- الإعلانات -

بل گیٹس کے کووڈ-19 کے گمنام ہیروز، پاکستان کے سکندر بزنجو بھی شامل

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور متاثرین کی امداد کے لیے دنیا کے متحرک اور امیر ترین افراد میں شامل بل گیٹس وبا کے دنوں میں معاشرے میں بہترین خدمات انجام دینے والے افراد کو گمنام ہیروز قرار دیا اور اس فہرست میں پاکستان کے صوبے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان سکندر بزنجو کو بھی شامل کرلیا۔

گیٹس نوٹس میں شائع مضمون میں بل گیٹس نے اپنے ممالک میں کمزور طبقے کی خدمت کرنے والے 7 گمنام ہیروز کی فہرست جاری کی، جس میں افغانستان اور افریقہ سمیت پاکستان کے نوجوان کو بھی شامل کیا گیا۔

پاکستان کے سکندر بزنجو کے حوالے سے کہا گیا کہ ‘جب پاکستان میں کووڈ-19 پھیلا تو سکندر بزنجو کو معلوم تھا کہ ان کے آبائی صوبے بلوچستان اور ملک کے غریب ترین علاقوں سمیت وبا کن جگہوں میں تباہ کن ہوگی’۔

‘بحران میں بہترین انسانیت کا مظاہرہ’ کے عنوان سے سکندر بزنجو کے بارے میں انہوں نے لکھا کہ ‘پاکستان کے جنوب مغربی اس پہاڑی علاقے کی 70فیصد آبادی غربت کا شکار ہے، تعلیم اور صحت کی سہولت تک رسائی سے محروم ہے’۔

سکندر بزنجو کے سماجی کاموں کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا کہ ‘سکندر بلوچستان سے کراچی منتقل ہوئے جہاں وہ ایک بزنس اسکول میں منیجر ہیں لیکن وہ اپنے آبائی علاقے میں وبا کے دوران مدد کرنے کی ضرورت سے آگاہ تھے’۔

گیٹس نوٹس کے مطابق سکندر نے ‘مقامی حکومت کے عہدیداروں اور سماجی تنظیموں کے ذریعے انہیں معلوم ہوا کہ کئی خاندان کھانے سے محروم ہیں اور کئی طبی مراکز میں طبی آلات کی کمی ہے تو انہوں نے بلوچستان یوتھ اگینسٹ کورونا کے نام سے ایک گروپ تشکیل دیا’۔

رپورٹ کے مطابق سکندر بزنجو کے گروپ نے بلوچستان میں 10 ہزار گھرانوں کو ماہانہ راشن کے لیے فنڈز جمع کیے اور اس کے ساتھ ساتھ طبی عملے کے لیے ذاتی حفاظتی آلات، ماسک، فیس شیلڈ اور ہینڈ سینیٹائزر کا انتظام کیا’۔

انہوں نے رضاکاروں اور تعاون کرنے والے افراد کہ تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘میں نے اس وبا کے دوران بہترین انسانیت کا مظاہرہ دیکھا، لوگ ہمارے ساتھ تعاون کررہے تھے، لوگ انتہائی مہربان اور ہمدرد رہے’۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق 29 سالہ سکندر بزنجو نے بل گیٹس کے ستائشی مضمون سے متعلق کہا کہ ‘میں خوشی ہے کیونکہ یہ صرف میرے یا میری ٹیم کے لیے نہیں ہے بلکہ بلوچستان کا نام کسی مثبت پہلو سے اجاگر ہوا جس سے میں بے انتہا فخر محسوس کررہاہوں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘بل گیٹس کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے، میرے گاؤں اور دیگر دور افتادہ علاقوں کے لوگ بھی اس حوالے سے پرجوش ہیں’۔

عرب نیوز کے مطابق سکندر بزنجو کا تعلق خضدار کے علاقے نال سے ہے اور ان کے گروپ میں خالد اسمٰعیل اور ڈاکٹر یاسر بلوچ شامل ہیں۔

امدادی کام سے متعلق انہوں نے کہا کہ ‘جب وبا پھیلنے لگی تھی اسی وقت کام شروع کردیا تھا، مجھے بلوچستان کے مخصوص علاقوں کے حوالے سے تشویش تھی کیونکہ انہیں یا تو نظر انداز کیا جائے گا یا پھر رضاکاروں اوریہاں تک کہ حکومت کے لیے بھی ان تک پہنچنے میں مشکل ہوگی’۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کھانے کی تقسیم سے کام شروع کیا تھا کیونکہ ہم لاک ڈاؤن کو کامیاب کرنا چاہتے تھے، جس کے لیے لوگوں کو گھروں سے باہر نہیں آنا تھا اور واحد حل یہی تھا کہ ان کے گھروں تک کھانا پہنچادیا جائے۔

سکندر بزنجو نے کہا کہ اب کورونا کے کیسز میں کمی آگئی ہے اور ہمارا گروپ بچ جانے والے وسائل کو بلوچستان کے مختلف اضلاع میں 25 مفت لائبریریوں میں استعمال کررہے ہیں اور ان کے مزید فنڈز جمع کررہے ہیں۔