کالم

بدانتظامی یا عذاب الٰہی

rohail-akbar

پاکستان بھر میں شدید بارشوں کے سبب سیلاب سے تقریبا ساڑھے 3 کروڑ لوگ متاثر ہوئے ہیں ایک ہزار سے زائد لوگ جان سے چلے گئے 1500 کے قریب زخمی ہوئے ہیں اور تقریبا 5 لاکھ لوگ ریلیف کیمپوں میں رہ رہے ہیں یہ سب ناقابل تلافی نقصان جو ہوا ہماری نالائقیوں اور بد انتظامیوں کی وجہ سے ہوا کیونکہ ہم نے آج تک کسی آفت سے نمٹنے کا بندوبست ہی نہیں کیا بلکہ ہر مصیبت اور پریشانی کو عذاب الٰہی سمجھ کر خاموشی اختیار کرلیتے ہیں جو سراسر غلط ہے اللہ تعالی ہم پر یہ سب ظلم کیوں کرے گا کیا ہم اسکی مخلوق نہیں ہیں ہم تو اس نبی آخرالزمان کے ماننے والے ہیں جو اللہ تعالی کے سب سے پیارے اور آخری نبی تھے یہ ہماری اپنی پیدا کردہ مشکلات ہیں جن میںہم بار بار پھنس رہے ہیں بار بار کی وارننگ کے باوجود ہم دریاﺅں کے ارگرد بیٹھے رہتے ہیں اور آنے والے سیلابی ریلوں سے بچنے کا کوئی انتظام ہی نہیں کرسکے اور آخر کار ہم اسکی لپیٹ میں آگئے اسے بدانتظامی کہتے ہیں جس سے اس وقت تقریبا ساڑھے تین کروڑ افراد متاثر ہیں جنہیں روٹی ،کپڑا اور مکان کی اشد ضرورت تو ہے ہی ساتھ میں غذائی تحفظ، زراعت اور لائیوسٹاک، صحت، پانی، صفائی اورخیمے بھی چاہیے اب تک کے اعدادوشمار کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے باعث بلوچستان میں 249افراد جاں بحق ہوئے، سندھ میں 405، پنجاب میں 187افراد خیبر پختونخوا میں 257، آزاد کشمیر میں 41افراد ،گلگت بلتستان میں 22 افراد جان کی بازی ہار گئے 7لاکھ 30ہزار483 مویشی ہلاک ہوئے بلوچستان میں ایک ہزارکلومیٹر شاہراہیں متاثر ہوئیں 18 پلوں کو نقصان پہنچا سندھ میں 2ہزار328 کلو میٹر شاہراہیں متاثر ہوئیں 60پلوں کو نقصان پہنچا پنجاب 130، خیبر پختونخوا ایک ہزار 589 کلومیٹر سڑکیں اور84 پلوں کو نقصان پہنچا جبکہ گلگت بلتستان میں 16 کلومیٹر شاہراہ اور 65 پل متاثر ہوئے آج پورا ملک سیلاب کی تباہ کاریوں سے دوچار ہے موجودہ سیلاب 2010 کے سیلاب سے بڑا ہے جس میں بہت سی قیمتی جانوں کا ضیاح ہوا اور لوگوں کے قیمتی اثاثے تباہ ہو گئے تقریبا ایک ہزار ارب ڈالر کا نقصان پاکستان کو اس سیلاب سے ہو چکا ہے جبکہ پاکستان میں جدید سہولیات کی عدم موجودگی کے باعث پھلوں اور سبزیوں کی مجموعی پیداوار کا 35 سے 40 فیصد ضائع ہو جاتا ہے پاکستان میں خوراک کے بحران نے زرعی مارکیٹنگ کے نظام میں بہت سی خامیوں اور ناکامیوں کو اجاگر کیا ہے بہت سے عوامل ہیں جو مارکیٹنگ کے نظام کی کارکردگی کو منفی طور پر متاثر کرتے ہیںجن میںتھوک منڈیوں کی کمی، فارم ٹو مارکیٹ، سٹوریج اور کولڈ چین نیٹ ورکس، ناکافی پروسیسنگ اور پیکجنگ کی سہولیات سمیت کمزور زرعی مارکیٹنگ کی معلومات کا نظام شامل ہے فصل کے بعد کے انتظام کے ناقص طریقہ کار بھی ایک خامی ہے پھلوں اور سبزیوں کی نقل و حمل کا کوئی مناسب طریقہ بھی نہیں ہے مخصوص گاڑیوں کی کمی کی وجہ سے سبزیوں اور پھلوں کو کھیتوں سے بڑی منڈیوں تک اسی کارٹ یا ٹرک کا استعمال کرتے ہوئے لے جایا جاتا ہے جس میں جانوروں کی نقل و حمل سمیت بہت سا دوسرا سامان لادا جاتا ہے حالانکہ ان پھلوں کو منڈی تک پہنچانے کےلئے ٹھنڈے نقل و حمل کے نظام جیسے ریفر ٹرک کا استعمال کیا جانا چاہیے ملک میںکوئی کولنگ اور پیکجنگ سینٹرز نہیں ہیں اور پیداوار کو محفوظ رکھنے کے لیے ہول سیل مارکیٹوں میں یا اس کے آس پاس کولڈ اسٹوریج کی ناکافی سہولیات ہیں ایک اندازے کے مطابق پھلوں اور سبزیوں کی مجموعی پیداوار کا 35 سے 40 فیصد ضائع ہو جاتا ہے پاکستان کے پاس زرعی مصنوعات بالخصوص پھلوں، سبزیوں اور مویشیوں کی ایک بڑی برآمدی منڈی ہے لیکن بین الاقوامی معیارات کے سخت اطلاق نے انہیں اپنی پوری صلاحیت تک پہنچنے سے روک رکھا ہے سینیٹری اور فائٹو سینیٹری کے ضوابط خاص طور پر پاکستان کی زرعی اور غذائی مصنوعات کو ترقی یافتہ ممالک کو برآمد کرنے کی صلاحیت کو محدود کیے ہوئے ہیں کچھ معاملات میںپاکستان کے موجودہ مینوفیکچرنگ اور مارکیٹنگ کا عمل ایس پی ایس کے معیار سے مطابقت نہیں رکھتا اس وقت ہمیں زرعی مارکیٹنگ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ایک جامع اور جارحانہ حکمت عملی کی ضرورت ہے یہ وجہ ہے کہ اس وقت سبزیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیںکررہی ہیں بلوچستان،سندھ،جنوبی پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے کئی اضلاع میں سیلابی صورتحال کے باعث سبزیوں،پھلوں اور دیگر اجناس کی ترسیل متاثر ہوگئی ہے سیلاب سے بڑے پیمانے پر سبزیاں اور پھل بھی ضائع ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے مقامی منڈیوں میں سبزیوں اور پھلوں کی آمد کم ہونے کے باعث قیمتیں بڑھ گئیں ہیں بڑے پیمانے پر جانور وں کی ہلاکت اور ترسیل نہ ہونے کی وجہ سے گوشت اور دودھ کی قیمت بڑھنے کا خدشہ ہے آنے والے دو ماہ میں مہنگائی مزید بڑھے گی جسکی شرح 27فیصدتک رہنے کا امکان ہے سیلابی صورتحال کے باعث زراعت،اسمال انڈسٹریز اور دیگر ذاتی روزگار کرنے والے لوگوں کو براہ رست بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے اس کے علاوہ مہنگائی اور شہریوں کی قوت خرید کم ہونے کے باعث معاشی سرگرمیاں بھی سست پڑنے کا امکان ہے جس کا اثرو روزگار کے مواقع کم ہونے کی صورت میں نکلے گا اور ملک میں بے ورزگاری مزید بڑھ سکتی ہے بارش اور سیلاب کے سبب کپاس، چاول، کھجور اور خریف کی سبزیاں اور پھل بری طرح متاثر ہوئے ہیں سیلاب کی وجہ سے کسانوں کے ٹیوب ویل اور دیگر انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا ہے جب کہ کھاد کی قیمت پہلے ہی بلند سطح پر ہے جس کی وجہ سے کسانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور آنے والی فصلیں بھی متاثر ہوسکتی ہیں مسلسل طوفانی بارشوں اور سیلابوں کی وجہ سے کپاس کی فصل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے جس کے نتیجے میں کپاس کی قلت کے پیش نظر قیمت 23ہزار روپے فی من ہو چکی ہے جو پاکستان کی تاریخ میں کی بلند ترین ہے اب کپاس کی فصل متاثر ہونے کے باعث ٹیکسٹائیل برآمدات متاثر ہوں گی اور بڑے پیمانے پر روئی درآمد کرنی پڑے گی مرکزی حکومت ابھی تک سیلاب متاثرین کی امداد،نظام زندگی،گیس ،بجلی ،فون بحالی ،ایل پی جی ،روٹی ،پلاسٹک کی قیمت کنڑول کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آرہی ہے جبکہ پنجاب میں وزیر اعلی چوہدری پرویز الہی کی کاوشوں سے سیلاب متاثرین کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے امید ہے بے گھر افراد کو جلد تیار گھر مل جائیںگے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے