Daily Pakistan

تعلیم، کھیل اور امید کی نئی داستان

ریحان طاہر

پاکستان میں آج لوگ اسٹریٹ چلڈرن کے مسئلے پر بات کر رہے ہیں تو اس کی ایک بنیادی وجہ گزشتہ 12 سالوں سے اس حوالے سے ہماری مسلسل جدوجہد، خدمت اور اسکولوں سے باہر بچوں کے لیے عملی کام ہے۔

ایک ایسے پاکستان میں، جہاں آج بھی ڈھائی کروڑ سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہیں، وہاں اگر انہی ہزاروں بچوں میں سے چند بچے عالمی میدانوں تک پہنچتے ہیں تو یہ صرف ایک کامیابی نہیں بلکہ ایک پوری نسل کی آبیاری کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ بچے دنیا کو دیکھتے ہیں، مختلف قوموں کے ساتھ رہنا سیکھتے ہیں، گفتگو کا سلیقہ، ڈسپلن، برداشت، اور باوقار انداز میں خود کو پیش کرنا سیکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہجوم میں اپنی شناخت اور انفرادیت کیسے قائم رکھی جاتی ہے۔ آرٹ، کلچر اور علمی ماحول سے جڑ کر ہر لمحہ ایک نئی سیکھ میں بدل جاتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جب یہ بچے وطن واپس لوٹیں گے تو اپنا یہ تجربہ دوسرے بچوں تک منتقل کریں گے، امید کی شمع روشن رکھیں گے، اور آنے والی نسلوں کے لیے نئی راہیں کھولیں گے۔

پراجیکٹ میدان، مسلم ہینڈز کی سرپرستی میں، پاکستان کے طول و عرض میں اپنے 500 سے زائد تعلیمی اداروں کے ذریعے علم، امید اور شعور کی روشنی پھیلا رہا ہے۔ یہ ایک پیغام ہے کہ وطن کی محبت صرف الفاظ نہیں بلکہ مسلسل خدمت، محنت اور ذمہ داری کا نام ہے۔
ہمیں ابھی بہت کام کرنا ہے۔

Exit mobile version