- الإعلانات -

دُبئی، ابوظبی اور شارجہ سمیت تمام دیگر ریاستوں کی مساجد میں 8 ماہ بعد نماز جمعہ کی ادائیگی

متحدہ عرب امارات نے کورونا کی وبا کے باعث مارچ کے مہینے میں مساجد میں نماز پنجگانہ اور نماز جمعہ ادا کرنے پر عارضی پابندی لگا دی تھی۔ اگرچہ جولائی میں مساجد کو نماز پنجگانہ کے لیے کھول دیا گیا تھا، تاہم امارات میں مقیم مسلمانوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے 8 ہفتوں سے زیادہ کا انتظار کرنا پڑا۔چند روز قبل جب اماراتی حکام نے نماز جمعہ کے لیے مساجد کو کھولنے کا اعلان کیا تو اس اعلان پر پاکستانیوں سمیت تمام مسلمان کمیونٹی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔آج صبح سے ہی نمازیوں نے آج کے یادگار دن کے حوالے سے تیاریاں کر رکھی تھیں۔ جونہی مساجد کے دروازے کھُلے تو چند منٹس میں ہی مساجد نمازیوں سے بھر گئیں۔

تاہم سماجی فاصلے کی حکومتی ہدایات پر خاص طورپر عمل کرایا گیا۔تمام افراد نے ماسک پہن رکھے تھے۔ نماز جمعہ ادا کرنے والے بہت جذباتی دکھائی دے رہے تھے۔ خطبہ اور نماز جمعہ کا دورانیہ 10 منٹ تک محدود کیا گیا تھا۔ مساجد کے ائمہ کرام نے 37 ہفتوں کے بعد مساجد کو نماز جمعہ کے لیے کھولنے پر اماراتی قیادت کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ائمہ کرام نے آ ج کے خطبہ جمعہ میں شکر گزاری کی مذہبی اہمیت کو اُجاگر کیا اور نمازیوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی بھی تاکید کی۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے موقع پرروح پرور مناظر کی کوریج کرتے رہے۔ مساجد کی شیلف پر سے قرآن مجید اور سیپارے اُٹھا دیئے گئے تھے۔ نمازیوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ گھروں سے قرآن مجید لائیں یا ڈیجیٹل ڈیوائسز پر تلاوت کریں۔ دُبئی میں مقیم ایک غیر ملکی اسد محمد کا کہنا تھا کہ کئی ماہ بعد نماز جمعہ کی ادائیگی کا لمحہ روح پرور احساس تھا۔ ایک اور پاکستانی تارک وطن تیمور جاوید نے کہا کہ وہ مساجد میں کئی ماہ کے بعد نماز جمعہ کی دوبارہ اجازت دینے پر اماراتی حکام کے بہت شکر گزار ہیں۔ تمام مساجد میں سماجی فاصلے اور کورونا سے بچاؤ سے متعلق بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔