- الإعلانات -

اسرائیل کی خلیجی ممالک سے معاہدوں کے بعد مغربی کنارے میں پہلی آبادکاری کی منظوری

اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے کے اطراف میں 2 ہزار 166 نئے مکانات کی تعمیر کی حتمی منظوری دے دیہ.مذکورہ پیش رفت ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب حال ہی میں متحدہ عرب امارات اور بحران نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ‘امن معاہدوں’ پر دستخط کیے۔معاہدے کے حوالے سے رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کے حصوں کے یکطرفہ الحاق کے اپنے منصوے کو مؤخر کردے گا۔

مغربی کنارے پر آبادی سے متعلق اسرائیلی منظوری کے بعد غیر سرکاری تنظیم ‘پیس ناؤ’ نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم کے اس فیصلے سے اسرائیل-عرب امن سے متعلق امیدوں کو دھچکا لگے گا۔انہوں نے کہا کہ جمعرات کو مزید 2 ہزار مکانات کی منظوری متوقع ہے۔اسرائیل کی جانب سے جاری ایک اعلامیے میں کہا گیا کہ ‘اسرائیلی وزیراعظم مغربی کنارے کے الحاق کے لیے پوری طرح مستعد ہیں’۔اردن کی وزارت خارجہ کے ترجمان دافلہ علی الفائض نے اسرائیلی فیصلے کو ‘یکطرفہ اور غیر قانونی’ قرار دیا ہے۔

فلسطین کے صدارتی ترجمان نبیل ابو رودینہ نے کہا کہ اسرائیلی اقدام نے خلیج میں تعلقات اور ‘ٹرمپ انتظامیہ کی اندھی حمایت’ کا فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم کی پالیسی خطے کو گھاٹی کے دہانے تک لے جائے گی’۔خیال رہے کہ 15 اگست کو امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے مابین امن معاہدہ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ممالک باہمی تعلقات استوار کرنے پر متفق ہوگئے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین تعلقات کو معمول پر لانا ایک ‘بہت بڑی پیشرفت’ ہے۔بعدازاں 11 ستمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور بحرین کے درمیان امن معاہدے کا اعلان کیا اور بحرین نے متحدہ عرب امارات کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کا اعلان کردیا تھا۔ امریکی صدر نے اسے تاریخی دن قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل اور بحرین صحیح معنوں میں سفارتی اور تجارتی تعلقات قائم کر رہے ہیں۔

انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سفارتخانوں اور سفارتکاروں کا تبادلہ کریں گے، دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازوں کا آغاز ہو گا اور تعلیم، صحت، کاروبار، ٹیکنالوجی، سیکیورٹی اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کا آغاز کریں گے۔اس معاہدے پر پاکستان نے یہ مؤقف اپنایا تھا کہ ‘فلسطینیوں کے حقوق میں ان کی خودمختاری کا حق شامل ہے جبکہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام بھی پاکستان کی اہم ترجیح ہے۔’ ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے معاہدے پر ردعمل میں کہا تھا کہ ‘اس پیشرفت کے دور رس اثرات ہوں گے۔’