ستم ظریف کی پختہ رائے یہ ہے کہ اس وقت سال 2023ءکو انتخابات کا سال قیاس کرنا ایک قبل ازوقت سرگرمی ہے۔وہ کہتا ہے کہ موجودہ حکومت کو اس کی متعدد کوتاہیوں اور عامتہ الناس پر کیے گئے مالی مظالم کی وجہ سے کوسنے، بددعائیں دینے اور طعن کرنے کا جو تجربہ عام لوگوں کو حاصل ہوا ہے، قوی امکان ہے کہ وہ سب کچھ آنے والی نگران حکومت پر تبصروں کے لیے کام آیا کرے گا۔پی ڈی ایم کی پیکنگ میں بند کرکے ن لیگ کے چھوٹے میاں کو وزیراعظم کے جھولے میں جھولنے کا موقع دے کر، اور سخت فیصلے کروا کر، یہ یقین دہانی کروا دی گئی ہے کہ؛ آپ بے فکر رہیں، انتخابات آپ کے دوبارہ سے مقبولیت حاصل کرنے تک نہیں کروائے جائیں گے۔میں ستم ظریف کے ان خیالات کو مسترد کرتے ہوئے اسے اس کی خراب صحبت کا نتیجہ سمجھتا ہوں۔آج کل وہ ایک بڑے منہ والے پھپھڑ رنگ باز کی بیٹھک میں کچھ وقت گزارتا ہے۔کہتا ہے کہ پھپھڑ رنگ باز کی محفل میں وہ کچھ سننے، سمجھنے اور جاننے کا موقع ملتا ہے،جو کسی اور فورم پر دستیاب نہیں۔ جبکہ میری معلومات کے مطابق پھپھڑ رنگ باز اوئل جوانی میں پولیس کا مخبر، تلنگوں کا سہولت کار اورایجنسیوں کا جاسوس ہوا کرتا تھا۔یہ ایجنسیوں کا جاسوس ہونے کی افواہ اس نے خود پھیلا رکھی تھی۔مقصد لوگوں پر رعب داب تھا۔آج کل وہ اپنے تیئں مستند سیاسی تجزیہ کار بنا ہوا ہے۔اس کی محفل میں ہر رنگ،ہر قماش اور ہر پس منظر کے خوش فکرے ترتیب اور پہر بدل بدل کر آتے جاتے رہتے ہیں۔ایک شریر نے اس بیٹھک کو افواہوں کا ہیڈ کواٹر قرار دے رکھا تھا،کہتا ہے ملکی اور غیر ملکی حالات و واقعات پر جتنی گفتگو اور جتنے تجزیے اس بیٹھک میں ہوتے ہیں، ان کا کسی اور جگہ کوئی امکان ہی نہیں ہے۔ستم ظریف بھی پھپھڑ رنگ باز کی اسی مارکیٹنگ سے متاثر ہو کر اس بیٹھک کا حصہ بنا اور آ¶ٹ پٹانگ تجزیے پیش کرنے لگا ہے،کہتا ہے کہ ن لیگ اور جے یو آئی کے علا¶ہ ساری جماعتیں فوری الیکشنز چاہتی ہیں۔اور یہی اختلاف عنقریب ایک نئی صف بندی کی بنیاد بنے گا۔ عمران خان حکومت کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹا کر پی ڈی ایم نامی اتحاد کی حکومت اپنی مدت کار مکمل ہو جانے پر تاریخ کی گرد میں گم ہونے کے قریب ہیں۔اس حکومت کا وزیر اعظم ن لیگ کا شہباز تھا۔اگرچہ پاکستان پیپلز پارٹی وزیر خارجہ کے عہدے کے عوض اس حکومت کا حصہ تھی، لیکن اس حصے داری کو ایک ایسی شادی سے مماثل قرار دیا جا سکتا ہے،جس میں رخصتی نہیں کی جاتی۔اسے فاصلاتی شادی کہا جا سکتا ہے۔ اب جبکہ خورشید شاہ کہہ رہے ہیں کہ 9 اگست کو حکومت تحلیل کر دی جائے گی، تحلیل ہونے والی حکومت کا اپنا دل یہ ہے کہ وہ اپنی حتمی مدت تکمیل سے چند گھنٹے پہلے ختم ہو۔ن لیگ کے اہم رہنما رانا ثناءاللہ کی آرزو ہے کہ حکومت کی حتمی قانونی مدت پوری ہونے سے صرف اڑتالیس گھنٹے قبل اسمبلی کو تحلیل ہونا چاہیئے۔وہ دس پندرہ منٹس بھی کہہ سکتے تھے،لیکن انہوں نے فراخ دلی کا مظاہرہ کیا۔ان لوگوں کی مشکل اور الجھن یہیں پر ختم نہیں ہورہی، الیکشنز ساٹھ روز بعد ہوں یا نوے روز بعد،ان کا ہونا ن لیگ کے لیے جان لیوا بنا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نگران وزیراعظم کے لیے سبھوں نے سر جوڑ رکھے ہیں۔پی ڈی ایم کا سیاسی اتحاد اپنے صیغے کی مدت مکمل کر چکا ہے۔اب فریقین کو ایک دوسرے سے کوئی محبت وحبت کا ڈرامہ کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہو رہی۔ ن لیگ کے مرکزی رہنما اور فی الحال وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ نگران وزیراعظم کیلئے ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے پانچ نام شارٹ لسٹ کر لئے ہیں اور حتمی فیصلہ اتحادی جماعتوں کی قیادت کریگی، تمام نامزد افراد سیاستدان ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر تمام نامزد افرد سیاستدان ہیں تو پھر لازماً ان کا تعلق کسی نہ کسی سیاسی جماعت سے ضرور ہوگا۔ پیپلزپارٹی کے ایک رہنماء فیصل کریم کنڈی کے مطابق نگران وزیراعظم کیلئے پیپلز پارٹی نے 5نام شیئر کر دیئے ہیں۔ نگراں وزیراعظم غیر جانبدار اور تگڑا ہونا چاہیے تاکہ الیکشن کرائے، نگراں وزیراعظم ایسا تگڑا ہو کہ آر ٹی ایس نہ بیٹھے۔تاہم فیصل کریم کنڈی نے واضح طور پر بتا دیا کہ نگراں حکومت کو منتخب حکومت جیسے اختیارات دینے پر پاکستان پیپلز پارٹی کو سخت اعتراض ہے۔گویا پیپلز پارٹی نگران حکومت کی حدود کار کو ”الیکشنز کرا¶ اور جا¶” سے زیادہ نہیں دیکھنا چاہتی۔جبکہ دیگر فریق نگران حکومت کے کندھے پر بندوق کی بجائے توپ رکھ کر انتخابات کا التواءچاہتے ہیں۔دوسری طرف عام انتخابات کے خوف میں مبتلاءخواجہ آصف کی زبان ن لیگ کے قلبی و ذہنی فساد کا پتہ دے جاتی ہے۔ ابھی حال ہی میں ایک ٹی وی چینل پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے اپنی غیر محتاط زبان لہرائی اور کہا کہ مجھے آج بھی آصف علی زرداری پر تحفظات ہیں، ان کے بارے میں میری رائے تبدیل نہیں ہوئی، میں بار بار کہوں گا کہ مجھے آصف زرداری پر یقین نہیں، میں نے جو بیان دیا ہے، اس پر کچھ لوگوں کو پتہ ہے کہ اس کا کیا ریفرنس ہے، تو میرے لیے ان پر یقین کرنا بہت مشکل ہے۔پھر اس زہر گفتاری کے بعد بہادر خواجہ آصف نے وہی کیا جو ایسے لوگوں کا وطیرہ رہا ہے،یعنی فوراً بلی جیسی شکل بنا کر معافی اور معذرت۔اخباری خبر کے مطابق خواجہ آصف نے کہا ہے کہ؛ میرے بیان سے اگر اُن کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں معذرت خواہ ہوں۔ خواجہ آصف کی ذہنی کیفیت ن لیگ کی موجودہ جسمانی حالت کی نمائندگی کرتی دکھائی دے رہی ہے۔یہ لوگ اپنی نامرادی کا ملبہ پیپلز پارٹی پر ڈالنے پر عافیت اور راحت محسوس کرتے ہیں۔ یہ ساری باتیں جو ابھی ہلکے سروں میں ابھر رہی ہیں، آنے والے دنوں میں پر شور قوالی کی صورت اختیار کرنے والی ہیں۔ستم ظریف کہتا ہے کہ پھپھڑ رنگ باز کے مطابق الیکشنز کے التواءکی ایک ممکنہ وجہ دہشت گردی کی لہر بھی ہو سکتی ہے۔اس سے پہلے کہ میں اسے یہ کہہ کر جھٹلا دیتا کہ اب ملک میں دہشتگردی کے ڈرامے اور المیے نہیں ہو سکتے، وقت بدل گیا ہے، افغانستان بھی دھیرے دھیرے بدل رہا ہے۔پاکستان نے دہشتگردوں کو جڑ سے ختم کر کے رکھ دیا ہے۔اب یہ عفریت دوبارہ سر نہیں اٹھا سکتا۔یہ بات ہو رہی تھی کہ باجوڑ میں جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ کے جلسے میں دہشت گردی کے واقعے کی خبر بریک ہوئی، جس کے مطابق دوران جلسہ خود کش حملے میں 44? افراد شہید اور 200سے زائد زخمی ہوگئے،شہید ہونے والوں میں 2مقامی رہنما بھی شامل ہیں۔خبر کے مطابق کنونشن سے مولانا فائق کی تقریر کے دوران خودکش بمبار نے اسٹیج کے قریب خود کو اُڑا لیا۔ اس اندوہناک خبر نے غمگین کر دیا۔خیال آیا کہ کسی سے پوچھنا چاہیئے کہ وہ قابلیت اور صلاحیت ہونے کے باوجود دہشت گردوں کو منصوبہ بندی کی سطح پر کچلنے سے کیوں گریزاں ہے؟ اور اگر گریزاں نہیں ہے تو اب تک دہشت گردی کے فکری اور عملی مراکز کو تباہ کیوں نہیں کیا جا سکا؟اتنے منظم آپریشنز کرنے کے بعد، ہر روز نوجوان کمانڈروں اور جوانوں کی شہادت کے باوجود دہشت گرد ملک میں موجود، متحرک اور موثر ہیں، ذرا دیکھیں تو سہی۔۔۔عام لوگ لہو لہان ہو رہے ہیں۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ حکومت اپنی مدت کار پوری کرکے چلی بھی جائے، ان دیکھی اور ان سوچی نگران حکومت آ بھی جائے، اگر دہشت گردی کے عفریت کو فنا نہ کیا گیا، تو اس ملک میں ساری سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع دیتے ہوئے منصفانہ انتخابات کا انعقاد کس طرح سے ممکن ہے؟ جمہوریت کا ایک مطلب سیاسی قوتوں کے مابین اجتماعی ملکی امور کے بارے میں اپنے اپنے نقطہ نظر کے حوالے سے اختلاف اور بعد از بحث مباحثہ،کسی ایک رائے پر اتفاق ہوا کرتا ہے۔یہ اختلاف آرڈر سے نہیں، بحث مباحثے اور ردوقبول سے دور کیا جاتا ہے۔جمہوری ریاست و سیاست میں ”ایک پیج” پر ہونے کا تصور ہی،دراصل بدترین ذہنی اور عملی ڈکٹیٹرشپ کا عملی اظہار ہوا کرتا ہے۔ اختلاف رائے کی گنجائش کے نہ ہونے کو ہی غلامی کی علامت خیال کیا جا سکتا ہے۔اگر اکیسویں صدی میں جمہوریت کے معنی ”ایک پیج”کے لیے جاتے ہیں،تو سمجھ لینا چاہیئے کہ آپ کو ڈاکو¶ں کا منظم گروہ یرغمال بنا چکا ہے۔یہ مثال اداروں، تنظیموں اور ریاستوں،سب پر صادق آتی ہے۔ اس ایک پیج تھیوری سے نجات کا واحد راستہ منصفانہ اور یکساں مواقع کے حامل عام انتخابات ہی ہو سکتے ہیں، ایسے عام انتخابات جن کے ساتھ نہ تو التواءکا خوف چمٹا ہو اور نہ الوداع کا خدشہ۔
انتخابات 2023ئ: التوا یا الوداع؟

