- الإعلانات -

پاکستانی نژاد امریکی ڈرائیور کا قتل: متاثرہ خاندان کیلئے 8 لاکھ ڈالر عطیہ جمع

واشنگٹن: امریکی عوام نے گزشتہ ہفتے کار چھیننے کے دوران قتل ہونے والے پاکستانی نژاد امریکی کے اہل خانہ کے لیے 8 لاکھ ڈالر جمع کرلیے۔

محمد انور کی ہلاکت کے بعد ان کے اہلِ خانہ کا ذریعہ آمدن ختم ہوجانے پر کمیونٹی نے ان کی معاونت کے لیے ایک گو فنڈ میں پیج بھی بنایا جس پر 6 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں 36 ہزار ڈالر سے زائد رقم جمع ہوگئے تھے۔

متاثرہ خاندان نے آخری رسومات اور دیگر اخراجات کے لیے ایک لاکھ ڈالر معاونت کی اپیل کی تھی۔’گو فنڈ می’ مہم کے منتظمین نے کہا کہ انہیں پیر کی سہ پہر تک 7 لاکھ 82 ہزار 893 ڈالر موصول ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ جنازے اور دیگر اخراجات کو پورا کرنے کے لیے عطیہ دہندگان سے فی کس 20 ڈالر کی اپیل کی گئی تھی۔علاوہ ازیں وقوعہ پر لوگوں نے تعزیتی پھول بھی رکھے۔

متاثرہ خاندان نے میڈیا کو ایک بیان میں کہا کہ اگرچہ مالی معاونت سے جاں بحق ہونے والے شخص کی کمی پوری نہیں کرسکتی لیکن اس سے روزمرہ کی زندگی کے کچھ مسائل اور پریشانیوں کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے عطیہ دہندگان کو مخاطب کرکے کہا کہ ‘ہم آپ کا جتنا بھی شکریہ ادا کریں کم ہے، جو محبت اور خلوص آپ نے دی وہ غیرمعمولی ہے’۔

واشنگٹن ڈی سی کرمنل انویسٹی گیشن ڈویژن کے کمانڈر رمی کائل نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ جنوری میں دونوں میں سے ایک لڑکی نے کسی طرح کی کارروائی کی تھی اور وہ گرفتار بھی ہوئی تھی یعنی ایسا لگتا ہے کہ یہاں بھی ایسا ہی ہوا۔

واشنگٹن کے میئر موریل باؤسر نے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک ٹاسک فورس کا آغاز کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے، میرے پاس بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔

پولیس نے 13 اور 15 سالہ لڑکیوں پر پاکستانی نژاد امریکی ڈرائیور کے قتل اور کار چھیننے کی دفعات عائد کردی ہیں۔

ساؤتھ ایسٹ واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی 13 سالہ اور فورٹ واشنگٹن، میری لینڈ سے تعلق رکھنے والی 15 سالہ لڑکیوں کے خلاف قتل، ٹیکسی چھیننے کی مسلح کوشش اور سنگین جرم کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

پاکستانی پناہ گزین محمد انور واشنگٹن میں اس وقت کھانا پہنچانے کا کام کررہے تھے اور ایک کار چھیننے کی کوشش کے دوران جاں بحق ہوگئے تھے۔

مزیدپڑھیں: امریکا: 17 برس بعد قتل کے پہلے مجرم کو ‘مہلک انجیکشن’ سے سزائے موت

پولیس کے مطابق ساؤتھ ایسٹ واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی 13 سالہ اور فورٹ واشنگٹن، میری لینڈ سے تعلق رکھنے والی 15 سالہ لڑکیاں ٹیسر (بجلی کا جھٹکا دینے والی راڈ) سے مسلح تھیں۔

محمد انور کی لڑکیوں کے ساتھ ساؤتھ ایسٹ واشنگٹن میں اس وقت لڑائی ہوئی جب انہوں نے ان کی ہونڈا ایکارڈ کار چھیننے کی کوشش کی۔

کار میں موجود دونوں لڑکیوں نے گیئر کو ڈرائیو پر رکھا جس سے محمد انور ڈرائیور سیٹ اور دروازے کے درمیان پھنس گئے۔

وہ کار سے باہر کی جانب لٹکے ہوئے تھے جب کار تیزی سے وین اسٹریٹ ساؤتھ ایسٹ سے گزری اور ایک کھمبے سے ٹکرائی جس سے کار کا دروازہ محمود انور کو جا لگا اور ہسپتال پہنچ کر انہوں نے دم توڑ دیا۔