حال ہی میںبھارت کی شورش زدہ شمال مشرقی ریاست منی پور میں دو متحارب نسلی گروہوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں جو اس دور دراز خطے میں بدامنی کا تازہ واقعہ ہے۔منی پور میں گذشتہ قریباً تین سال سے اکثریتی ہندو میتی برادری اور زیادہ تر مسیحی کْکی برادری کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں، جن میں اب تک 250 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔یہ جھڑپیں ضلع اکھرول کے گاؤں ملّام میں ہوئیں جبکہ پولیس نے یہ واضح نہیں کیا کہ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق کس برادری سے تھا۔ پرتشدد واقعات کو روکنے کے لیے علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے ۔ میتی اور کْکی برادریوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری دشمنی کی بڑی وجہ زمین اور سرکاری ملازمتیں ہیں۔انسانی حقوق کے کارکنوں نے مقامی رہنماؤں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنے سیاسی مفادات حاصل کرنے کیلئے نسلی تقسیم کو بڑھاوا دیتے ہیں۔یہ بدامنی 2023 میں اس وقت شروع ہوئی جب سرکاری اعدادوشمار کے مطابق قریباً 60 ہزار افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنا پڑی ۔ بعد ازاں حالات قدرے بہتر ہوئے تاہم اس ماہ کے آغاز میں ایک کْکی گروہ کے حملے میں دو بچوں سمیت چار افراد مارے گئے، جس کے بعد میتی ہجوم نے ایک نیم فوجی کیمپ پر دھاوا بول دیا۔شورش زدہ بھارتی ریاست منی پور میں اوکھرل کے گائوں لیٹن میں فرقہ وارانہ جھڑپوں کے نتیجے میں درجنوں مکانات آگ لگنے سے تباہ ہو گئے۔ جھڑپوں کے بعد سے علاقے میں غیر معینہ مدت کیلئے کرفیو نافذ ہے۔8فروری کو جھڑپوں کے بعد لیٹن گائوں، اوکھرل میں جس میںغیر معینہ مدت کا کرفیو نافذہے۔ ککی ہیومن رائٹس کونسل نے اقوام متحدہ اور عالمی رہنمائوں سے اپیل کی ہے کہ منی پور میں 250 سے زائد ککی افرادکو قتل کیاگیا ہے ۔ کونسل نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات، مجرموں کیخلاف سخت کارروائی اور علیحدہ ککی ریاست کے قیام کا فوری مطالبہ کیا ہے۔ 8فروری منی پورکے کو اوکھرل کے گائوں لیٹن میں پرتشددجھڑپوں کے دوران ککی برادری کے 50سے زائد گھروں کو آگ لگا دی گئی جس سے 300 سے زائد شہری بے گھر ہوئے اور فائرنگ کے تبادلے میں 15 افراد زخمی ہوئے۔ شورش زدہ ریاست میں مئی 2023 سے جاری پر تشد د جھڑپوں کے دوران سینکڑوں افراد قتل اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ 60ہزار بنے گھر افراد کیمپوں میں مقیم ہیں جبکہ میتی قبلے کے بلوائیوں نے کوکی برادری کے 4,786 مکانات اور 386 چرچ کو تباہ کردیاہے۔ ہندوتوا بی جے پی حکومت مجرموں کی سرپرستی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ککی رہنمائوں کو جھوٹے مقدمات میں جیل میں قید کیا جا رہا ہے جبکہ منی پور پولیس بھی میتی برادری کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق یہ محض "جھڑپیں” نہیں بلکہ ریاستی سرپرستی میں نسلی کشی کے واقعات ہیں۔کونسل نے اقوام متحدہ سے منی پور میں میتی برداری کے قتل عام کی فوری تحقیقات کامطالبہ کیا ہے ۔ شمال مشرقی ریاستوں منی پور اور میزورم سے تعلق رکھنے والے 249 افراد تل ابیب پہنچے جو بنی میناسے برادری سے ہیں اور خود کو اسرائیل کے ‘گمشدہ قبائل’ میں سے ایک کی نسل قرار دیتے ہیں۔اسرائیلی حکومت نے نومبر میں اس برادری کے قریباً 6 ہزار افراد کی نقل مکانی میں مالی معاونت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد یہ اس گروہ کی اسرائیل پہلی آمد تھی ۔ ان کی زبانی روایات کے مطابق وہ صدیوں پر محیط ایک نقل مکانی کے دوران ایران ، افغانستان، تبت اور چین میں رہے اور اس دوران بعض یہودی مذہبی رسومات، جیسے ختنہ پر عمل کرتے رہے ۔ بھارت میں ان افراد کا مذہب 19 ویں صدی کے مسیحی مشنریوں نے تبدیل کروایا تھا۔منی پور بھارت کی ریاست ہے جو شمال مشرقی بھارت میں واقع ہے اور اس کا صدر مقام امفال ہے ۔ اس کی سرحدیں مغرب میں آسام، جنوب میں میزورم اور شمال میں ناگالینڈ سے ملتی ہیں، جبکہ مشرق اور جنوب مشرق میں میانمار (خصوصاً ساگاینگ علاقہ اور چن ریاست) کے ساتھ بین الاقوامی سرحد ہے۔ 8,621 مربع میل (22,330 کلومیٹر مربع) پر محیط، یہ ریاست زیادہ تر پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے جبکہ 700 مربع میل پر پھیلا ہوا وادی امفال علاقہ میئتی (منی پوری) قوم کا گہوارہ رہا ہے جو تاریخی طور پر ایک ریاستی سلطنت تھی ۔ گرد و نواح کے پہاڑی علاقے ناگا اور کوکی ـ دو برادریوں پر مشتمل ہیں، جو تبتی ـبرمی زبانیں بولتی ہیں۔ ریاست کی سرکاری زبان اور رابطہ زبان منی پوری زبان ہے، جو تبتی ـ برمی لسانی خاندان سے تعلق رکھتی ہے ۔ برطانوی راج کے دوران، منی پور نوابی ریاستوں میں شامل تھی۔ برطانیہ سے آزادی سے قبل 1947ء میں منی پور نے بھارتی ڈومینین میں شمولیت اختیار کی، جیسا کہ دیگر 550 ریاستوں نے کیا۔ ستمبر 1949ء میں منی پور کے راجا نے بھارت کے ساتھ انضمام کا معاہدہ کیا جس کے تحت انھوں نے اپنی ریاست کے اختیارات بھارت کو سونپ دیے اور بدلے میں ایک خفیہ وظیفہ (پرائوی پرس) حاصل کیا۔ کئی میئتی افراد کا ماننا ہے کہ ان کے حق خود ارادیت کو نظر انداز کیا گیا کیونکہ اس وقت منتخب مقننہ سے مشورہ نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد انضمام پر اختلافات نے ریاست میں آزادی کی تحریک کو جنم دیا جس نے 50 سالہ بغاوت کو جنم دیا ۔ 2009ء سے 2018ء کے درمیان، اس تنازع میں 1000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
بھارتی ریاست منی پور میں حالات کشیدہ

