Site icon Daily Pakistan

رل مل کے۔۔۔!

گلگت سے شمال کی جانب تقریبا ایک سو باسٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پھنڈر جھیل کے کنارے دوپہر کے وقت بیٹھے ہوئے خاکسار کے سامنے قدرت اپنی تمام تر رعنائی کے ساتھ موجود تھی۔ سورج سر پر تھا مگر پہاڑوں سے اترتی ہوا میں ایسی خنکی تھی کہ دھوپ کی تمازت محسوس نہیں ہوتی تھی۔ دور برف پوش چوٹیوں پر دھوپ یوں پڑ رہی تھی جیسے کسی سفید رخسار پر سرخی ابھر آئی ہو۔ جھیل کا پانی نیلا اور شفاف تھا، اس قدر صاف کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے آسمان زمین پر اتر آیا ہو ۔ اطراف کے کھیتوں میں کسان اپنے کام میں مصروف تھے۔ گندم کی فصل کٹ چکی تھی اور اب آلو کی کاشت جاری تھی۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ آلو اگانے والے زیادہ تر پنجاب سے آتے ہیں، زمینیں سیزن کے حساب سے ٹھیکے پر لیتے ہیں، فصل کاشت کرتے ہیں اور سردیوں میں واپس پنجاب چلے جاتے ہیں۔ یہ منظر محض زراعت نہیں تھا بلکہ اس حقیقت کی مثال تھا کہ جب لوگ مل کر کام کرتے ہیں تو وسائل بڑھتے ہیں، مواقع پیدا ہوتے ہیں اور سب کو فائدہ پہنچتا ہے ۔ جھیل کے کنارے خاکسار کے ساتھ سوئٹزر لینڈ کی جولیا، اٹلی کے ایڈورڈو اور کالاباغ کے ملک اشفاق جلوس افروز تھے۔ ہم نے ایک ساتھ کافی وقت گزارا، ایک ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا اور سفر، معاشرے اور زندگی کے مختلف پہلوں پر باتیں کیں۔ جولیا دراز قد، سبز آنکھیں، دودھ جیسی رنگت اور مسکراہٹ میں معصومیت، جب وہ بات کرتی تو یوں محسوس ہوتا جیسے وہ پرستان کی پری ہو۔ اس کی سبز آنکھیں بلی کی آنکھوں کی طرح چمکتی تھیں۔ جب اس کی زلفیں رخسار پر آتی تو منظر ایسا بنتا جیسے چودھویں رات کے چاند پر بادل کا ٹکڑا آ گیا ہو۔ پھنڈر کی نیلی جھیل، برف پوش پہاڑ، دوپہر کی روشنی اور جولیا کی موجودگی مل کر ایسا منظر بناتے تھے جیسے فطرت اور حسنِ انسان ایک ہی تصویر میں جمع ہو گئے ہوں۔ایڈورڈو خوش مزاج تھا اور مشاہدہ گہرا رکھتا تھا۔ جولیا اور ایڈورڈو دونوں دوست تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پہلے ایران گئے، پھر تفتان بارڈر کے راستے پاکستان داخل ہوئے ۔ انہوں نے بلوچستان کے کچھ علاقوں کی سیر کی، پھر خیبر پختونخوا سے گزرتے ہوئے گلگت پہنچے۔ ان کا اگلا پروگرام واہگہ بارڈر کے ذریعے بھارت جانا تھا۔ انہوں نے سفر کے دوران ایران اور پاکستان کے لوگوں کی مہمان نوازی، تہذیب اور کلچر کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں کے لوگ اجنبی کو بھی اپنا بنا لیتے ہیں۔گفتگو کے دوران خاکسار نے ان سے سوال کیا کہ یورپ کی ترقی کا راز کیا ہے؟ جولیا اور ایڈورڈو نے ایک لفظ میں کہا،جس میں بہت گہری بات پوشیدہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ یورپ کی ترقی میں ایک بنیادی عنصر مل جل کر کام کرنا۔ کسی ادارے میں پانچ آدمی کام کر رہے ہوں تو وہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش نہیں کرتے، وہ لیگ پولنگ نہیں کرتے ہیں۔ وہ اپنی کامیابی کو مشترکہ کامیابی سمجھتے ہیں۔ مل کر کام کرنا ان کی ترقی کی بنیاد ہے۔ مسئلہ صرف وسائل یا ٹیکنالوجی کا نہیں، اصل فرق سوچ کا ہے۔ ترقی یافتہ معاشرے اس لیے آگے نہیں بڑھے کہ ان کے پاس زمین زیادہ تھی یا موسم بہتر تھا۔ وہ اس لیے آگے بڑھے کہ انہوں نے اجتماعی کوشش کو اپنی طاقت بنایا۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ ایک آدمی کی ذہانت محدود ہے مگر پانچ آدمیوں کی مشترکہ محنت معجزہ پیدا کر سکتی ہے۔ہمارے ہاں اکثر الٹ صورت حال دکھائی دیتی ہے۔ پانچ لوگ ایک دفتر یا فیکٹری یا ادارے میں ہوں تو بعض اوقات چار لوگ پانچویں کی ناکامی چاہتے ہیں۔ کسی کو ترقی ملے تو خوشی کم، حسد زیادہ پیدا ہوتا ہے۔ کوئی نوجوان آگے بڑھے تو اسے سہارا دینے کے بجائے اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔ یہی رویہ معاشروں کو کمزور کرتا ہے۔ فرد وقتی فائدہ اٹھا سکتا ہے مگر قوم مجموعی طور پر پیچھے رہ جاتی ہے۔اسلام نے صدیوں پہلے مل کر کام کرنے کی یہی تعلیم دی۔ پانچ وقت کی باجماعت نماز صرف عبادت نہیں، اجتماعی نظم کی عملی تربیت ہے۔ لوگ ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ کوئی امیر، غریب، بڑا، چھوٹا نہیں رہتا۔ سب ایک ساتھ ایک عمل کرتے ہیں۔ کامیابی انفرادی نہیں، اجتماعی کوشش سے پیدا ہوتی ہے۔جمعہ کی نماز اسی اصول کو بڑے پیمانے پر سکھاتی ہے۔ ایک ہفتے میں ایک دن لوگ اکٹھے ہوتے ہیں، ایک امام کے پیچھے ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ نظم، اتحاد اور مل کر چلنے کی عملی تربیت ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ معاشرہ تب مضبوط ہوتا ہے جب سب ایک دوسرے کے ساتھ قدم ملا کر چلیں۔ حج دنیا کی سب سے بڑی مثال ہے۔ لاکھوں لوگ ایک وقت میں ایک ہی عمل کرتے ہیں۔ ایک لباس، ایک سمت، ایک نعرہ۔ وہاں ہر شخص دوسرے کا سہارا بنتا ہے۔ کوئی زبان،رنگ اور ملک نہیں دیکھتا۔ یہ انسانوں کا ایسا اجتماعی عمل ہے جس سے عیاں ہوتا ہے کہ بڑی کامیابیاں تنہا نہیں حاصل ہوتیں۔ اسلامی تاریخ میں ہجرت مدینہ کے بعد مہاجرین اور انصار نے ملکر کام کیا۔ اشتراک ایک مضبوط ریاست کی بنیاد بنا۔ ہر شخص صرف اپنا فائدہ دیکھتا ہے تو وہ معاشرہ یا ملک کبھی ترقی نہ کرتا۔پھنڈر کے کنارے پنجاب سے آئے کسانوں، زمین مقامی لوگوں کی، محنت پنجاب کے کسانوں کی، پیداوار سب کے لیے ،یہ اشتراک ہے۔ ایک دوسرے کی ضرورت کو سمجھ کر ساتھ چلنا۔ یہی معاشی ترقی کی بنیاد ہے۔ جولیا نے کہا کہ یورپ میں بچوں کو اسکول سے سکھایا جاتا ہے کہ گروپ میں کام کرنا کیسے ہے۔ ایک طالب علم دوسرے کی مدد کرتا ہے۔ ایک منصوبہ کئی لوگ مل کر مکمل کرتے ہیں۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ ہر شخص سب کچھ نہیں کر سکتا۔ ہر ایک کی مہارت الگ ہوتی ہے اور اصل کامیابی انہیں ملا کر استعمال کرنے میں ہے۔ یہی سوچ بعد میں معاشرے کی بنیاد بن جاتی ہے۔ہمارے ہاں بھی دیہات میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ فصل کاٹنے میں لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ شادی بیاہ میں پورا گاں شریک ہوتا ہے۔ مصیبت میں سب ساتھ کھڑے ہوتے ہیں مگر ہم نے اسے جدید اداروں، تعلیم اور کاروبار میں منتقل نہیں کیا۔ یہی اجتماعی سوچ اسکول، دفتر، کاروبار اور حکومتی اداروں میں لے آئیں تو معاشرہ بدل سکتا ہے۔دریا ایک قطرے سے نہیں بنتا۔ کئی چشمے مل کر دریا بناتے ہیں۔ فصل ایک بیج سے نہیں اگتی۔ زمین، پانی، سورج اور محنت مل کر فصل دیتے ہیں۔ پہاڑ ایک پتھر سے نہیں بنتا۔ بے شمار چٹانیں مل کر پہاڑ بنتے ہیں۔ فطرت کا ہر منظر بتاتا ہے کہ مل کر کام کرنے میں طاقت ہے۔پھنڈر کی دوپہر میں جب سورج پانی پر جھلک رہا تھا، جولیا کی سبز آنکھیں جھیل کے نیلے رنگ سے ہم آہنگ لگ رہی تھیں۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور ایڈورڈو خاموشی سے پانی کو دیکھ رہا تھا۔ ملک اشفاق گفتگو میں محو تھا اور خاکسار جولیا کے حسن میں کھویا تھا۔جھیل کے کنارے بیٹھے مختلف علاقوں کے افراد تھے مگر مل کر بیٹھنے سے ماحول کی خوبصورتی میں مزید نکھار آیا۔دنیا کی ترقی کا راز کسی مشین یا عمارت میں نہیں، انسان کے رویے میں ہے۔انسان ایک دوسرے کو گرانے کے بجائے سنبھالنا شروع کر دے تو سب بدل سکتا ہے۔کسی ملک کی ترقی بھی اسی اصول میں چھپی ہے۔ استاد طالب علم کو آگے بڑھائے، افسر ماتحت کو ساتھ لے کر چلے، کاروباری افراد دوسروں کیلئے راستہ کھولے، کسان ایک دوسرے کے تجربات بانٹیں، سیاستدان ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر قوم کیلئے کام کریں تو ملک بہت آگے جا سکتا ہے بلکہ ملک ترقی یافتہ بن سکتا ہے۔ وسائل ہمارے پاس ہیں، صلاحیت لوگوں میں ہے، جذبہ بھی موجود ہے۔ کمی صرف اس سوچ کی ہے کہ دوسروں کو اپنا ساتھی سمجھیں، مقابل نہیں۔ ترقی کا راز تنہا دوڑنے میں نہیں، ساتھ چلنے میں ہے۔ ایک دوسرے کے ہاتھ مضبوط کرنے میں ہے۔ مل کر کام کرنے میں ہے۔ دنیا کی کامیاب قومیں اسی اصول پر آگے بڑھیں۔ اسلام نے اسی اصول کو عبادت، معاشرت اور تاریخ میں جگہ دی۔ فطرت بھی یہی سبق دیتی ہے۔ اس سچ کو سمجھ لیں اور اپنی روزمرہ زندگی میں اپنا لیں تو منزلیں بدل سکتی ہیں۔ انسان اکیلا شاید سفر شروع کر لے مگر منزل تک وہی پہنچتا ہے جو دوسروں کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔

Exit mobile version