انسان زندگی مےں کئی فےصلے کرتا ہے ۔بعد ازاں کسی فےصلے کے بھےانک نتےجہ پر اس کے پاس صرف کاش اور پچھتاوا رہ جاتا ہے کہ کاش وہ ےہ فےصلہ نہ کرتا ،اگر اےسا نہ کرتا تو اےسا ہو جاتا ۔بہرحال زندگی کا دورانےہ ےوں ہی رواں دواں اور چلتا رہتا ہے ۔ےہ تو انفرادی فےصلوں کا معاملہ ہے لےکن اگر کسی کے ہاتھ مےں قوم کی لےڈر شپ ہو ،تقدےر ہو تو فےصلے کرتے وقت دور اندےشی ہی اصل بنےاد ہوتی ہے ۔معلوم تارےخ کے پانچ ہزار سال مےں کئی اےسی سلطنتےں گزری ہےں جن مےں رہنماﺅں کے اےک غلط فےصلے سے بسی بسائی قوم تباہ و برباد ہو گئی ۔اےڈولف ہٹلر نے دوسری جنگ عظےم مےں جرمن قوم کی پوری دنےا مےں دھاک بٹھانے کےلئے جب روس پر حملہ کےا تو اسے معلوم نہےں تھا کہ اس کی اےک غلطی سے جرمن قوم کئی دہائےاں پےچھے چلی جائے گی ۔431قبل مسےح مےں ےونان مےں سپارٹا اور اےتھنز کے درمےان جنگ جاری تھی کہ اچانک وہاں طاﺅن کی وبا پھوٹ پڑی ۔اےتھنز کے لےڈر پےرےکلز نے لوگوں کو کھےتوں ،گھروں اور حوےلےوں سے نکل کر شہر مےں اکٹھاہونے کا حکم دےا ۔پےرےکلز کے اس فےصلے سے وباءبہت تےزی سے پھےلی اور کم و بےش اےک لاکھ لوگ مر گئے ،جو کل آبادی کا تقرےباً اےک تہائی تھے ۔نتےجتاً اےتھنز ےہ جنگ ہار گےا ۔ہٹلر کا روس کے خلاف جنگ کرنا اور پےرےکلز کا لوگوں کو شہر مےں اکھٹا کرنا غلط فےصلے تھے ۔اگر ےہ درست ہو جاتے تو دنےا کی تارےخ مختلف انداز سے لکھی جاتی ۔آج سے دو ہزار سال قبل سن 64 عےسوی مےں جب روم کے چےرےٹ اسٹےڈےم مےں آگ لگی تو مشہور زمانہ مورخ ٹےسےٹس کے مطابق شہنشاہ نےرو نے اسے بجھانے کےلئے اقدامات نہ کےے اور بعد ازاں آگ کا ذمہ دار مسےحی پےروکاروں کو قرار دے کر ان پر ظلم و ستم ڈھاتا رہا ۔جنرل ضےاءالحق بر سر اقتدار آئے اور ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی ۔اس فےصلے سے وہ اپنے ملک اور بےرون ملک بھی انتہائی غےر مقبول ہو گئے ،حتیٰ کہ عرب ممالک بھی ان سے نالاں تھے ۔پھر بھلا ہو روس افغان جنگ کا جس مےں ہم نے امرےکہ کا ساتھ دےنے اور روس کے خلاف محاذ کھڑا کرنے کی بنےاد ڈال دی ۔ہمارے ملک کے مالک نے امرےکہ کی غلامی کو تسلےم کر لےا ۔ےہ بالکل اےسے ہی ہوا جےسے ڈکٹےٹر مشرف کے اقتدار مےں آنے کے بعد نائن الےون کا واقعہ ہوا اور ہم نے امرےکہ کے سامنے سر تسلےم خم کر دےا ۔ےعنی قدرت ہمےشہ جرنےلوں کی مدد کو پہنچ ہی جاتی ہے ۔جنرل ضےاءالحق کی خدائی مدد تو ےہ بھی ہو گئی کہ اےران مےں اسلامی انقلاب آ گےا ورنہ امرےکہ کے ذہن مےں اےران ہی وہ ملک تھا جسے روس کے خلاف کھڑے کےا جانا تھا ۔جنرل ضےاءالحق بولے ”چارلی ولسن “صاحب (امرےکہ کے سابق نےول آفےسر ) آپ ہمےں اسلحہ اور ڈالر دےں ،پھر ہماری پھرتےاں دےکھےں ۔آپ کی جنگ ہم لڑےں گے ۔امرےکہ کو کم و بےش تےن ارب ڈالر مےں من کی مراد مل گئی ۔ضےاءالحق نے اپنی قوم اور ملک کے مفادات کو دےکھے بغےر افغانستان مےں ”جہاد “ کےلئے مذہبی طبقے کو آمادہ کےا ۔پھر علماءنے اےسی اےسی تقرےرےں کےں کہ آدھا پاکستان اسلام بچانے کےلئے افغانستان جا کر جہاد کےلئے تےار ہو گےا ۔ہم امرےکہ کی جنگ لڑ رہے تھے ۔امرےکہ ہمےں اسلحہ بھی دے رہا تھا اور ڈالر بھی جبکہ ”شہادت“ مدارس کے طلباء،مذہبی جماعتو ں کے کارکنان اور عام غرےب پاکستانےو ں کے حصے مےں آ رہی تھےں ۔ضےاءالحق نے عرب باغےوں کےلئے اپنی سرحدےں کھول دےں ۔اس پرائی جنگ مےں پوری قوم کو عسکری طور پر جھونک دےا گےا ۔نوجوانوں کی ذہن سازی کی اور ان کے ہاتھ مےں بندوق تھما دی ۔پاکستان کے کوچہ و بازار جنگ کے تربےتی مراکز بن گئے ۔باہر سے آنے والے مجاہدےن کو ان کے اسلحے سمےت ملک بھر مےں پناہ گاہےں فراہم کی گئےں ۔قومی سرحدےں بے معنی ہو گئےں ۔بظاہر افغان مہاجرےن کےلئے کےمپ بنائے گئے مگر وہ آزاد تھے ،جہاں چاہےں آباد ہو سکتے تھے ۔انہوں نے پاکستان مےں شادےاں کےں اور اپنے گھر بسا لےے ۔رےاست پاکستان نے انہےں اپنی شناخت بھی دے دی ۔امرےکہ جنگ جےت گےا اور روس ٹوٹ گےا ۔ملک مذہبی شدت پسندی کا شکار ہو گےا ۔اےک دوسرے کو کافر کہنے کی اصطلاح کے موجد بھی جنرل ضےاءالحق بنے ۔ہر سےاسی اور مذہبی جماعت کے عسکری ونگ بن گئے اور ملک مےں عسکری تربےت کے کےمپ وجود مےں آ گئے ۔مساجد منافرت کےلئے استعمال ہونے لگےں ۔اسلحہ عام ہو گےا ۔جہاں اسلحہ پاکستان مےں اسمگل ہو کر آنے لگا وہےں منشےات کی انڈسٹری نے بھی دن دوگنی رات چوگنی ترقی کی ۔بہر کےف اس جہاد کی وجہ سے روس جنگ ہار گےا اور اس نے اپنی فوجےں افغانستان سے نکال لےں۔ان آٹھ نو سالوں مےں پاکستان مےں جہادےوں کی تعداد دو لاکھ تک پہنچ چکی تھی ان مےں سے اےک لاکھ تو فل جہادی تھے اور اےک لاکھ کے قرےب پارٹ ٹائم جہادی ۔امےر المومنےن صاحب چونکہ حادثے مےں شہےد ہو چکے تھے اس لےے جنرل نصےر اﷲ بابر نے کچھ کو ادھر ادھر کھپاےا اور کچھ کو افغانستان جہاں طالبان کی حکومت آ چکی تھی بھجوا دےا گےا ۔ملک مےں فرقہ وارےت ،دہشت گردی اور مذہبی شدت پسندی کی آگ جےسے جو بےج بو دئےے گئے تھے اب وہ مکمل درخت بن گئے تھے ۔پھر جنرل مشرف نے جمہورےت کا دھڑن تختہ کر دےا ۔نائن الےون کا واقعہ ہوا ۔ہم اےک بار پھر امرےکہ کی جنگ کےلئے تےار تھے ۔اب ہم افغان طالبان کے خلاف کھڑے تھے ۔اےک ڈکٹےٹر نے اپنے مفاد کی خاطر جن جہادےوں کو بناےا تھا ،دوسرا ڈکٹےٹر اپنے مفاد کی خاطر انہےں مار رہا تھا ۔پھر اچھے برے طالبان کی تمےز بڑھنے لگی اور پوری کی پوری افغان جنگ پاکستان منتقل ہو گئی ۔ہم نے 80ہزار پاکستانےوں کی قربانےاں دےنے کے ساتھ ساتھ ملک کے تمام ادارے تباہ کر دئےے ،معےشت کھڈے لائن لگا دی ،ہم بھےک منگے بن گئے ،آئے روز خودکش دھماکے ہونے لگے ۔حےرت ہے کہ آج بھی جنرل پروےز مشرف کے نام لےوا ان کے قصےدے پڑھتے نظر آتے ہےں اسی طرح جنرل ضےاءالحق کی اسلام کےلئے خدمات پر روشنی ڈالنے والوں کی بھی کمی نہےں ۔اب جبکہ دہشت گردی کی تازہ لہر نے اےک بار پھر پاکستان کی کمر توڑ دی ہے تو ہمارے سےکورٹی ادارے اس نتےجے پر پہنچے ہےں کہ ان کاروائےوں کے تانے بانے افغانستان سے مل رہے ہےں ۔ہم نے افغان بارڈر سےل کر دےا ہے اور منعقدہ اےکشن پلان کی اپےکس کمےٹی کے اجلاس مےں دہشت گردی سے پوری طاقت کے ساتھ نمٹنے کا فےصلہ کےا ہے کہ غےر ملکی رہائش پذےر پاکستان چھوڑ جائےں ۔کراچی سے لےکر پشاور تک پاکستان کا کوئی شہر اےسا نہےں جہاں افغان مہاجرےن کام نہ کر رہے ہوں ۔پاکستان غےر ملکی پناہ گزےنوں کی مےزبانی کرنے والے دنےا کے بڑے ممالک مےں سے اےک ہے ۔ےہاں رہنے والے افغان شہرےوں کی تعداد 40لاکھ تک پہنچ چکی تھی ۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزےن کے جون 2023ءتک کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان مےں رہائش پذےر افغان شہرےوں کی کل تعداد مےں سے صرف تےرہ لاکھ تےس ہزار رجسٹرڈ ہےں باقی اندراج کے بغےر رہائش پذےر ہےں ۔افغان مہاجرےن ملک کی بڑی مارکےٹوں مےں کام کرتے نظر آتے ہےں ۔فروری مےں شائع ہونے والی بلومبرگ کی رپورٹ مےں انکشاف کےا گےا تھا کہ پاکستان سے روزانہ ڈالرز افغانستان سمگل ہو رہے ہےں ۔50لاکھ ڈالرز ےومےہ افغان تاجر پاکستان سے سمگل کر رہے ہےں ۔ےہ غےر رجسٹرڈ غےر قانونی مہاجرےن معےشت پر بوجھ ہونے کے ساتھ سےکورٹی رسک بھی ہےں کےونکہ حالےہ دہشت گردی کے واقعات مےں افغان باشندے ہی ملوث پائے گئے ہےں ۔پاکستان مےں افغانستان سے آنے والے مہاجرےن نے خےبر پی کے اور بلوچستان سے نکل کر پنجاب اور سندھ مےں بھی بڑے پےمانے پر سکونت اختےار کر رکھی ہے اور کاروبار کر رہے ہےں ۔لاہور اور کراچی کی کئی مارکےٹوں مےں ان کا قبضہ ہے اور وہاں مقامی ےا ان علاقوں مےں رہنے والوں کا کوئی کاروبار نہےں ۔اےران مےں بھی افغان پناہ گزےن گئے ،لاکھوں کی تعادا مےں گئے مگر اےران نے انہےں کےمپوں سے باہر نہ نکلنے دےا ۔ہمارے فےصلہ سازوں نے انہےں پورے ملک مےں پھےلا دےا ،انہےں حساس اداروں مےں ملازم رکھا ،انہےں سمگلنگ کرنے مےں آزاد رکھا ۔انہی غلط فےصلوں کا نتےجہ آج ہم بھگت رہے ہےں اور نہ جانے کب تک ےہ سلسلہ چلتا رہتا ہے ےقےن سے کچھ نہےں کہا جا سکتا ۔اگر ہمارے فےصلہ ساز افغان جنگ سے دور رہتے اور امرےکہ کے اتحادی نہ بنتے تو حالات ےکسر مختلف ہوتے ۔
غلط فےصلے اور ان کے نتائج

