بین الاقوامی

افغان شہریوں کی بڑی تعداد طالبان کے بجائے مقامی اور نیٹو افواج کے ہاتھوں ہلاک ہوئی، اقوام متحدہ

کابل: اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں معصوم شہریوں کی بڑی تعداد طالبان اور دہشت گردوں کی بجائے مقامی فوج، امریکی اور نیٹو اتحادی کے ہاتھوں لقمہ اجل بن رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ سال 2019ء کے پہلے وسط میں 717 شہری افغان اور نیٹو افواج کے ہاتھ مارے گئے جبکہ تخریبی کارروائیوں اور دہشت گردوں کے ہاتھوں 531 باشندے لقمہ اجل بنے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ نئے اعداد و شمار اس وقت سامنے آئے ہیں جب امریکا اور طالبان کی جانب سے امن مذاکرات کے شروع ہونے کا امکانات پیدا ہوئے ہیں۔

افغانستان کے لیے اقوامِ متحدہ کے معاون مشن (یواین اے ایم اے ) نے اپنے اعداد و شمار میں کہا ہے کہ زیادہ تر امریکی طیاروں کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں میں 363 افراد لقمہ اجل بنے ہیں جن میں 89 بچے بھی شامل ہیں۔ یہ اموات 2019ء کے پہلے 6 ماہ میں ہوئی ہیں۔

دوسری جانب امریکی افواج نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے اپنے اعداد و شمار قدرے درست ہیں کیونکہ امریکی افواج ہمیشہ ہی شہریوں اور غیرمسلح افراد کو نقصان پہنچانے سے گریز کرتی ہیں تاہم انہوں نے اپنے اعدادوشمار پیش نہیں کیے۔

اس سے قبل اپریل کے مہینے میں بھی اقوامِ متحدہ نے عین یہی رپورٹ پیش کی تھی جس میں افواج کے ہاتھوں مرنے والے شہریوں کی بلند تعداد بتائی گئی تھی اور یہ رجحان اب بھی جاری ہے جس میں امریکی، افغانی، اتحادی اور نیٹو افواج کی جانب سے مسلسل شہریوں کی اموات ہورہی ہیں۔

تاہم اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے اس سال شہریوں کی ہلاکتوں میں کمی ہوئی ہے اور کل 3,812 عام افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں تاہم رپورٹ میں اسے بھی ’صدماتی اور ناقابلِ برداشت ‘ قرار دیا گیا ہے۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ یکم جنوری سے اب تک افغانستان میں ملکی اور غیر ملکی افواج کے ہاتھوں 985 شہری مارے گئے یا زخمی ہوئے ہیں۔ یو این اے ایم اے کے سربراہ رچرڈ بینٹ نے کہا ہے کہ (شہریوں کی اموات پر) ہر فریق اپنی حرکات کی مختلف وضاحتیں پیش کررہا ہے۔

افغانستان: رواں سال کے ابتدائی 6 ماہ میں 4 ہزار افراد ہلاک ہوئے، اقوام متحدہ

کابل: اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں افغانستان میں 4 ہزار شہری ہلاک ہوئے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کی رپورٹ کے مطابق شدت پسندوں کے خلاف جنگ میں سال 2019 کے پہلے 6 ماہ میں 3ہزار 812 افغان شہری ہلاک و زخمی ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ کارروائیوں اور جھڑپوں کے درمیان سب سے زیادہ عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں جس کے بعد گھروں میں تیار کیے گئے بموں اور فضائی حملوں سے لوگ مارے گئے۔

رپورٹ کے مطابق یکم جنوری 2019 سے 30 جون 2019 تک طالبان اور شدت پسندوں نے 531 عام افغان شہریوں کو ہلاک اور 1400 سے زائد کو زخمی کیا، شدت پسند گروپوں نے دانستہ طور پر 985 عام شہریوں کو نشانہ بنایا جن میں سرکاری افسران، قبائلی عمائدین، امدادی کارکن اور مذہبی شخصیات شامل تھیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہےکہ 6 ماہ میں حکومتی فورسز کے ہاتھوں 717 افغانی ہلاک اور 680 کے قریب زخمی ہوئے جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 31 فیصد زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں 144 خواتین اور 327 بچے بھی ہلاک ہوئے جب کہ فضائی حملوں میں 519 عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں جن میں 150 بچے بھی شامل تھے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کی طالبان سے ایک طویل جنگ جاری ہے جس کے بعد امریکا افغانستان سے اپنی افواج نکالنے کے لیے طالبان سے مذاکرات کررہا ہے جو اب تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔

طالبان نے امریکی فوج کی واپسی کے اعلان سے پہلے افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات سے انکار کردیا ہے اور اس حوالے سے طالبان کا کہنا ہےکہ افغان حکومت کےس اتھ مذاکرات اس وقت ہوں گے جب امریکا کے ساتھ غیر ملکی فوجیوں کے انخلا سے متعلق کوئی معاہدہ ہوجائے گا۔

قندھار میں افغان اہلکار کی فائرنگ سے 2 امریکی فوجی ہلاک، 3 زخمی

کابل: افغانستان کے صوبے قندھار میں افغان فوجی نے فائرنگ کرکے 2 امریکی فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ قندھار کے ضلع شاہ ولی کوٹ میں تناجوہ فوجی کیمپ کے اندر پیش آیا جہاں ایک افغان فوجی نے امریکی فوجیوں پر فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں 2 امریکی فوجی ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے۔ جوابی کارروائی میں حملہ آور افغان فوجی بھی ہلاک ہوگیا۔ امریکی حکام نے اسے اندرونی حملہ قرار دیا ہے جبکہ ہلاک امریکی فوجیوں کا تعلق 82 ایئر بورن ڈویژن سے تھا۔

نیٹو کے آپریشن ریزولوٹ سپورٹ کے مطابق رواں سال افغانستان میں حملوں کے دوران مارے گئے امریکی فوجیوں کی تعداد 14 ہوگئی ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ 2020 تک افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ طالبان اور امریکا کے درمیان افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات بھی جاری ہیں۔

بھارت: ایوان بالا سے ایک ساتھ 3 طلاق دینے پر سزا کا بل منظور

بھارت کی لوک سبھا (ایوانِ زیریں) کے بعد راجیا سبھا (ایوان بالا) سے بھی ایک ساتھ تین طلاق کو قابل سزا جرم قرار دینے کا بل کثیر رائے سے منظور کر لیا گیا۔

ہندوستان ٹائمز میں شائع رپورٹ کے مطابق ایوان بالا میں بل کو 99 میں 84 ووٹ ملے۔

بتایا گیا کہ وزیر قانون روی شنکر پرساد نے پارلیمنٹ سے باہر نکلتے ہوئے وکٹری کا سائن ظاہر کیا۔

یونین وزرا نے ایوان بالا سے بل منظور ہونے پر ’تاریخ دن‘ قرار دیا۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مسلم ویمن (پروٹیکشن رائٹس آن میریج) بل 2017 منظور ہونے پر مسرت کا اظہار کیا۔

انہوں نے ٹوئٹ میں کہا کہ دقیانوسی اور قرون وسطیٰ دور کی روایت آخر کار تاریخ کے کچرا دان تک محدود کردی گئی۔

نریندر مودی نے کہا کہ پارلیمنٹ نے ایک ساتھ تین طلاق مسترد کردی۔

بھارتی وزیراعظم نے بل کی منظوری کو صنفی انصاف کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ اس سے معاشرے میں مزید یکسانیت کو فروغ ملے گا۔

اس ضمن میں واضح رہے کہ مذکورہ بل آرڈیننس کے ذریعے نافذ العمل ہے تاہم نریندر مودی کی حکومت نے دوبارہ برسراقتدار آنے کے فوراً بعد پارلیمنٹ میں بل کی منظور کا معاملہ اٹھایا۔

خیال رہے کہ لوک سبھا (ایوانِ زیریں) میں ایک ہی وقت میں تین طلاق دینے کو قابل سزا جرم قرار دینے کا بل تیسری مرتبہ بھی منظور کر لیا گیا تھا۔

اپوزیشن جماعتوں کانگریس اور ترینامول کانگریس نے بل پر رائے شماری کے بعد واک آؤٹ کیا تھا جس کے حق میں 302 اور مخالفت میں 78 ووٹ دیئے گئے۔

تین طلاقوں پر سزا کا بل کیا ہے؟

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق شادی سے متعلق مسلمان خواتین کے حقوق کے تحفظ سے متعلق بل 2019 میں لوک سبھا میں وزیر قانون روی شنکر پرساد نے گزشتہ سال 21 جون کو پیش کیا تھا۔

مذکورہ بل کے تحت ایک ہی وقت میں 3 مرتبہ طلاق دینا قابل سزا جرم ہے۔

بل کے تحت ایک ساتھ تین طلاق دینے والے شخص کو 3 سال قید کی سزا ہوگی اور خاتون یا اس کے اہلِ خانہ کی جانب سے شکایت درج کروانے پر جرم کو قابل سماعت قرار دیا جائے گا۔

ملزم کو مجسٹریٹ کی جانب سے ضمانت دی جاسکتی ہے، جو صرف متاثرہ خاتون کا بیان سننے کے بعد اگر مجسٹریٹ مطمئن ہو تو مناسب وجوہات کی بنیاد پر ضمانت دے سکتا ہے۔

بل کے تحت متاثرہ خاتون کی درخواست پر مجسٹریٹ کی جانب سے جرم کا دائرہ کار مرتب کیا جاسکتا ہے۔

متاثرہ خاتون کو شوہر کی جانب سے خود سمیت اپنے بچوں کے لیے مالی وظیفہ دیا جائے گا۔

جس خاتون کو ایک ساتھ تین طلاقیں دی گئیں وہ اپنے چھوٹے بچوں کی کسٹڈی حاصل کرسکتی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں لوک سبھا میں ایک ہی وقت میں تین طلاق دینے کو قابل سزا جرم قرار دینے کا بل ترامیم کے ساتھ منظور کیا گیا تھا, تاہم انتخابات کے باعث قانون سازی کا عمل رک گیا تھا۔

2017 میں بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں مسلمان مردوں کی جانب سے ایک ہی وقت میں 3 طلاق کے عمل کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔

بعد ازاں عدالتی فیصلے کو آئین کا حصہ بنانے کے لیے اقدامات شروع کیے گئے تھے اور اس سلسلے میں قانون سازی کرتے ہوئے پارلیمان میں بل پیش کرنے کی تیاریاں شروع کی گئی تھیں۔

بعد ازاں 2017 ہی میں اس سلسلے میں ایک بل لوک سبھا سے منظور کیا گیا تھا لیکن اپوزیشن جماعتوں کے شدید احتجاج کے بعد اس بل کو ترمیم کے بعد دوبارہ ایوان زیریں میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

تاہم یہ بل حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہونے کے باوجود منظور ہوگیا۔

تاہم جب ایوانِ بالا (راجیا سبھا) میں بیک وقت 3 طلاقوں کو ناقابلِ ضمانت جرم بنانے کا بل پیش کیا گیا تو کانگریس اور کچھ دیگر جماعتوں کی مزاحمت کے باعث یہ منظور نہیں ہوسکا تھا، جس کے بعد حکومت نے اس پر خصوصی حکم نامہ جاری کردیا تھا۔

خیال رہے کہ مسلم قوانین کے مطابق خاوند اپنی اہلیہ سے رشتہ ختم کرنے کے لیے 3 مرتبہ طلاق کے الفاظ کہتا ہے تاہم اس حوالے سے مسلم اسکالرز میں متضاد رائے پائی جاتی ہے، کچھ کا ماننا ہے کہ مرد کی جانب سے ایک ہی ساتھ طلاق کے الفاظ تین مرتبہ کہنے سے یہ رشتہ ختم ہوجاتا ہے۔

تاہم دیگر کا ماننا ہے کہ اسلامی شریعت کی روح سے 3 طلاقوں کے درمیان مخصوص عرصہ درکار ہے۔

بھارت میں رہنے والی اقلیتوں میں 15 کروڑ 50 لاکھ مسلمان بھی شامل ہیں جو اپنے ذاتی قوانین کے مطابق ان معاملات میں فیصلوں کے لیے آزاد ہیں، جس کا مقصد ہندو اکثریت والے ملک بھارت میں ان کی مذہبی آزادی تسلیم کرنا ہے۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا میں فوڈ فیسٹیول کے دوران فائرنگ، 3 افراد ہلاک

امریکی ریاست کیلی فورنیا میں فوڈ فیسٹیول کے دوران فائرنگ سے 3 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوگئے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق مسلح شخص نے فوڈ فیسٹیول میں شریک لوگوں پر فائرنگ کی جس سے فیسٹیول میں بھگدڑ مچ گئی جب کہ فائرنگ سے اب تک 3 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو ہلاک کردیا جب کہ حملہ آور کے دوسرے ساتھی کی بھی علاقے میں موجودگی کی اطلاع پر پولیس کا سرچ آپریشن جاری ہے۔

فوٹو: بشکریہ بی بی سی

فیسٹیول میں موجود ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ایک سفید فام شخص نے تقریباً 30 سیکنڈ تک رائفل سے فائرنگ کی۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ حملہ آور نے کسی مخصوص ٹارگٹ کو نشانہ بنانے کی بجائے اندھا دھند فائرنگ کی جس پر پولیس نے حملہ آور پر فوری قابو پاکر اسے ہلاک کردیا۔

پولیس کے مطابق حملہ آور کٹر کی مدد سے احاطے میں لگی باڑ کو کاٹ کر فیسٹیول میں داخل ہوا، پولیس نے عینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں حملہ آور کے ساتھی کی تلاش شروع کردی ہے جو ممکنہ طور پر اس کا سہولت کار بتایا جارہا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ کے نزدیک پہلے ہی پولیس کی کچھ نفری تعینات تھی جس نے واقعے کے فوری بعد کارروائی کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے پر ٹوئٹ کرکے شہریوں کو محتاط اور محفوظ رہنے کی ہدایت کی ہے۔

سعودی عرب میں بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے 2 افراد کے سر قلم

ریاض: سعودی عرب میں بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے 2 عرب شہریوں کا سر قلم کر دیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق ریاض میں بچوں کو اغوا کرنے اور پھر انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد موت کے گھاٹ اتارنے والے ایک سعودی اور ایک یمنی شہری کا سر تن سے جُدا کردیا گیا۔

مجرم فہد الکتھیرے (سعودی) اور محمد العقیل (یمنی)  بچوں پر نگاہ رکھتے اور پھر انہیں اغوا کرکے جنسی ہوس کا نشانہ بناتے تھے، حکام نے انہیں گرفتار کرکے کرمنل کورٹ میں پیش کیا جہاں جرم ثابت ہونے پر دونوں کو سزائے موت سنائی گئی۔

سزا کے خلاف مجرمان نے اپیل دائر کی جسے اپیل کورٹ نے مسترد کرتے ہوئے سزا کو برقرار رکھا، عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے حکام نے  جمعرات کی صبح  دارالحکومت ریاض میں مجرمان کے سر قلم کردیے۔

چین میں لینڈ سلائیڈنگ سے کم ازکم 30 افراد ہلاک

بیجنگ: چین کے جنوب مغربی علاقے میں پہاڑوں سے مٹی کے تودے پھسلنے سے کم ازکم 30 افراد ہلاک ہوگئے ہیں ۔ دوسری جانب مزید لاپتہ افراد کی تلاش بھی جاری ہے۔ تاہم بعض ذرائع نے ہلاک اور لاپتہ ہونے والوں کی تعداد اس سے زیادہ بتائی ہے۔

واقعہ منگل کے روز چین کے صوبے گوائی زو کے ایک دیہات میں پیش آیا جہاں پہاڑوں سے پتھر گرے اور لینڈ سلائیڈنگ ہوئی جس کے نتیجے میں پہاڑ کے دامن میں موجود 20 گھر ملبے تلے دب گئے، آخری اطلاعات تک امدادی عملہ ملبے کو ہٹانے کی کوشش کررہا تھا۔

مرنے والے میں دو بچے ، ایک شیرخوار اور اس کی ماں بھی شامل ہیں۔ چین کی زنہوا نیوز ایجنسی نے ہفتے کے روز 29 افراد کے مرنے کی تصدیق کی تھی لیکن مزید 22 افراد کے لاپتہ ہونے کی خبر دی تھی۔ امدادی کارکنان نے اب تک 40 افراد کو بحفاظت نکال لیا ہے اور ہنگامی حالت کا نفاذ کردیا ہے۔

مقامی اسکول میں طبی امداد کا مرکز کھول دیا گیا ہے جہاں مختلف ماہرین اور رضاکار شامل ہیں۔ حکومت نے فوری طور پر 44 لاکھ ڈالر کی رقم جاری کردی ہے جو لوگوں کو بچانے اور انہیں بحفاظت محفوظ مقامات تک منتقل کرنے کے لیے خرچ کی جائے گی۔

چین میں آئے دن لینڈ سلائیڈنگ سے جانی و مالی نقصان ہوتا رہتا ہے اور اسی صوبے میں 2017 میں تودے پھسلنے سے 30 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے

امریکا ایف-35 طیارے نہیں دے گا تو کسی اور ملک سے خریدیں گے، ترک صدر

انقرہ: ترکی کے صدر طیب اردگان نے صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا ایف-35 طیارے نہیں دے گا تو کسی اور ملک سے رجوع کریں گے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک صدر نے امریکا کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے F-35 طیاروں کی فراہمی سے انکار کو کھلی بدمعاشی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترکی کسی اور ملک سے طیارے خریدنے کے لیے رجوع کرے گا۔

ترک صدر طیب اردگان نے حکمراں پارٹی کے ارکان سے خطاب میں مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے معاہدے کو ختم کرنے پر کسی قسم کے دباؤ پر نہیں آئیں گے اور نہ ہی اپنے فیصلوں کو تبدیل کریں گے اور اپنے ملک کی سلامتی سب سے مقدم رکھی جائے گی۔

واضح رہے کہ ترکی کے روس سے اینٹی میزائل دفاعی نظام ایس-400 خریدنے کی وجہ سے امریکا نے دھمکی دی تھی کہ اگر ترکی نے یہ دفاعی سسٹم خریدا تو امریکا معاہدہ منسوخ کرتے ہوئے ترکی کو ایف-35 طیارے فروخت نہیں کرے گا۔

Google Analytics Alternative