آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں انتخابات کا انعقاد ایک مرتبہ پھر سیاسی سرگرمیوں میں تیزی لے آیا ہے۔ مقامی سیاسی جماعتوں کے علاوہ پاکستان کی بڑی قومی جماعتیں بھی بھرپور انداز میں انتخابی میدان میں اترنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ ہر سیاسی جماعت کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے حمایت یافتہ امیدوار کامیاب ہوں تاکہ حکومت سازی کا عمل ان کے ہاتھ میں آئے اور وہ اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو مزید مضبوط بنا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے انتخابات ہمیشہ پاکستان کی قومی سیاست کا ایک اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی سیاست براہِ راست پاکستان کی مرکزی سیاست سے متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان میں جب بھی حکومت تبدیل ہوتی ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر ان دونوں خطوں میں بھی دکھائی دیتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں آزاد کشمیر میں دو سے تین مرتبہ حکومتی تبدیلیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ وہاں کی حکومتیں سیاسی استحکام سے محروم رہی ہیں۔ یہی صورتحال کسی حد تک گلگت بلتستان میں بھی دیکھی جا سکتی ہے، جہاں حکومتوں کی تشکیل اور بقا اکثر وفاقی سیاسی حالات سے جڑی رہتی ہے۔ بدقسمتی سے یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتیں مکمل خودمختار اور مضبوط سیاسی بنیادوں پر قائم نہیں ہوتیں بلکہ ان کا کردار ایک حد تک کٹھ پتلی جیسا محسوس کیا جاتا ہے۔ جب اسلام آباد میں سیاسی ہوا کا رخ تبدیل ہوتا ہے تو اس کے اثرات ان خطوں کی حکومتوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ نتیجتاً یہاں کی حکومتیں اپنی مدت پوری کرنے کے باوجود حقیقی معنوں میں آزادانہ اور موثر حکمرانی کا کردار ادا نہیں کر پاتیں۔یہ صورتحال نہ صرف جمہوری اصولوں کے منافی ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہے۔ جب عوام یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے ووٹ سے بننے والی حکومتیں مستقل مزاجی سے کام نہیں کر سکتیں اور ہر وقت سیاسی تبدیلیوں کے خطرات سے دوچار رہتی ہیں تو جمہوری نظام کمزور پڑنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں سیاسی استحکام پیدا کرنے کے لیے ایک نئے اور جامع سیاسی ماڈل کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔اس سلسلے میں ایک اہم تجویز یہ ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے انتخابات کو پاکستان کے عام انتخابات کے ساتھ منسلک کر دیا جائے۔ یعنی پاکستان میں جب قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوں تو اسی وقت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے انتخابات بھی منعقد کیے جائیں۔ بیک وقت انتخابات کے انعقاد سے نہ صرف سیاسی ہم آہنگی پیدا ہوگی بلکہ ان خطوں میں قائم ہونے والی حکومتیں زیادہ مضبوط بنیادوں پر استوار ہو سکیں گی۔اگر انتخابات ایک ہی وقت میں ہوں تو وفاق اور ان علاقوں کی حکومتوں کے درمیان سیاسی ہم آہنگی پیدا ہوگی۔ اس سے بار بار کی سیاسی کشمکش اور حکومتوں کی تبدیلی کا سلسلہ کم ہو سکتا ہے۔ سیاسی استحکام کسی بھی خطے کی ترقی کیلئے بنیادی شرط ہوتا ہے، اور جب حکومتیں اپنی آئینی مدت پوری کرنے میں کامیاب ہوں تو وہ بہتر منصوبہ بندی اور پالیسی سازی کر سکتی ہیں۔آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان جغرافیائی، سیاسی اور دفاعی اعتبار سے پاکستان کے انتہائی اہم خطے ہیں۔ یہ علاقے نہ صرف قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں بلکہ سیاحت، ثقافت اور قدرتی حسن کے حوالے سے بھی عالمی اہمیت رکھتے ہیں۔تاہم سیاسی عدم استحکام کے باعث یہاں ترقیاتی منصوبے اکثر متاثر ہوتے ہیں۔ حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ ہی منصوبے بدل جاتے ہیں، ترجیحات تبدیل ہو جاتی ہیں اور عوامی مسائل پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔اگر ان خطوں میں مستحکم حکومتیں قائم ہوں تو تعلیم، صحت، سیاحت، انفراسٹرکچر اور روزگار کے شعبوں میں خاطر خواہ بہتری لائی جا سکتی ہے۔ خاص طور پر گلگت بلتستان، جو پاک چین اقتصادی راہداری کا دروازہ سمجھا جاتا ہے، وہاں سیاسی استحکام قومی معیشت کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔ اسی طرح آزاد کشمیر مسئلہ کشمیر کے تناظر میں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے مقف کی نمائندگی کرتا ہے، اس لیے وہاں سیاسی استحکام اور مضبوط حکومت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بیک وقت انتخابات کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ انتخابی اخراجات میں کمی آئے گی۔ ہر چند سال بعد الگ الگ انتخابات کے انعقاد پر قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ اگر پاکستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے انتخابات ایک ہی مرحلے میں منعقد ہوں تو وسائل کی بچت ممکن ہوگی اور انتخابی عمل زیادہ منظم انداز میں مکمل کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ مسلسل انتخابی ماحول بھی ختم ہوگا۔ ہمارے ہاں اکثر یہ شکایت سامنے آتی ہے کہ ملک میں ہر وقت سیاسی سرگرمیوں اور انتخابی مہمات کا ماحول رہتا ہے جس کے باعث حکومتی توجہ عوامی مسائل سے ہٹ جاتی ہے۔ اگر انتخابات ایک ساتھ منعقد ہوں تو حکومتوں کو مکمل توجہ کے ساتھ اپنی مدت پوری کرنے اور عوامی خدمت کا موقع ملے گا۔ سیاسی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ وقتی مفادات سے بالاتر ہو کر ان خطوں کے وسیع تر مفاد میں سوچیں۔ بار بار حکومتیں گرانے یا سیاسی جوڑ توڑ کے ذریعے اقتدار حاصل کرنے کی کوششیں جمہوریت کو کمزور کرتی ہیں۔ اصل کامیابی اسی میں ہے کہ عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور حکومتوں کو اپنی آئینی مدت مکمل کرنے دی جائے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے سیاسی نظام کو مزید مستحکم اور موثر بنانے کیلئے سنجیدہ قومی مکالمہ شروع کیا جائے۔ پارلیمنٹ، سیاسی جماعتیں، آئینی ماہرین اور متعلقہ ادارے مل بیٹھ کر ایسا نظام وضع کریں جو ان خطوں میں پائیدار سیاسی استحکام پیدا کر سکے۔ اگر پاکستان کے عام انتخابات کے ساتھ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے انتخابات کو منسلک کر دیا جائے تو یہ اقدام نہ صرف سیاسی استحکام کا باعث بن سکتا ہے بلکہ ان علاقوں میں ترقی، خوشحالی اور بہتر طرز حکمرانی کے نئے دروازے بھی کھول سکتا ہے۔ اس سے عوام کا اعتماد بحال ہوگا، سیاسی کھینچا تانی کم ہوگی اور حکومتیں زیادہ موثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں گی۔یہی وہ راستہ ہے جو آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو سیاسی استحکام، مضبوط جمہوریت اور ترقی کی نئی منزلوں کی طرف لے جا سکتا ہے۔
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں سیاسی استحکام ،مگر کیسے

