معاہدے کے حوالے سے میڈیا میں یہ رپورٹس بھی سامنے آئی تھیں کہ اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کے حصوں کے یکطرفہ الحاق کے اپنے منصوے کو مؤخر کردے گا تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے مطابق یہ منصوبہ اب بھی زیر غور ہے۔

ترکی اور ایران نے اس اقدام پر متحدہ عرب امارات پر شدید تنقید کی تھی جبکہ مصر، اردن اور بحرین نے اسے خوش آئند قرار دیا تھا۔

دوسری جانب سعودی عرب نے کہا تھا کہ وہ اس وقت تک متحدہ عرب امارات کی تقلید میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں کرسکتا جب تک یہودی ریاست فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط نہ کردیں۔

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین امن معاہدے پر کہا تھا کہ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ فلسطینیوں کو ان کا حق ملنے تک ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کرسکتے۔

بعد ازاں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی کابینہ کے ایک رکن نے کہا تھا کہ اسرائیل کو متحدہ عرب امارات سے تعلقات کی بحالی کی تقریب اور معاہدے پر دستخط ستمبر کے وسط میں ہونے کی اُمید ہے۔