- الإعلانات -

امریکا کی جانب سے بھارت کی ایک اور بڑی امداد پر غور

واشنگٹن: امریکا کی جانب سے بھارت کی ایک اور بڑی امداد پر غور کیا جا رہا ہے۔ روئٹرز کے مطابق امریکا بھارت کے لیے 4 ارب ڈالر کی ‘سرمایہ کاری کی امداد’ پر غور کر رہا ہے، اس سے قبل بھی بھارت کو اربوں ڈالر کی امداد فراہم کی جا چکی ہے۔

نئی دہلی نے پیر کو کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان امدادی رقم کو رواں رکھنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔ یو ایس انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن (DFC) یا اس کی پیشرو ایجنسیوں نے اب تک بھارت کو 5.8 بلین ڈالر فراہم کیے ہیں، جن میں سے 2.9 بلین ڈالر بقایا ہیں، یہ امداد بھارت کو کرونا ویکسین کی تیاری، ہیلتھ کیئر، قابل تجدید توانائی، تاجروں کی مالی ضرورت اور انفرااسٹرکچر کے لیے دی گئی ہے۔

ٹوکیو میں امریکا بھارت کے حکام کی ملاقات کے بعد بھارتی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری میں مدد فراہم کرنے کے لیے ڈی ایف سی کی طرف سے 4 ارب ڈالر مالیت کی تجاویز زیر غور ہیں، واضح رہے کہ ٹوکیو میں امریکا اور بھارت کے رہنما منگل کو ایک سربراہی اجلاس منعقد کریں گے۔ وزارت نے کہا ہے کہ تازہ ترین معاہدہ بھارت میں ڈی ایف سی کی طرف سے فراہم کردہ سرمایہ کاری کی امداد میں اضافہ کرے گا۔

امریکی صدر جو بائیڈن اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اُن 13 ممالک کے حکومتی سربراہان میں شامل تھے، جنھوں نے پیر کے روز مشترکہ طور پر خوش حالی کے لیے انڈو پیسیفک اکنامک فریم ورک کے نام سے شراکت داری کا آغاز کیا تھا۔