- الإعلانات -

اعضا کی پیوند کاری کے بعد خاتون کی ہلاکت، وجہ کیا بنی؟

واشنگٹن : پھیپھڑوں کی پوند کاری کے نتیجے میں کرونا وائرس کا شکار ہوکر امریکی خاتون کے مرنے کا پہلا مصدقہ کیس سامنے آگیا۔

امریکا میں پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا خاتون پھیپھڑوں کی پیوند کاری کے دو ماہ بعد کرونا وائرس کے باعث دنیا سے چل بسی، خاتون کی موت کے بعد انکشاف ہوا کہ وہ پھیپھڑوں کی پیوند کاری کے دوران کرونا ختاون میں مبتلا ہوا تھا۔

یہ پھیپھڑے ایک ایسی خاتون کے تھے جو گاڑی کے ایک حادثے میں ہلاک ہوئی تھی اور پھر اسے پھیپھڑوں کے امراض کی شکار خاتون میں ٹرانسپلانٹ کیا گیا۔

ٹرانسپلانٹ سے قبل دونوں کا طبی معائنہ کیا گیا جس میں رپورٹس منفی آئی تاہم آپریشن کے 3 دن بعد ٹرانسپلانٹ کے عمل سے گزرنے والی خاتون کو بخار کا سامنا ہوا، بلڈ پریشر کی سطح گر گئی اور سانس لینے میں مشکلات کا سامنا ہوا۔

ڈاکٹروں نے خاتون کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ پھیپھڑوں کے انفیکشن میں مبتلا ہے اور پھر آہستہ آہستہ کرکے اسے دل کا عارضہ بھی لاحق ہونے لگا اور پھر پتہ چلا کہ وہ خاتون کرونا وائرس میں مبتلا ہوگئی ہے اور آپریشن کے دو ماہ تک ہلاک ہوگئی۔

تمام ٹیسٹ منفی آنے کے باوجود خاتون کرونا میں مبتلا تھی جس کا انکشاف پھیپھڑوں کے اندر موجود سیال کا معائنہ کرونا کی تصدیق ہوئی۔

یونیورسٹی آف مشی گن میڈیکل اسکول کے مطابق امریکا میں گزشتہ برس چالیس ہزار افراد کو اعضاء کی پیوند کاری کی گئی لیکن یہ امریکا میں کرونا کا ممکنہ طور پہلا مصدقہ کیس ہے جس میں وائرس کسی عضو کی پیوندکاری کے نتیجے میں منتقل ہوا۔

اگر کسی کو کرونا وائرس ہو تو اس کے پیھپیھڑے کسی دوسرے فرد کو ٹرانسپلانٹ نہیں کرنے چاہیے۔