بین الاقوامی

تارکین وطن خاتون ارکان اسمبلی اپنے وطن واپس جائیں، ٹرمپ کی ہرزہ سرائی

واشنگٹن: حکومت کی نفرت آمیز پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنانے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کی نو منتخب مسلم خواتین سمیت 4 تارکین وطن خاتون اراکین کو امریکا چھوڑ کر اپنے وطن جا بسنے کا مشورہ دیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں منتخب ہو کر کانگریس کا حصہ بننے والی 4 تارکین وطن خواتین اراکین کو حکومت پر تنقید کرنے پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اخلاقیات کی تمام حدیں پار کرلیں۔

امریکی صدر نے چاروں اراکین اسمبلی کا نام لیے بغیر کہا کہ انہیں امریکا میں طرز حکومت پر تنقید کرنے کے بجائے پہلے اپنے ممالک واپس جانا چاہیئے جو جرائم اور کرپشن کی آماج گاہ ہیں، پہلے اپنے ملک میں ’گڈ گورنس‘‘ کی مثال قائم کریں پھر کسی دوسرے پر تنقید کریں۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اب ناکام ریاستوں سے تعلق رکھنے والے دنیا کی سب سے عظیم اور طاقت ور قوم امریکا کو بتائیں گے کہ گڈ گورنس کیسے کی جاتی ہے؟ ذرا یہ اراکین اپنے ملک جائیں اور وہاں یہ سبق سکھائیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ اسپیکر نینسی پاول ان چاروں تارکین وطن خواتین کی واپسی کے لیے سفری انتظامات کرائیں گی تاکہ یہ خواتین اپنے ملک کے لیے بھی کچھ کام کرسکیں اور پھر آکر ہمیں بتائیں کہ کیسے حکومت کی جاتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے نفرت آمیز بیانات اور اخلاق سے گری گفتگو کیلیے شہرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے ان چاروں خاتون اراکین کے نام تو نہیں لیے تاہم ان کا واضح اشارہ الہان عمر، راشدہ طالب، الیگزینڈرا اور آیانا پریسلی کی جانب تھا جن کی ابتدائی حیثیت امریکا میں پناہ گزین کی تھی اور بعد ازاں امریکی شہریت ملی تھی۔

الہان عمر سمیت دیگر خاتون اراکین نے صدر ٹرمپ کے بیان کو ’ نسل پرستانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر اپنے طرز حکومت پر نظر ثانی کرنے کے بجائے دھمکیوں پر اتر آئے ہیں جن سے ان کے قد میں اضافہ نہیں ہوگا اور رہی سہی عزت بھی جاتی رہے گی۔

واضح رہے کہ امریکا میں گزشتہ برس ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں منتخب ہونے والی مسلمان خواتین میں صومالی پناہ گزین خاندان کی بیٹی الہان عمر، فلسطينی تارکين وطن والدین کی بيٹی رشيدہ طالب اور 1997 میں طالبان کی قید سے فرار ہونے والے خاندان کی چشم و چراغ صفیہ وزیر شامل ہیں۔

بھارت میں مون سون بارشوں سے 11 بھارتی فوجی اور 2 شہری ہلاک

شملہ: بھارت میں مون سون بارشوں کے دوران ایک عمارت منہدم ہوگئی جس کے نتیجے میں 11 فوجی اور 2 شہری ہلاک ہوگئے جب کہ عمارت کے ملبے سے 5 فوجی اہلکاروں اور 12 شہریوں کو بحفاظت نکالا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق دو دن سے جاری بارشوں کی ہلاکت خیزی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، تازہ واقعے میں شمالی ریاست ہماچل پردیش میں ایک عمارت گرنے سے 6 فوجی اہلکار اور 2 شہری ہلاک ہوگئے اس طرح دو دنوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 51 ہوگئی ہے۔

بھارتی ریسکیو ادارے این ڈی آر ایف کے اہلکاروں نے عمارت کے ملبے سے 5 فوجی اہلکاروں اور 12 شہریوں کو زندہ نکال لیا ہے جنہیں قریبی اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ 6 زخمیوں کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ نیپال سے بھارت میں داخل ہونے والے بارشوں کے سبب مختلف ریاستوں میں مجموعی طور پر 45 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جب کہ 5 ہزار سے زائد شہری بے گھر ہوگئے۔ سب سے زیادہ نقصان آسام میں ہوا جہاں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہے۔

Hamchal Salon building collaspe

محکمہ موسمیات نے اگلے 24 گھنٹے تک بارشوں کے جاری رہنے کی پیش گوئی کرتے ہوئے شہریوں کو بلا ضرورت گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے۔ ریسکیو اداروں کا کہنا ہے کہ زیادی تر ہلاکتیں گھروں کی دیواریں گرنے اور بجلی کے کرنٹ لگنے کے باعث ہوئیں۔

شام میں اتحادی افواج کی بمباری میں 22 شہری جاں بحق

دمشق: شام میں دو مختلف علاقوں پر اتحادی افواج کی فضائی بمباری کے نتیجے میں مجموعی طور پر 22 افراد جاں بحق ہوگئے جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ادلب کے شمالی شمالی علاقوں کے 2 مختلف عوامی مقامات پر بشار الاسد اور ان کی اتحادی افواج نے تابڑ توڑ فضائی حملے کیے جس کے نتیجے میں 22 افراد لقمہ اجل بن گئے۔

فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں 4 بچے اور 3 خواتین بھی شامل ہیں جب کہ درجن سے زائد زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں 3 زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جارہی ہے۔

شام کے بیشتر علاقوں سے جنگجوؤں کا قبضہ واگزار کرالیا گیا ہے تاہم ادلب کے کچھ علاقوں میں اب بھی شدت پسندوں کا زور ہے، شامی حکومت انہی شدت پسندوں کی آڑ لے کر رہائشی علاقوں پر بھی فضائی حملے کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل بھی ادلب میں اتحادی افواج کے طبی مراکز سمیت 4 مختلف مقامات پر فضائی حملوں میں 100 کے قریب افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

امریکا میں برطانیہ کے سابق سفیر نے ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف نیا پنڈوراباکس کھول دیا

امریکا میں تعینات سابق برطانوی سفیر سر کم ڈاروچ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف نیا پنڈوراباکس کھول دیا۔

سابق برطانوی سفیر سر کم ڈاروچ کی لیک ہونے والی ای میل میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق امریکی صدر باراک اوباما سے حسد میں ایران کے ساتھ نیوکلیئر ڈیل ختم کی۔

سر کم ڈاروچ کی جانب سے برطانوی حکومت کو 2018 میں بھیجے گئے خفیہ پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرنے کے اقدام کو ’سفارتی غنڈہ گردی‘ قرار دیا گیا۔

برطانوی وزیرخارجہ بورس جانسن نے بھی صدر ٹرمپ کو ڈیل قائم رکھنےکی کوشش کی تھی تاہم ہو ناکام رہے، بورس جانسن نے وائٹ ہاوس کا دورہ کر کے ٹرمپ سے ملاقات کی لیکن وہ امریکی صدر کو جوہری منصوبے پر قائم رہنے کے لیے قائل نہ کر سکے

سابق برطانوی سفیر سرکم نے افشا ہونے والی خفیہ میل میں لکھا تھا کہ ایران ڈیل پر صدر ٹرمپ کے مشیروں کی رائے میں بھی اختلاف ہے۔

سر کم ڈاورچ نے اپنی میل میں یہ بھی لکھا کہ جان بولٹن کے ٹرمپ انتظامیہ کا حصہ بننے کے بعد ایران ڈیل کا یہ حشر ہونا ہی تھا، ٹرمپ انتطامیہ کے پاس ایران پر نئی پابندیوں کے سوا کوئی پلان بی نہیں ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس مئی میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے اسے سابق صدر اوباما کی سنگین غلطی اور نااہلی قرار دیا تھا۔

چند روز قبل سابق برطانوی سفیر سر کم ڈاروچ کی جانب سے اس حوالے سے برطانوی حکومت کی لکھی گئی خفیہ میلز افشا ہوئی تھی جس میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس فیصلے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

سر کم ڈاروچ کی ای میلز افشا ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں تعینات سابق برطانوی سفیر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں بے وقوف قرار دیا تھا جب کہ سر کم ڈاروچ نے ای میلز اسکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا تھا۔

امریکا کے بعد فرانس کا بھی خلائی فورس بنانے کا اعلان

پیرس: امریکا کے بعد فرانس نے بھی خلائی فورس بنانے کا اعلان کردیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کے بعد فرانس نے بھی خلائی فورس بنانے کا اعلان کردیا ہے۔ فرانسیسی صدر میکخواں نے آرمی کے جوانوں سے خطاب میں کہا کہ فرانسیسی فضائیہ کو خلائی فورس بنانے کی اجازت دیدی ہے، فورس بنانے کا مقصد فرانس کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فورس کی مدد سے فرانس کے سیٹلائٹ سسٹم کو بھی تحفظ ملے گا جب کہ یہ فورس اگلے سال ستمبر تک بنائی جائے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ملٹری کو ’اسپیس فورس‘ خلائی فورس تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ خلا میں امریکی موجودگی کافی نہیں مکمل غلبہ چاہیے اور چاند پر امریکی جھنڈا لگانا کافی نہیں۔

امریکا کی جانب سے خلائی فورس بنانے کے اعلان کے بعد چین نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا خلا کو جنگی سرگرمیوں کا مرکز بنانے سے گریز کرے کیوں کہ خلا کو میدان جنگ بنانا پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہوگا۔

برطانیہ نے ایرانی آئل ٹینکر کی رہائی کے لیے شرط رکھ دی

لندن/ تہران: برطانیہ نے ایران کی جانب سے ’منزل‘ کی مصدقہ نشاندہی کی شرط پر تحویل میں لیے گئے آئل ٹینکر کو رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق جبرالٹر کے پانیوں میں ایران کے آئل ٹینکر کو برطانوی بحریہ کی جانب سے تحویل میں لیے جانے پر پیدا ہونے والا تنازع اپنے منطقی انجام کو پہنچتا ہوا نظر آرہا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ نے اس حوالے سے اپنے ایرانی ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو بھی کی۔

ایرانی وزیر خارجہ جاوید ظریف نے اپنے برطانوی ہم منصب پر واضح کیا کہ ہم کسی بھی ملک کے ساتھ تنازع نہیں چاہتے اور ہر قسم کے مسئلے کا پُرامن حل اولین ترجیح ہے، برطانیہ کے ساتھ خوشگوار دو طرفہ تعلقات کے خواہاں ہیں جس کے لیے آئل ٹینکر کی ضبطی کے مسئلے کو خوش اسلوبی سے حل کرنا چاہتے ہیں۔

برطانوی وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ نے جوباً کہا کہ آئل ٹینکر میں موجود خام تیل ہمارا مسئلہ نہیں، ہم بس اتنی یقین دہانی چاہتے ہیں کہ یہ تیل شام کو سپلائی نہیں کیا جا رہا تھا جس کے لیے ایران بس آئل ٹینکر کی مصدقہ منزل بتائے تو آئل ٹینکر کو فوری طور پر رہا کردیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ایرانی ٹینکر کو خام تیل شام لے جانے پر 4 جولائی کو برطانوی بحریہ نے تحویل میں لے لیا تھا، آئل ٹینکر گریس-1 کے کپتان اور چیف آفیسر کیخلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا بعد ازاں جبرالٹر پولیس کی جانب سے عملے کے چاروں ارکان کو ضمانت پر مشروط رہائی دی گئی تھی۔

نوجوت سنگھ سدھو نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا

چندی گڑھ: نوجوت سنگھ سدھو نے کانگریس کے صدر راہول گاندھی کو اپنی وزارت سے استعفیٰ پیش کردیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر نوجوت سنگھ نے ایک ٹویٹ میں صوبائی وزارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا جب کہ انہوں نے راہول گاندھی کے نام لکھے گئے استعفیٰ کاعکس بھی شیئر کیا۔ بقول سدھو انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیراعلٰی پنجاب کو بھیجا تاہم وزیراعلیٰ ہاؤس کو تاحال استعفیٰ موصول نہیں ہوا۔

نوجوت سنگھ نے اپنے سادہ سے استعفیٰ میں مستعفی ہونے کی وجہ تحریر نہیں کی، کانگریس کی جانب سے استعفیٰ موصول ہونے کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے جب کہ راہول گاندھی لوک سبھا انتخابات میں شکست فاش پرخود پارٹی صدارت سے استعفیٰ دے چکے ہیں اور تاحال صدارت سنبھالنے کو تیار نہیں۔

نوجوت سنگھ سدھو اپنے وزیراعلیٰ سے اختلاف کے باعث گزشتہ ماہ ہی وزارت بلدیات اور سیاحت و ثقافت سے دستبردار ہوگئے تھے تاہم راہول گاندھی سے ملاقات کے بعد معاملات طے پاگئے تھے جس کے بعد سدھو کو وزارت توانائی دی گئی تھی تاہم انہوں نے اپنی ذمہ داریاں نہیں سنبھالی تھیں۔

نوجوت سنگھ اور وزیراعلٰی پنجاب آرمیندرا سنگھ کے درمیان اختلافات اس وقت شدت اختیار کرگئے تھے جب لوک سبھا کے انتخابات میں نوجوت سنگھ کی اہلیہ نوجوت کور سدھو کو ٹکٹ نہیں دیا گیا تھا۔

افغانستان میں طالبان کا ہوٹل پر حملہ، 2 جنگجو اور 8 پولیس اہلکار ہلاک

کابل: افغانستان کے صوبے بادغیس کے ہوٹل میں طالبان جنگجوؤں کے حملے میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ گھمسان کی جھڑپ میں 8 پولیس اہلکار ہلاک اور 2 جنگجو مارے گئے۔

افغان میڈیا کے مطابق خود کش حملہ آورں کا ایک گروپ بادغیس کے قلعہ نو میں داخل ہوگیا اور ہوٹل کو دھماکے سے اُڑانے کی دھمکی دی تاہم وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے حملہ آوروں پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں دو خود کش بمبار دھماکا کرنے سے قبل ہی ہلاک ہوگئے۔

ہوٹل میں موجود دیگر طالبان جنگوؤں نے ساتھی خود کش بمبار کی ہلاکت کے بعد پوزیشن سنبھال لیں اور پولیس کے 8 اہلکاروں کو قتل اور 7 کو زخمی کر کے ہوٹل پر قابض ہوگئے تاہم افغان فوج نے ہوٹل میں کارروائی کرکے ہوٹل کو واگزار کروالیا۔

طالبان کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی گئی ہے تاہم ترجمان طالبان کا دعویٰ ہے کہ حملہ بادغیس کے پولیس ہیڈ کوارٹر پر کیا گیا ہے جس میں افغان پولیس کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا۔

واضح رہے کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان امن مذاکرات کا سلسلہ چین تک جا پہنچا ہے جہاں فریقین 11 سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے روٹ میپ کے تعین کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

Google Analytics Alternative