- الإعلانات -

کویت میں ڈالروں کی برسات

تیل کی دولت سے مالا مال خیلجی ملک کویت میں ملازمت اور کام کے اہل ہر شہری کو سالانہ 50 ہزار ڈالر یعنی ماہانہ 5 ہزار امریکی ڈالر فراہم کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
کویت کی زیادہ تر کمائی کا انحصار تیل پر ہے، تاہم دیگر قدرتی معدنیات بھی اس کی دولت میں اہم اضافہ کرتے ہیں۔
کویتی حکومت اپنے شہریوں کو صحت و تعلیم سمیت روزگار کی مد میں بھی بعض الائونس فراہم کرتی ہے، تاہم اس باوجود حکومت پر کام کی عمر کو پہنچنے والے افراد کو اچھا روزگار فراہم کرنے کے لیے دباؤ کا شکار رہتی ہے۔
حالیہ چند سال میں جہاں کویت کی تیل کی کمائی میں فرق پڑا ہے، وہیں وہاں پر بڑھتی بے روزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے بھی لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے اور حکومتی مشکلات کم کرنے کے لیے ماہرین معیشت نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ عوام پر کیے جانے والے اخراجات کو منظم کرکے اپنے لیے آسانیاں پیدا کر سکتی ہے۔
ایک رپورٹ میں بتایا کہ کویتی معیشت پر کام کرنے والے ماہرین اور اداروں نے کویتی حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ وہ اپنے تمام ملازمت کے اہل شہریوں کو سالانہ 50 ہزار امریکی ڈالر فراہم کرے۔
رہورٹ میں بتایا گیا کہ کویت امپیکٹ نامی اقتصادی اور معاشی مسائل پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ کے ماہر معیشت علی السلیم نے ایک تازہ مضمون میں حکومت کو نئی تجاویز پیش کیں۔
علی السلیم نے حکومت کو دولت کی منصفانہ تقیسم، عوام کو مراعات اور سہولیات فراہم کرنے اور حکومتی اخراجات کو کم کرنے کی متعدد تجاویز پیش کیں، تاہم ان کی جانب سے سب سے اہم تجویز یہی تھی کہ کویتی حکومت سالانہ ہر شہری کو 50 ہزار ڈالر فراہم کرے۔
مذکورہ تجویز کے مطابق کویتی حکومت اپنے تمام شہریوں کو دیے جانے والے مختلف الائونس اور مراعات ختم کرکے انہیں سالانہ ایک خاص رقم فراہم کرے۔
تجویز میں بتایا گیا کہ اس تجویز سے حکومت مراعتوں اور الائونسز میں خرچ ہونے والے غیر محدود اخراجات سے بچ جائے گی اور اسے بجٹ بنانے میں آسانی ہوگی، کیوں کہ وہ صرف سالانہ ہر شہری کو 50 ہزار ڈالر دینے کی پابند ہوگی۔
تجویز کے مطابق ہر شہری کو سالانہ 50 ہزار ڈالر فراہم کرنے سے حکومت پر نوجوانوں کے لیے نئی نوکریاں پیدا کرنے کا پریشر بھی نیں ہوگا۔
مذکورہ 50 ہزار ڈالر کو حکومت ہر شہری کو اس کی تنخواہ اور مراعات کی مد میں فراہم کرے گی اور اس ضمن میں رقم لینے والے شخص کو پہلے ہی آگاہ کیا جائے گا کہ اس کو یہ رقم زندگی بھر ملتی رہے گی۔
علی السلیم نے تجویز دی کہ حکومت ملازمت اور کام کے اہل ہر شخص کو سالانہ 50 ہزار ڈالر فراہم کرنے کے لئے نئی قانون سازی کرے۔
مذکورہ تجویز میں بتایا گیا ہے کہ سالانہ 50 ہزار ڈالر حاصل کرنے والے شخص پر واضح کیا جائے گا کہ اب اسے سرکاری ملازمت نہیں دی جا سکے گی، البتہ وہ چاہے تو اپنی مرضی سے نجی ملازمت کرے اور ایسا کرنے پر اسے مذکورہ رقم بھی ملتی رہے گی۔
مذکورہ تجویز پر عمل کرنے سے حکومت جہاں نئی آسامیاں پیدا کرنے سے آزاد ہوجائے گی، وہیں وہ نئے ادارے بھی تشکیل نہیں دے گی اور ممکنہ طور پر اس تجویز پر عمل کرنے سے کویتی حکومت کی مشکلات کم ہوں گی۔
کویت کا شمار دنیا کی کم آبادی والے ممالک میں ہوتا ہے، کویت کے آبائی شہریوں کی تعداد وہاں مقیم غیر ملکی افراد سے بھی کم ہے۔
کویتی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2019 تک ملک کی مجموعی آبادی کا 70 فیصد غیر ملکیوں پر مشتمل تھا، یعنی کویت کے مقامی افراد کی تعداد 10 لاکھ سے زیادہ جبکہ غیر ملکیوں کی تعداد 30 لاکھ سے زیادہ تھی۔
کویت میں رہنے والے زیادہ تر غیر ملکی افراد ملازمت کی غرض سے وہاں آباد ہے اور ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ہر شہری کو سالانہ 50 ہزار ڈالر دیے جانے کی تجویز وہاں مقیم غیر ملکی افراد کے لیے بھی ہوگی یا نہیں ۔
ابھی یہ بھی واضح نہیں ہے کہ حکومت مذکورہ تجویز پر عمل کرنے کے لیے آمادگی کا اظہار کرتی ہے یا نہیں، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مالی مشکلات کا شکار کویتی حکومت مذکورہ تجویز پر عمل کرسکتی ہے۔