- الإعلانات -

اقوام متحدہ کا میانمار کو اسلحے کی فروخت فوری روکنے کا مطالبہ

اقوام متحدہ نے رواں برس فروری میں میانمار میں ہونے والی فوجی بغاوت کے باعث وہاں کی حکومت کو اسلحے کی فروخت فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد بھی منظور کی ہے جس میں رواں برس فروری میں میانمار میں ہونے والی فوجی بغاوت کی مذمت کی گئی ہے۔

جنرل اسمبلی نے آنگ سان سوچی سمیت میانمار کے سیاسی رہنماؤں کو فوری رہا کرنے اور مظاہرین پر تشدد روکنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ میانمار کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی کرسچن شرنر برجنر کا کہنا تھا کہ ملک میں بڑے پیمانے پر خانہ جنگی کا خطرہ ایک حقیقت ہے، انہوں نے فوری اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ میانمار میں فوجی حکومت کو واپس بھیجنے کے امکانات بھی معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ میں پیش کی جانے والی قرارداد کی 119 ممالک نے حمایت کی جبکہ صرف ایک ملک بیلاروس نے قرارداد کی مخالفت کی، چین اور روس سمیت 36 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ خیال رہے کہ چین اور روس میانمار کو سب سے زیادہ اسلحہ فروخت کرنے والے ممالک میں شامل ہیں۔

قرارداد میں حصہ نہ لینے والے کچھ ممالک کا کہنا تھا کہ میانمار میں فوجی بغاوت وہاں کا اندرونی معاملہ ہے جبکہ دیگر کا کہنا تھا کہ قرارداد میں 4 سال قبل روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے حوالے سے بات نہیں کی گئی۔