- الإعلانات -

”خانہ کعبہ کا انتہائی قریب سے طواف کرتے وقت میں اپنے آپ کو بھول گئی تھی“

کورونا کی وبا کے بعد سعودی حکومت نے کئی ماہ تک عمرہ کی سرگرمیاں محدود کر رکھی تھیں۔ اگرچہ عمرہ پر سے پابندی مرحلہ وار ہٹالی گئی ہے تاہم ابھی تک عمرہ زائرین کو بڑی گنتی میں آنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ اس محدود گنتی کا مقصد حرم شریف میں کورونا سے متعلق ایس او پیز پر عمل کروا نا ہے۔ مسجد الحرام اور مسجد نبوی کا انتظام سنبھالنے والی کمیٹی نے معذوروں اور معمر افراد کے لیے طواف میں بہت بڑی آسانی پیدا کر دی ہے، جس کے باعث یہ لوگ اب صرف پندرہ منٹ میں اپنا طواف مکمل کر پا رہے ہیں۔

اس طرح ان بزرگ عمرہ زائرین کو خانہ کعبہ کے انتہائی قریب سے زیارت کا موقع مل رہا ہے۔ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے والی ایک بزرگ خاتون غضیل الشیبانی نے اپنے ایمان افروز احساسات بیان کرتے ہوئے کہا کہ بزرگوں اور معذوروں کے لیے خانہ کعبہ کے بہت قریب سے طواف کے سبب اس پر عجیب روحانی کیفیت طاری ہو گئی تھی۔الشیبانی کے مطابق”میں اتنے پاس سے طواف کرتے وقت اپنے آپ کو بھی بھول گئی تھی۔

طواف کے دوران میں نے اپنے بچوں اور ان کی اولادوں کی زندگی، صحت ، سلامتی اور خوشحالی کے لیے دُعائیں مانگیں۔ اس کے علاوہ مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں بھی بہترین سہولیات فراہم کرنے پر سعودی حکومت کے لیے جزائے خیر کی دُعا کی۔ میں یہاں اپنے بیٹے کے ساتھ عمرہ کرنے آئی ہوں۔ سعودی حکام نے عمرہ اور زیارت کے لیے بہترین ماحول اور سہولتیں فراہم کر رکھی ہیں۔

یہاں کے مناظر بہت ایمان افروز ہیں اور سب سے بڑھ کر کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے انتظامات بھی بہترین ہیں“۔ ایک اور غیر ملکی زائر محمد عطیہ النمری نے کہا کہ مسجد الحرام میں بزرگوں اور معذروں کے لیے کم وقت میں طواف کرنے کی سہولت فراہم کرنے پر انہوں نے دُعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ سعودی ریاست کو سربلندی عطا فرمائے اور اسے ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کی توفیق بخشتا رہے۔جبکہ افریقی ملک اریٹیریا سے آئے زائر ابراہیم اسماعیل الحاج کا کہنا تھا کہ وہ حرم شریف میں بہترین انتظامات دیکھ کر بہت خوش ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سعودی عرب ، اس کے قائدین اور عوام کو ہرآفت اور بلا سے محفوظ رکھے۔