- الإعلانات -

کورونا کے علاج کے دوران ٹرمپ حامیوں سے ملنے ہسپتال سے باہر آگئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیکل برادری کے پروٹوکول توڑنے اور ہسپتال کے باہر اپنے حامیوں سے ملاقات کرنے پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتہائی موذی کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

واشنگٹن کے قریب والٹر ریڈ ملٹری میڈیکل سینٹر کے باہر کے مختصر سفر کے دوران وہ اپنی بلٹ پروف گاڑی کے اندر سے ہاتھ ہلاتے دیکھے گئے جہاں وہ ماسک پہنے بیٹھے تھے۔

ان کی اچانک باہر کی سیر ایسے وقت میں سامنے آئی جب ڈاکٹروں نے ان کی طیبعت کے بارے میں اطمینان کا اظہار کیا تھا اور پیر کے روز انہیں ہسپتال سے جانے کی اجازت دینے کا امکان بھی ظاہر کیا تھا۔

تاہم ماہرین نے شکایت کی کہ باہر جانے سے انہوں نے اپنی حکومت کے ہی صحت عامہ کے گائیڈ لائنز کو توڑا جس کے تحت مریضوں کو دوران علاج آئی سولیشن میں رہنے کا کہا گیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ جنہیں بار بار عوامی صحت کے گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کرنے اور وبائی امراض پر غلط فہمی پھیلانے پر تنقید نشانہ بنایا جارہا ہے، نے عوام کے سامنے آنے سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ’وائرس سے لڑتے ہوئے ہسپتال آکر انہوں نے بہت کچھ سیکھا ہے‘۔

تاہم صحت کے ماہرین نے سوشل میڈٰا کا سہارا لیتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ بھی نہیں سیکھا ہے۔

جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے ڈزاسٹر میڈیسن کے سربراہ جیمز فلپس نے کہا کہ ’مکمل طور پر غیر ضروری صدارتی ڈرائیو کے دوران گاڑی میں سوار ہر فرد کو 14 دن کے لیے قرنطینہ میں رکھ دیا گیا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ بیمار ہوسکتے ہیں، وہ مر سکتے ہیں، سیاسی شو کے لیے، ٹرمپ کے احکامات پر تھیٹر کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنا، یہ پاگل پن ہے‘۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوڈ ڈیئر نے کہا کہ ٹرمپ اور ان کے معاون عملے کی حفاظت کے لیے حفاظتی کٹس سمیت ’مناسب‘ احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’میڈیکل ٹیم نے اس کی اجازت دی تھی‘۔

تاہم یونیورسٹی آف پنسلوانیا میں میڈیکل ایتھکس اور صحت کی پالیسی کے چیئرمین ذکی ایمانوئیل نے ٹرمپ کے عوام کے سامنے آنے کو ’شرمناک‘ قرار دیا۔