- الإعلانات -

موڈرینا کی کرونا وائرس ویکسین کتنی مؤثر ہوگی؟

واشنگٹن: امریکی کمپنی موڈرینا کی کووڈ 19 ویکسین کرونا وائرس سے کم از کم 3 ماہ تک تحفظ فراہم کرسکے گی، اس ویکسین کی منظوری کے لیے رواں ماہ 17 تاریخ کو متعلقہ حکام کا اجلاس منعقد ہوگا۔طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع تحقیق میں امریکا کے نیشنل انسٹیٹوٹ فار الرجیز اینڈ انفیکشیز ڈیزیز (این آئی اے آئی ڈی) کے محققین نے 34 بالغ افراد میں ویکسین کے مدافعتی ردعمل کی جانچ پڑتال کی۔تحقیق میں بتایا گیا کہ ان افراد کو ایم آر این اے 1273 کے پہلے ٹرائل کے دوران ویکسین کے 2 ڈوز دیے گئے تھے۔

ان افراد میں اینٹی باڈیز کی سطح کی جانچ پڑتال دوسری بار ویکسین کے ڈوز دینے کے 90 دن (پہلے ڈوز کے 119 دن بعد) کی گئی۔محققین نے دریافت کیا کہ 3 ماہ بعد بھی خون میں وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز موجود تھیں اور اس سے عندیہ ملا کہ اتنے مہینوں بعد بھی کووڈ 19 کے خلاف جسم کو کسی حد تک مدافعتی تحفظ حاصل تھا۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ویکسین سے ایک مخصوص قسم کے ٹی سیلز کا ردعمل متحرک ہوتا ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ کسی حد تک طویل المعیاد مدافعت حاصل ہوسکتی ہے۔موڈرینا کے چیف میڈیکل آفیسر ٹال زاکس کا کہنا ہے کہ ویکسین کے ٹرائل کے پہلے مرحلے کے ڈیٹا سے عندیہ ملتا ہے کہ ہماری ویکسین ہر عمر کے افراد میں وائرس ناکارہ بنانے والی پائیدار اینٹی باڈیز بناتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیٹا سے مزید امید بڑھتی ہے کہ یہ کووڈ 19 سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے بہت زیادہ مؤثر ہوگی۔امریکا میں موڈرینا کی ویکسین کے استعمال کی منظوری کے لیے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کا اجلاس 17 دسمبر کو ہوگا۔کمپنی کے مطابق وہ سنہ 2020 کے آخر تک 2 کروڑ ڈوز امریکا میں ترسیل کرے گی اور توقع ہے کہ اگلے سال 50 کروڑ سے ایک ارب ڈوز دنیا بھر میں تیار کیے جائیں گے۔