Site icon Daily Pakistan

شارٹ ٹرم حکومت کے کارنامے

سپریم کورٹ کے ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈر ایکٹ کے کالعدم قرار دیے جانے کے بعد لندن میں بیٹھے ایک شخص کی کلچ پلیٹس آپس میں ٹکرا گئی ہیں۔ن لیگ لندن کی مشاورتی ٹیم بہت زیادہ غور و فکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ 33 دسمبر کی تاریخ دے دیتے ہیں ورکرز کو کون سا پتہ چلے گا جیسے 4,5سال بے وقوف بنائے رکھا ہے کچھ عرصہ اور سہی۔جبکہ باوثوق ذرائع نے بتایا ہے کہ ن لیگ آف پاکستان نے ایک خفیہ پلان بنایا ہے کہ کیوں نہ سات سمندر پار سے ایک تابوت کے ذریعے لیڈر کو وطن واپس لایا جائے۔۔۔۔۔؟
کافی عرصے سے ایک رانی صاحبہ فرما رہی تھیں کہ جب الیون پلینگ ہو جائے گی تب ہی الیکشن کا انعقاد ہوگا،اب اس لاپتا رانی محترمہ تک کوئی یہ پیغام پہنچا دے کہ کورٹ نے دونوں پلڑوں کا وزن برابر کر دیا ہے یعنی لندن سرکار اور زمان پارک والے،اب دونوں ہی گرا¶نڈ سے باہر ہیں اور اب میچ کا اغاز کروایا جائے تاکہ پتہ چل سکے کہ کون سی ٹیم طاقتور ہے اور کمزور کون سی۔۔۔۔۔؟
ایک شخص پورے میچ میں فیلڈنگ ہی کرتا رہا،نہ اسے بیٹنگ ملی اور نہ ہی باولنگ اور بیچارہ کہتا رہا کہ صرف ایک دن کے لیے ہی کپتان بنا دیں لیکن ہاتھ میں صدر کی لکیر ہی نہیں تھی۔
جاتے جاتے پوری ٹیم نے قائم مقام /نگران کپتان بنوانے کے لیے مختلف نام دیے اور اپنے زر خرید غلام سے فرضی رائے لینے کے لیے بھی گئے لیکن اوپر سے سب نام کینسل کر دیے گئے اور اپنا نام دے کر سرپرائز دے دیا گیا۔
یہ 16 ماہ تک بنی رہنے والی ٹیم کا مورال اتنا ہائی تھا کہ انہیں سمجھ ہی نہیں ائی کہ وہ آقا تھے یا غلام یا پھر غلاموں کے غلام یا پھر کچھ اور۔۔۔۔؟نیو کپتان کی بات کوئی سنتا ہی نہیں تھا، نہ ہی ٹیم میں اور نہ ہی زبردستی کی ٹیم کے باہر۔
اس سوا سالہ گورنمنٹ کے دوران وطن عزیز میں اتنا عدم استحکام ایا کہ ایک نئی پارٹی نے اپنا نام ”استحکام پاکستان” ہی رکھ لیااور تو اور الیکشن کمیشن نے اسے رجسٹرڈ بھی کر لیا۔اس سیاہ دور میں متعدد علاقوں میں 14 اگست کا بائیکاٹ کرنے کی مہمات چلائی گئیں کہیں ہزاروں کی تعداد میں حصول امن کے لیے سفید پرچم لہرائے گئے۔اس ناکام ترین حکومت کی بد انتظامی کی حد دیکھیں کہ بیچارے شہداءاور غازیوں کی یادگاروں کو بھی محفوظ نہ رکھ سکے۔خارجہ پالیسی کا یہ عالم تھا کہ آئی ایم ایف سے قرض کی ایک قسط لینے کے لیے پورا سال ضائع کر دیا،پھر کہیں جا کر اونٹ کے منہ میں تھوڑا سا زیرہ رکھنے کو ملا اور ستم ظریفی دیکھیے کہ قرض ملنے پر جشن بھی منایا گیا۔
شارٹ ٹرم سرکار نے ایک نایاب ٹیکس لگا کر ورلڈ ریکارڈ بھی بنا چھوڑا،واپڈا سے کہہ کر پی ٹی وی ٹیکس (35:RS)کے ساتھ ریڈیو پاکستان ٹیکس (15:Rs) بھی لگوا دیا،یوں ان کی پوری 50 ہو گئی۔
پی ڈی ایم سرکار کے سربراہ امیدوار برائے صدر پاکستان نے بہت بڑا کارنامہ سر انجام دیا ہے۔نہ ہی خار (باجوڑ)جلسہ میں شرکت کی اور نہ ہی اپنے پسران کو جانے دیا بلکہ جنازے کی دعا میں بھی شرکت سے پرہیز کیا بالکل ایسے ہی جیسے سویڈن ناروے واقعات کی مذمت سے دور رہے۔
فرنگیوں کا کا مہمان خاص ہو یا بھٹو کا داماد،مفتی کا وارث ہو یا اس کے دیگر اتحادی،ان سب میں ایک بات مشترک تھی کہ سب نے شرح سود میں بے انتہا اضافہ کر دیا تھا،بقول گم نام 1%سود بڑھانے کا بھی اتنا ہی گناہ ہے جتنا 22 فیصد بڑھانے کا۔۔۔۔۔تو کیوں نہ زیادہ بڑھایا جائے۔
الغرض بڑی تگ و دو کے بعد مندرجہ بالا چند کارہائے نمایاں کی تلاش کی ہے اگر موازنہ کیا جائے تو اس گورنمنٹ کا سب سے بڑا کارنامہ کچن بند کروانا ہے۔قوم کو فاقہ کشی کا عادی بنا دیا ہے۔شاید قیامت گزر چکی ہے اور ہم سب جہنم کی زندگی گزار رہے ہیں ۔

Exit mobile version