- الإعلانات -

جاپانی ایئرلائن اب مہمانوں کو صنفی تفریق کے بغیر خوش آمدید کہے گی

معروف جاپانی انٹرنیشنل ایئرلائن نے اعلان کیا ہے کہ وہ یکم اکتوبر سے سفر کرنے والے مہمانوں کو صنفی تفریق کے بغیر خوش آمدید کہے گی۔

جاپان ایئرلائن (جے اے ایل) نے 28 ستمبر کو اعلان کیا کہ اب سفر کرنے والے مسافروں کو ‘خوش آمدید، خواتین و حضرات’ نہیں کہا جائے گا۔

فضائی کمپنی کے ترجمان مارک مریموتو کے مطابق مذکورہ جملے سے مسافروں کی صنفی تفریق کا اظہار ہوتا ہے اور اب ان کی کمپنی جینڈر نیوٹرل یعنی صنفی تفریق سے آزاد جملے استعمال کرے گی۔

کمپنی کے مطابق اب مسافروں کے سفر کے آغاز میں ‘خوش آمدید، خواتین و حضرات’ کے بجائے ‘تمام مسافر متوجہ ہو’ یا ‘گڈ مارننگ مسافرین’ جیسے جملے استعمال کیے جائیں گے۔تحریر جاری ہے‎

ایئرلائن کے ترجمان کے مطابق کمپنی نے مسافروں کے درمیان عمر، جنس، قومیت، مذہب، نسل اور رنگت کی تفریق ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جاپانی ایئرلائن کی جانب سے مذکورہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب کہ صنفی مساوات پر کام کرنے والے اداروں نے اعتراف کیا ہے کہ قدامت پسند ملک جاپان میں ہم جنس اور مخنث حضرات کی اہمیت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اگرچہ جاپان میں تاحال ہم جنسی پرستی ممنوع ہے، تاہم اس کے باوجود صنفی مساوات پر کام کرنے والے اداروں نے وہاں حالات تبدیل ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

جاپان میں جہاں ہم جنسی پرستی اور مخنث افراد کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی، وہیں خواتین کے حوالے سے بھی کام کے دوران مخصوص ڈریسنگ کرنے جیسے ضوابط نافذ ہیں۔

جاپان میں خواتین کو کام کے دوران ہرحال میں اونچی ایڑی والے سینڈل پہننے سمیت پرکشش دکھائی دینے کے لیے بہتر لباس پہننے کی سخت ہدایات کی جاتی ہیں اور اسی معاملے پر بھی جاپان میں کافی عرصے سے خواتین کی مہم جاری ہے۔

رواں برس مارچ میں ہی ایک اور جاپانی ایئرلائن نے پہلی بار خواتین فضائی میزبانوں کو اونچی ایڑی والے جوتے لازمی پہننے کی قید سے آزاد کیا تھا اور ساتھ ہی انہیں اپنی مرضی کے مطابق لباس میں بھی ترمیم کرنے کی اجازت دی تھی۔

جاپان سمیت دنیا بھر کی فضائی کمپنیوں کی خواتین میزبان کی خصوصی ڈریس کوڈنگ ہوتی ہے، تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے دنیا بھر میں ایئرہوسٹس کے لباس میں نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

اسی طرح جاپانی فضائی کمپنی سے قبل دنیا کے دیگر ممالک کی ایئرلائن کمپنیوں نے بھی مسافروں کو صنفی تفریق کے بغیر خوش آمدید کہنے کی پالیسی نافذ کر رکھی ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ جاپانی ایئرلائن کے بعد دنیا کے دیگر قدامت پسند ممالک کی فضائی کمپنیاں بھی ‘خوش آمدید، خواتین و حضرات’ کے جملے کو ختم کرکے مسافروں کو صنفی تفریق کے بغیر خوش آمدید کہنے کی پالیسی کا اعلان کریں گی۔