- الإعلانات -

سعودی عدالت نے شیر خوار بچے کے لیے تڑپتی ماں کو انصاف دے دیا

سعودی عرب میں اپنے شیر خوار بچے کی جُدائی میں تڑپتی مامتا کو قرار آ گیا۔ عدالت کی جانب سے مظلوم خاتون کو فوری طور پر انصاف دیتے ہوئے اس کا ننھا بچہ دوبارہ اس کے حوالے کر دیا گیاہے۔ سعودی میڈیا کے مطابق ایک خاتون کی گھریلو ناچاقی کے باعث اپنے خاوند سے طلاق ہو گئی تھی، اس دوران وہ حاملہ تھی۔

تاہم جب اس کے سابقہ خاوند کو پتا چلا کہ اس کی مطلقہ نے ایک بچے کو جنم دیا ہے تو وہ اس کے گھر پہنچ کر زبردستی بچہ چھین کر لے گیا۔ اس پر مجبور خاتون کی چیخ و پکار اور فریاد واسطوں کا بھی کوئی اثر نہ ہوا۔ کئی دن تک خاتون پریشانی سے روتی رہی اور پھر جب دو ماہ تک بھی اسے صبر نہ آیاتو اس نے مقامی فیملی کورٹ میں سابقہ خاوند کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا۔

اس معاملے پر وزارت انصاف بھی حرکت میں آئی اور خاتون کے زیرسماعت مقدمے کا فوری طور پر فیصلہ کروا کے خاتون کے سابقہ شوہر سے اس کا بچہ دلوا دیا۔خاتون نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ طلاق کے بعد جب اس کے ہاں بچہ پیدا ہو ا تو سابقہ خاوند زبردستی یہ بچہ چھین کر لے گیا۔ وہ دو ماہ سے بچے کو سینے سے لگانے کے لیے تڑپ رہی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ شیر خوار بچہ اپنی ماں کی نگرانی میں رہے گی جبکہ باپ بچیکے نان و نفقہ کاذمہ دار ہو گا۔

والد کو ننھے بچے کو والدہ سے چھین کراپنے پاس رکھنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ واضح رہے کہ چند روز یک غیر ملکی خاتون نے انسانی حقوق کونسل کو اپنے شوہر کی طرف سے بلیک میل کیے جانے اور اس کے ساتھ ایک گھریلو ملازمہ جیسا سلوک کرنے اور اس کے خاندان کو تکلیف پہنچانے کی شکایت درج کرائی ۔ تحقیقات سے پتا چلا کہ خاتون کا خاوند ایک سعودی شہری تھا جس نے اپنی غیر ملکی بیوی کے سعودی قوانین سے متعلق لاعلمی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک روا رکھا ہوا تھا۔

ملزم نے خاتون کو بلیک میل کرنے لیے اس پر دباؤ ڈالا کہ وہ بچے سے دست بردار ہو جائے ورنہ اسے غیر قانونی طور پر مملکت میں مقیم غیر ملکی قرار دے کر بری طرح پھنسایا جائے گا۔ خاتون اور اس کا خاندان سعودی عرب میں خانگی حقوق کے حوالے سے جان کاری نہ ہونے کی وجہ سے خاموشی سے یہ سب کچھ برداشت کرتے رہے تاہم آخر میں بچے کے چھن جانے کے خوف اور مسلسل ہراساں کیے جانے کے بعد خاتون نے انسانی حقوق کونسل کو شوہر کے خلاف درخواست دی۔
کونسل کا کہنا ہے کہ خاتون کو بتایا گیا ہے کہ ایک سعودی شہری کی بیوی ہونے کے ناطے اسے سعودی عرب میں ایک عام شہری کے مساوی حقوق حاصل ہیں اور وہ اپنے کم سن بچے کو اپنے پاس رکھنے کی مجاز اور حق دار ہے۔ اس کے نان نفقہ اور دیگر تمام ضروریات کی تکمیل اس کے شوہر کی ذمہ داری ہے۔سعودی شوہر کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔