- الإعلانات -

بنگلہ دیش حکومت کا روہنگیا مسلمانوں پر ایک اور ستم

بنگلہ دیشی حکومت نے مظلوم پناہ گیر روہنگیا مسلمانوں کی غیرآباد جزیرے پر منتقلی کا آغاز کردیا، مذکورہ جزیرہ کسی بھی وقت سیلاب کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔ روہنگیا پناہ گزینوں کی حفاظت اور انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی تشویش میں اضافہ ہورہا ہے کیونکہ بنگلہ دیش نے انہیں ایک غیرآباد جزیرے پر منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔میانمار میں تشدد کے باعث جان بچانے کیلئے فرار ہونے والے روہنگیا مسلمان اپنے مسلم ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں ایسے پناہ گزین کیمپوں میں رہتے آئے ہیں جہاں گنجائش سے کہیں زیادہ افراد مقیم ہیں۔

بنگلہ دیش کی حکومت نے ایک لاکھ پناہ گزینوں کو خلیجِ بنگال میں واقع دوردراز جزیرے پر منتقل کرنے کے منصوبے پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔تقریباً 1600 روہنگیا پناہ گزینوں کا پہلا گروپ بحری جہازوں کے ذریعے جمعہ کے روز مذکورہ جزیرے پر پہنچ گیا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ ایک محفوظ جگہ ہے اور رہنے کیلئے نئے تعمیر کردہ گھر موجود ہیں۔لیکن اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے گروپوں نے ماہرین کے تجزیئے کا حوالہ دیا ہے جنہوں نے خبردار کیا ہے کہ طوفان کے باعث ہونے والی شدید بارشوں سے پورا جزیرہ سیلاب کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے بعض روہنگیا خاندانوں کا یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا ہے کہ اُنہیں بنگلہ دیشی حکام نے دھمکیاں دے کر جزیرے پر جانے کیلئے مجبور کیا ہے۔اس گروپ نے پناہ گزینوں کی منتقلی کا منصوبہ روکنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ روہنگیا لوگوں کو اُن کی مرضی کے خلاف مجبور کیا جارہا ہے۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین، فلیپو گرانڈی نے زور دیا ہے کہ منتقلی کا کوئی بھی عمل لازماً رضاکارانہ اور باخبر فیصلے کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔