- الإعلانات -

مجھے میرے اپنے لوگ قتل کردیں گے،شہزادہ محمد بن سلمان

لاہور (روزنیوز) بیشک یہودی اور نصرانی آپ کے دوست نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے اچھے دوست ہیں یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے جو قرآن مجید میں کئی بار دہرایا گیا ہے۔مگر آج اسرائیل کو تسلیم کروانے کی مہم جس قدر زوروں پر ہے اس میں سبھی اپنے اپنے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیاوی اسباب کی طرف دھیان کیے بیٹھے ہیں۔

کرہ زمین پر موجود پچاس سے اوپر مسلم ممالک میں سے ابھی تک صرف تین مسلم ممالک نے غاصب و قابض اور ناجائز ریاست اسرائیل کو تسلیم کیا ہے اس کے علاوہ اور کسی ملک نے ابھی تک تسلیم نہیں کیا۔یو اے ای،بحرین اور سوڈان کے بعد اب سعودی عرب پرپریشر بڑھایا جا رہا ہے کہ وہ بھی اسرائیل کو تسلیم کرے مگر اسرائیل نے جس طرح سے فلسطین کی زمین پر قبضہ کیا،غزہ پٹی میں معصوم لوگوں پر مظالم ڈھائے اور یروشلم کا محاصرہ کیا وہ سب دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل پر کاری ضرب ہے۔

لہٰذا اب جب امریکہ اور اسرائیلی نژاد امریکی بزنس مین کے ذریعے شہزادہ محمدبن سلمان کو پیغام پہنچایا گیا کہ وہ بھی اسرائیل کو تسلیم کر لیں تو اس پر معذرت کرتے ہوئے شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ اگر میں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی غلطی کی تو میرے اپنے لوگ یعنی سعودی عرب،قطر اور ایران جیسے ملک کے لوگ مجھے مار ڈالیں گے اس لیے میں اس وقت ایسا کچھ نہیں کرسکتا۔

کچھ ہفتے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب جلد اسرائیل کو تسلیم کر لیں گے۔پردے کے پیچھے سے یہ خبر بھی سامنے آ رہی ہے کہ سوڈان جیسے ملک سے اقتصادی پابندیاں اٹھانے کے علاوہ دیگر ساری رعایتیں بھی اسی ڈیل کا نتیجہ ہیں کہ اس نے امریکہ کے کہنے پر اسرائیل کو تسلیم کیا ہے۔تاہم شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی پیغام اور خاص طور پر اسرائیلی نژاد بزنس میں” ہیم ثبان“ کی کوششوں پر کیا ہے۔

ہیم ثبان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سعودی عرب کو کہا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کریں مگر اس حوالے سے ٹرمپ کے حریف جو بائیڈن کی کاوشیں زیادہ ہیں اور سب سے بڑھ کر کردار میرے دامادجراڈ کشنر کو جاتا ہے جس نے اسرائیل کو مسلم ممالک سے تسلیم کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔اگرچہ اس وقت تک تین مسلم ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے کے ساتھ ان کے ساتھ کاروباری معاہدے بھی کر چکے ہیں مگر ابھی بھی اسرائیل کے ہمدردوں کے لیے مشکل وقت تب تک کھڑا ہے جب تک وہ فلسطین کے ساتھ امن معاہدہ نہیں کر لیتے۔

اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم پر گامزن ہیم ثبان نے گزشتہ دنوں سعودی فرمانروا شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی اور اس ملاقات کے موقعہ پر ہی محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ اگر اس نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔